ریلیوں میں قدرِ مشترک

ریلیوں میں قدرِ مشترک
 ریلیوں میں قدرِ مشترک

  


نواز شریف جی ٹی روڈ پر رواں دواں ہیں، گرمی اور حبس کے باوجود سڑک کے دونوں کناروں پر کارکن ان کے استقبال کے لئے کھڑے نظر آتے ہیں ایک بات جو مَیں نے نوٹ کی وہ یہ ہے کہ ان کی ریلی کے ساتھ خواتین کی تعداد بہت کم ہے اور نوجوان بھی بھنگڑے ڈالتے کم نظر آتے ہیں،البتہ چالیس سے پچاس سال کے لوگ بہت نمایاں نظر آتے ہیں میرے خیال میں کسی بھی معاملے میں بہتر سوچنے کی صلاحیت ہی چالیس سے اوپر کے لوگوں میں ہوتی ہے اور نواز شریف کو فی الحال ایسے ہی کراؤڈ کی ضرورت ہے جو ان کے سوال کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے کہ آخر ان کا لیڈر نواز شریف انہیں بتانے کیا آیا ہے۔

سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر نواز شریف چاہتے کیا ہیں؟میرے خیال میں نواز شریف جو چاہتے تھے وہ اسے حاصل کر چکے ہیں اور انہوں نے اپنے کارکنوں اور پاکستان کے عوام کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ نواز شریف کرپٹ نہیں ہے اور عدالت نے بھی انہیں کرپٹ نہیں کہا۔۔۔کرپشن کے حوالے سے ان پر لگائے جانے والے سب الزام غلط ہیں اور یہ الزام بھی غلط ہے کہ انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے اگر دیکھا جائے تو نواز شریف نے اپنے اوپر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کا داغ دھو ڈالا ہے اوران کے کارکن مطمئن ہیں کہ ان کے لیڈر پر کرپشن کا ایک روپیہ کھانے کا بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ البتہ ’’اقامہ‘‘ کے حوالے سے انہیں نااہل کیا گیا ہے یہ اقامہ کیا ہے؟

اس حوالے سے بھی نواز شریف کے پارٹی رہنماؤں نے فیصلے کے آرڈر کی کاپیاں فوٹو سٹیٹ کروا کے جگہ جگہ تقسیم کرا دی ہیں تاکہ عوام خود پڑھ لیں مخالفین بوکھلاہٹ میں یہ تک کہہ رہے ہیں فیصلے کی کاپیاں تقسیم کرنا تو ہین عدالت ہے۔۔۔ مخالفین کا اصرار ہے کہ نواز شریف عدلیہ کی توہین کر رہے ہیں اور بار بار کر رہے ہیں۔یہاں سوال یہ ہے کہ اگر بقول ان کے نواز شریف عدالت کی توہین کر رہے ہیں تو پھر پی پی پی کے اعتزاز احسن اور تحریک انصاف کے بابر اعوان عدلیہ سے کیوں رجوع نہیں کرتے؟ان کی قانونی مہارت کس وقت کے لئے محفوظ ہے؟

وہ نواز شریف کی زبان بندی کرانے کے لئے ان کے خلاف اعلیٰ عدالت سے ’’حکم‘‘ کیوں نہیں لیتے؟

اور پھر سوال یہ ہے کہ اگر عدالت کے احترام کے حوالے سے کوئی قدم اُٹھانا ہے تو پھر سب سے پہلے تو ان دونوں قانون دانوں کو اپنی وکلاء برادری کے خلاف آواز اٹھانا چاہئے،کیونکہ پاکستان کے عوام روزانہ سنتے ہیں کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں سیشن جج،ایڈیشنل سیشن جج اور سول جج کی نہ صرف زبانی کلامی بلکہ باقاعدہ ’’ہاتھوں‘‘ کے ساتھ توہین کی جاتی ہے اور بعض اوقات تو جج کو کورٹ کے اندر بند کر کے باہر سے تالہ لگا دیا جاتا ہے اور جج کئی کئی گھنٹے اپنی ہی عدالت میں ’’قید‘‘ کر دیئے جاتے ہیں،اب سوال یہ ہے کہ قانون کو سمجھنے والوں کو انصاف دلانے والے اگر ’’ڈنڈے‘‘ کے زور پر انصاف مانگ کے بھی قانون کے رکھوالے ہیں اور ان کے یہ سب حربے عدالت کے احترام میں اضافہ کرتے ہیں تو نواز شریف نے اگر یہ سوال اُٹھایا ہے کہ انہیں ایک ایسے جرم میں نااہل قرار دے دیا گیا ہے جو انہوں نے کیا ہی نہیں،تو پھر یہ توہین عدالت کیسے ہو گئی؟

مَیں جب یہ کالم لکھ رہا ہوں تو نواز شریف اِس وقت جہلم کے ایک ہوٹل میں موجود ہیں اور نیوز چینلز کے ذریعے بتایا جا رہا ہے کہ وہ ابھی تھوڑی دیر تک ناشتہ کرنے کے بعد اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کریں گے۔

نواز شریف کا پنڈی سے لاہور تک کا سفر بھی خاصا دلچسپ ہے،مگر اتفاق سے اس سفر اور عمران خان کے جی ٹی روڈ کے سفر میں ایک ’’مماثلت‘‘ پیدا ہو گئی ہے آپ کو یاد ہو گا جب عمران خان نے پہلی بار اسلام آباد دھرنا دینے کا پروگرام بنایا تو جب وہ گوجرانوالہ پہنچے تو نامعلوم افراد نے ان کی ریلی پر حملہ کر دیا اور عمران خان دیگر قیادت کے ساتھ کچھ دیر کے لئے کنٹینر کے اندر چلے گئے، اِس دوران جاوید ہاشمی جو اس وقت عمران خان کے ساتھ تھے ایک کھلی جیپ میں باہر نکلے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے فائرنگ کرنے والوں کو للکارتے ہوئے کہا، گولیاں مارنی ہیں تو میری چھاتی پر مارو، میرے کارکنوں کے ساتھ بدمعاشی نہ کرو۔یہ منظر ٹی وی سکرین پر بھی بار بار دکھایا گیا۔۔۔مگر ساتھ ہی ایک اور منظر بھی دکھایا گیا۔۔۔ کہ عمران خان،جہانگیر ترین،شاہ محمود قریشی ایک گاڑی میں جلدی میں سوار ہوئے اور شیخ رشید ابھی آدھے گاڑی کے اندر اور آدھے باہر تھے کہ ڈرائیور نے گاڑی چلا دی۔۔۔ اور پھر عمران خان نے پہلی بریک ’’بنی گالہ‘‘ جا کے لگائی۔۔۔ ان کے کارکن کئی گھنٹے تک گوجرانوالہ میں پھنسے رہے اور کنٹینر بھی وہیں کھڑا رہا۔۔۔ یہی صورتِ حال آج نواز شریف کی ریلی کو بھی دیکھنے کو ملی۔۔۔ وہ جب پنڈی سے نکلے تو اچانک ان کی گاڑی کی رفتار بڑھا دی گئی اور ایسا لگتا تھا کہ وہ لاہور جا کے ہی بریک لگائیں گے۔نواز شریف کے اس طرح تیز رفتار سفر پر بہت تبصرے سنائی دیئے۔۔۔ اور خیال ظاہر کیا گیا کہ وہ لاہور سے پہلے رکنے والے نہیں،مگر وہ جہلم سے پہلے کچھ مقامات پر تھوڑی دیر کے لئے رکے اور پھر جہلم پہنچ گئے جہاں انہیں عوام کے سمندر کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔انہوں نے یہاں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ ناانصافی نہیں ہوئی۔۔۔بلکہ آپ لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔لہٰذا ہمیں اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنی ہو گی۔۔۔ اور آپ لوگوں کو میرا ساتھ دینا ہو گا۔۔۔یہ مماثلت کا قصہ جو مَیں نے آپ کو سنایا ہے،یہی قصہ جب گزشتہ رات مَیں نے فیس بُک پر پوسٹ کیا تو بعض احباب نے اسے بے بنیاد قرار دے دیا اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔۔۔اس حوالے سے مَیں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اگر نیوز چینلز کے ساتھ رابطہ کریں تو اس موقعے کی ’’ویڈیو‘‘ دیکھی جا سکتی ہے۔سو مجھے امید ہے کہ اس وقت جو چند چینل ’’اے‘‘ ’’ب‘‘ ’’س‘‘ پوری ’’ایمانداری‘‘ کے ساتھ نواز شریف کے جی ٹی روڈ کے حوالے سے لوگوں کی تعداد کے بارے میں کوریج کر رہے ہیں۔ ان میں سے اگر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اس واقعے کو اپنے پروگرام کا حصہ بنائیں تو مجھے یقین ہے کہ ان کے چینل کی کچھ نہ کچھ ساکھ بہتر ہو جائے گی۔۔۔البتہ تحریک انصاف کے کارکنوں کے جذبات کا مَیں ذمہ دار نہیں ہوں۔

مزید : کالم


loading...