سیاسی انتشارکی وجوہات

سیاسی انتشارکی وجوہات
 سیاسی انتشارکی وجوہات

  


70ویں یوم آزادی کے موقع پر پاکستان ایک مرتبہ پھر سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔ نواز شریف کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد میڈیا کے اکثر حلقوں میں دن رات بحث و مباحثے کے جو سلسلے چل رہے ہیں ان میں سیاسی کشیدگی کی حقیقی وجوہات کو تلاش کرنے کی بجائے، انتہائی سطحی تجزیوں اور سنسنی خیزی کے ذریعے اپنے اپنے چینلز کی ریٹنگز بڑھانے کی کوشش ہی کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا کے کئی حصے صورت حال کا درست تجزیہ کرنے کی بجائے، مکمل طور پر سیاسی فریق بن چکے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ ان حالات میں میڈیا قوم کی راہنمائی کرتے ہوئے سیاسی کشید گی کی حقیقی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کرتا۔ سیاسیات کے جدید ماہرین کے مطابق سیاست اور سیاسی اظہار دراصل سماجی رویئے کے ہی تابع ہوتے ہیں۔ سماجی شعور نے سیاسی شعور کا تعین کرنا ہوتا ہے نہ کہ سیاسی شعور نے سماجی شعور کا۔ اگر سیاسیات کا کوئی بھی طالب علم اس وقت پاکستان میں فعال تمام بڑی سیاسی جماعتوں پر ایک تحقیق کرے، ان کے پروگرام، منشور، پالیسیوں کو دیکھے تو اسے یہی رائے دینا پڑے گی کہ پاکستان میں کوئی بھی فعال اور بڑی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جس کے ہاں عوام کے سماجی شعور کو بلند کرنے کے لئے کسی بھی قسم کا پروگرام موجود ہو۔ بدقسمتی سے اس وقت صرف سیاستدان ہی نہیں، بلکہ میڈیا، سول سوسائٹی اور دیگر فعال طبقات بھی سیاسیات کی اس اہم حقیقت کو سمجھنے کے لئے تیار نظر نہیں آتے کہ کسی معاشرے میں سیاسی تبدیلی سے پہلے سماجی شعور کی سطح بلند ہونا ضروری ہوتی ہے۔ سماجی روےئے ہی سیاسی رویوں کو تشکیل دیتے ہیں اور سماجی رویوں کی تشکیل میں معاشی نظام کی اہمیت مسلمہ ہوتی ہے۔

اس اصول کو مانتے ہوئے اگر ہم پاکستان کے سیاسی انتشار، بحرانوں یا یہاں نافذ کئے گئے مارشل لاؤں کا جائزہ لیں تو کئی بنیادی حقائق ہمارے سامنے آئیں گے۔ پا کستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی اس ملک میں متوسط طبقہ نہ ہونے کے برابر تھا۔1947سے پہلے ایسے علا قے جو پاکستان کا حصہ بننے جارہے تھے، ان علاقوں خاص طور پر شہری علاقوں میں جو تھوڑا بہت متوسط طبقہ موجود تھا، ان کی اکثریت ہندو اور سکھوں پر مشتمل تھی اور ہندووں اور سکھوں کی بہت بڑی اکثریت آزادی کے وقت بھارت جابسی۔ جس سے پاکستان میں متوسط طبقہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔ دوسری طرف حکمران طبقے کی واضح اکثر یت کا تعلق جاگیر داروں یا ایسی دیہی اشرافیہ پر مشتمل تھا جس کے لئے کسی بھی قسم کی معاشی یا سیاسی اصلاحات کرنا، اس لئے ممکن نہیں تھا، کیونکہ ایسی اصلاحات کی صورت میں سب سے پہلے اسی طبقے کی سیاسی اور معاشی مفادات پر ضرب پڑتی، جو اس جاگیر طبقے کے لئے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں تھا۔ یہی وہ بنیادی تضاد تھا جس نے پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک قومی جمہوری ریاست (جس میں ہر ریاستی ادارے کو اس کی حدود اور اختیارات کا ادراک ہوتا) بننے سے بھی روکا، کیونکہ دنیا بھر میں جہاں کہیں پر بھی جدید قومی جمہوری ریاست کو تشکیل دیا گیا تو اس میں جاگیرداروں اور ان کے ہمنوا رجعتی طبقات کی معاشی اور خاص طور پر سیاسی قوت کا خاتمہ کیا گیا۔ مغرب کی مثال دینا تو خیر بہت آگے کی بات ہے، اگر ہم ایسے مشرقی معاشروں کی ہی مثالوں کو دیکھیں جنہوں نے جدید قومی جمہوری ریاستوں کو تشکیل دیا تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ایسے معاشروں میں جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا گیا۔

ہمارے پڑوس میں بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست مانا جاتا ہے۔ بھارتی جمہوریت میں کئی خرابیاں ہوں گی، مگر یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے جاگیر داری نظام کا خاتمہ کیا۔ آج وہاں کی سیاست میں پاکستان کے مقابلے میں متوسط طبقہ بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔خود بھارت کا موجودہ وزیر اعظم مودی بے شک کارپوریٹ سیکٹر کی معاشی امداد سے ہی برسر اقتدار آیا ہو، مگر وہ آج بھی اس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ ایک معمولی چائے بیچنے والے کا بیٹا ہے اور خود بھی چائے بنا کر فروخت کرتا رہا ہے، مگر جاگیر داری نظام ہونے کے باعث پاکستان کے حکمران طبقات اپنی دولت کی زیا دہ سے زیادہ نمائش کرکے عوام کو یہ جتلاتے ہیں کہ وہ ان سے زیادہ امیر و کبیرہیں۔ قومی جمہو ری ریاست کے تقاضے پورے نہ ہونے کے ہی باعث پاکستان پر چار مرتبہ مارشل لا نافذ ہوئے اورپاکستان ایک قومی ریاست نہ بن پایا۔ اس لئے یہاں ریاستی اداروں کے اختیارات کا صحیح معنوں میں تعین ہی نہ ہو پایا۔ ہر ریاستی ادارہ اپنے کو دوسروں سے بالادست سمجھنے کی دھن میں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج70سال بعد بھی ہمارے ہاں یہ بحث چل رہی ہے کہ کونسا سیاسی نظام ہمارے لئے بہتر رہے گا۔ سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سیاست خواہشات سے زیا دہ معروضی حالات یا چند بنیادی حقائق کی صورت میں ہی اپنے راستوں کا تعین کرتی ہے۔ پاکستان بھی چونکہ کسی خلا میں نہیں، بلکہ اسی دنیا میں آباد ایک ملک ہے، اس لئے پاکستانی سیاست بھی بنیادی طور پر معروضی حالات اور چند حقائق کے تابع ہوکر ہی اپنا راستہ بنا سکتی ہے، اگر ہم پاکستانی سیاست کے چند بنیادی حقائق کا جائزہ لیں تو سب سے اہم اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا وجود ہی سراسر جمہوریت کی دین ہے، دوسرے الفاظ میں جمہوریت پاکستان کی ماں ہے۔

پاکستان کسی فرد واحد یا گوریلا جنگ یالانگ مارچ یا انقلابی تحریک یا کسی فوجی جنگ سے نہیں، بلکہ خالصتاً ایک سیاسی عمل کے باعث وجود میں آیا۔ یہ ایک ایسی بنیادی صداقت ہے جس کا ادراک ہر فوجی حکمران کو بھی کرنا پڑا، اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی مارشل لاء کا نفاذ ہوا تو ہر فوجی حکمران کو اپنے اقتدار کو تسلسل دینے کے لئے بالآخر سیاستدانوں پر ہی تکیہ کرنا پڑا۔ یہاں یہ بحث دوسری ہے کہ سیاست دانوں کے جن طبقات پر فوجی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کے لئے انحصار کیا، وہ بنیادی طور پر رجعتی طبقات ہی تھے۔اسی حقیقت کا ایک ضمنی پہلو یہ بھی ہے کہ ہر فوجی آمر کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اعتبار سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی فوجی حکمران ہر طرح کے حربوں اور حیلوں کو اپنانے کے باوجود مصر کے آمروں کی طرح گیارہ سال سے زائد حکومت نہ کرسکا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد کہ جمہوریت ہی پاکستان کے لئے لازم و ملزوم ہے، اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستانی جمہوریت کو جاگیرداری نظام، سرمایہ داری، کرپشن، فر قہ پرستی، اقربا پروری، خاندانی و موروثی سیاست جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے، ان مسائل کے حل کے لئے انتہائی سخت طرح کی اصلاحات کی ضرورت ہے، تاہم کامیاب جمہوری ممالک کی مثالوں کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ سیاسی اور جمہوری نظام میں اصلاحات کا راستہ خود جمہوریت کے اندر رہتے ہوئے ہی نکل سکتا ہے۔ اسی طرح بدقسمتی سے پاکستان میں حکمران طبقات اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پارہے کہ سیاسی معاشیات کے اصولوں کے مطابق جب نظام پیداوار تبدیل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ، معاشرے کی ہیت ترکیبی بھی بدل جاتی ہے۔ پرانے طبقات کے ساتھ ساتھ نئے طبقات بھی جنم لیتے ہیں، یہ نئے طبقات سیاست میں بھی اپنا اظہار کرتے ہیں اور ریاست کے روایتی ڈھانچے کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں اب کافی حد تک درمیانہ طبقہ بھی پیدا ہوچکا ہے۔ جو ریاست کی جدید جمہوری تشکیل چاہتا ہے۔ چند سال قبل آزاد عدلیہ کے لئے تحریک اسی متوسط طبقے کی سیاست کا ایک اہم اظہار تھا۔

پاکستان میں اس وقت تحریک انصاف سمیت کئی اور جماعتیں جمہوری نظام کو بہتر بنانے، شفاف انتخابات،کرپشن، برادری ازم اور موروثی سیاست کے خاتمے اور متوسط طبقے کو بھی سیاست میں شامل کرنے کے جو نعرے لگا رہی ہیں، ان میں متوسط طبقے کے چند حصوں کے لئے بڑی کشش ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا ادراک پاکستان کی بڑی، روایتی اور پرانی حکمران سیاسی جماعتوں کی قیادت کو جلد سے جلد کرلینا چاہیے۔ جب معاشرے میں نئے نئے سماجی رجحانات جنم لے رہے ہوں، مگر سیاست کو روایتی انداز میں ہی چلایا جارہا ہو، اس سے ایسا تضاد جنم لیتا ہے جو اس وقت ہمیں پاکستانی سیاست میں دکھائی دے رہا ہے اور یہ تضاد اس وقت تک شدت اختیار کرتا جائے گا جب تک سیاست کو بھی مروجہ روایتی نظام سے پاک کرکے جدید بنیادوں پر منظم نہیں کیا جاتا اور کامیاب جمہوری ممالک کی مثالوں کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ سیاسی اور جمہوری نظام میں اصلاحات کا راستہ خود جمہوریت کے اندر رہتے ہوئے ہی نکل سکتا ہے اور اس کے لئے سب سے بڑی شرط یہی ہے کہ جمہوری نظام کا تسلسل جاری رہے۔

مزید : کالم


loading...