پولیس!کرائم فائٹنگ فورس یا دفاعی ادارہ ؟

پولیس!کرائم فائٹنگ فورس یا دفاعی ادارہ ؟
 پولیس!کرائم فائٹنگ فورس یا دفاعی ادارہ ؟

  


ملکی تاریخ میں پہلی بار فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے 4 اگست کو ’’یوم شہداء پولیس‘‘ منایا گیا، پولیس اگرچہ صوبائی محکمہ ہے، لیکن وسیع تر ادارہ جاتی نظم کو ظاہر کرنے کی خاطر ملک بھر میں ایک ہی روز خصوصی تقریبات کا اہتمام کرکے نئی روایت کی بنیاد رکھی گئی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرض کی راہ میں قربانیاں دینے والی پولیس فورس کو نئی شناخت عطا کی جارہی ہے، جس کے مقاصد واضح نہیں ہیں۔بلاشبہ پچھلے سترہ سال میں ابھرنے والی دہشت گردی کی لہر نے سماجی تحفظ کی پہلی فصیل یعنی پولیس فورس کو ناقابل تلافی زخم لگائے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1970 ء سے 2006 ء تک کے چھتیس برسوں میں ڈیوٹی کے دوران خیبر پختون خوا پولیس کے 275 اہلکار شہید ہوئے، لیکن 2006ء سے 2017ء کے گیارہ برسوں میں دہشت گردی کی لہر 1265جوان و افسران نگل گئی۔ دہشت گردی کی جنگ میں مسلح تنظیموں نے معاشرے کو براہ راست نشانہ بنانے کی بجائے، پولیس فورس کو ٹارگٹ کر کے ملک کی اس سول اتھارٹی کو تحلیل کرنے کی زبردست کوشش کی جس نے قانون کی عملداری کے ذریعے معاشرے کو منظم کر رکھا ہے، دہشت گردی کی جدید سائنس کا یہ مہلک ترین حربہ تھا، جس میں تشدد کے ذریعے روایتی انتظامی ڈھانچہ منہدم کر کے معاشرے کو انارکی اور کبھی نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی کی آگ میں جھونکنا مطلوب تھا، لیکن خوش قسمتی سے انگریز کی تشکیل کردہ پولیس فورس بقاء کے تقاضوں سے ناآشنا اور اپنی تخلیق کے فطری مقاصد سے ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے ایک ایسی مزاحمت پہ کمربستہ رہی، جس سے معاشرے کے تحفظ سے زیادہ خود فورس کی اپنی بقاء جڑی ہوئی تھی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پولیس کو مرنے کیلئے تشکیل نہیں دیا جاتا، بلکہ دنیا بھر کی پولیس فورس کا ماٹو ہی Survive to protect ہے۔ یعنی، دوسروں کی حفاطت کے لئے زندہ رہو، لیکن یہاں پولیس کا ماٹو بدلتا نظر آرہا ہے اور اب پولیس کے شیر جوانوں کو جانوں کی قربانیاں دینے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے، جس کے مضمرات معاشرے اور خود پولیس کے لئے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

گزشتہ سترہ برسوں میں پیش آنے والے واقعات کی ترتیب انہی خدشات کی تصدیق کرتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بوجوہ نئے بلدیاتی نظام کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ہنگام میں ڈسٹرک منجمنٹ سسٹم کی بساط لپیٹ کر پولیس فورس کو روایتی انتظامی کشن سے الگ کرکے براہ راست سوسائٹی کے سامنے صفٖ آراء کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے معاشرے اور پولیس کے درمیان تناو بڑھنے لگا، اگرچہ بظاہر چیک اینڈ بیلنس اور پولیس ومعاشرے میں توازن پیدا کرنے کیلئے کاغذوں میں پبلک سیفٹی کمشن جیسے مبہم اور غیر مانوس ادارے کو متعارف کرانے کی نوید سنائی گئی، لیکن بالادستی کے زعم میں مبتلا پولیس نے اس ایکٹ سے تمام اختیارات تو کشید کرلئے لیکن سیفٹی کمشن کی تخلیق روک کے خود ہی ان معاون اداروں کو اپنے وجود سے پرے پھینک کر خود کو انتظامی ڈھانچہ سے جدا کرکے یکا و تنہا کرلیا۔ جن کی وابستگی اسے مضبوط بناتی تھی، اس سے قبل ڈسٹرک مینجمنٹ اور مجسٹریسی نظام معاشرے کو مینج کرتا تھا اور پولیس کرائم فائٹنگ فورس کی حیثیت اپنے ڈیٹرنس کو استوار رکھتی تھی، لیکن اب کرائم فائٹنگ، ڈسٹرک منیجمنٹ اور دہشت گردی کی جنگ پولیس تنہا لڑنے کی جسارت کر رہی ہے، اس لئے پولیس کمانڈ کے لب و لہجہ میں مصنوعی خود اعتمادی اور فورس میں جنگی جارحیت کا جوش بڑھانا ناگزیر ہوگیا ہے، چنانچہ،ایلیٹ فورس اور پولیس کمانڈوز کی جنگی تربیت اور سخت کوشی معاشرے کی نازک انگلیوں کو کچلنے لگی ہے۔

ابھی تو شروعات ہیں لیکن حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ صوبہ کی جائز سول اتھارٹی، انتظامی ضرورتوں اور وسیع تر عوامی مفادات کی خاطر پولیس بارے بنائے گئے، قوانین میں ردوبدل کی طاقت کھو بیٹھی ہے، جس کی تازہ مثال، پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو کچھ اختیارات دینے کی کوشش کو پولیس کمانڈ کی سخت مزاحمت سے ناکام بنا دیا گیا اس لئے اب یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا کہ آیا پولیس کرائم فائٹنگ فورس ہے یا کوئی دفاعی ادارہ؟ کیونکہ پچھلے دو تین سال سے پولیس شہداء بارے منعقد ہونے والی تقاریب میں پولیس کمانڈ کالب و لہجہ دفاعی اداروں کی لیڈر شپ سے مماثل دکھائی دیتا ہے اور اب وہ جرائم کے قلع قمع اور سماج دشمن عناصر کی سرکوبی کی بجائے جنگ و امن اور ملک دشمن قوتوں سے نبرد آزما ہونے کی بلند آہنگ باتیں کرنے کے علاوہ اپنے ہی حقوق و فرائض کے تعین کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لیتے نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب بغیر تنخواہ کے وطن پر جان نثار کرنے والے 50 ہزار سے زاید شہریوں کا نام لیوا کوئی نہیں، جنکے یوم منائے جاتے ہیں نہ ان کے پسماندگان کو شہداء پیکج ملتا ہے، فرقہ وارانہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے نوجوان شہریوں کی قبروں36سے لپٹ کے رونے والی ماوں کی آہ و فغاں کسی کو سنائی نہیں دیتی اور نوخیز بیواؤں کی دل دوز صدائیں آسمانوں سے ٹکرا کر بے نیل و مرام واپس پلٹ آتی ہیں۔ قوم کو سرکاری پالیسیوں اور اہلکاروں کی ’’قربانیوں‘‘ کی مزیدکتنی قیمت ادا کرنا پڑے گی؟اس رجحان کو کہیں تو روکنا ہوگا، دنیا بھر کی فورسز فرائض کی بجاآوری اور شہریوں کے تحفظ کی خاطر جانیں دیتی آئی ہیں، لیکن وہ غیر محدود مرعات و اختیارت مانگتی ہیں نہ جوابداہی کے نظام سے ماورا ہونے کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں سیاستدانوں کی کم ہمتی سے فائدہ اٹھاکر جس طرح خیبرپختوں خوا پولیس نے پولیس ایکٹ2017ء منظور کرا کے خود کو محکمہ داخلہ کی نگرانی سے نکال کے ایک ایسی ساورن فورس کا روپ دھار لیا، جو کسی کو جوابدہ نہیں ہوگی اور اپنے حقوق ومرعات اور ذمہ داریوں کا تعین بھی خود کرے گی۔

یہی خطرناک رجحان پولیس جیسی سوشل فورس کو عوام کی بنیادی آزادیوں کے مقابل لا رہا ہے، جو بالآخر کسی تصادم پہ منتج ہوسکتا ہے۔ چیف سیکریٹری سمیت کسی محکمہ کا سیکریٹری 17 اور اس سے اوپر والے گریڈ کے افسرز کو تبدیل کرنے کا مجاز نہیں لیکن آئی جی پی نے گریڈ 21 کے ایڈیشنل آئی جی کو تبدیل کرنے کااختیار حاصل کرلیا ہے، حیرت انگیز امر یہ ہے کہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو یعنی وزیراعلیٰ آئی جی پی کو تعینات تو کر سکے گا، لیکن اسے ہٹا نہیں سکتا، ابھی حال ہی میں صوبائی حکومت نے نتھیاگلی میں سرکاری ریسٹ ہاؤس کو پولیس سے واگزار کرانے کی کوشش کی تو پولیس نے حکومتی احکامات ماننے کی بجائے عدالت سے حکم امتناہی حاصل کرکے سرکاری پراپرٹی سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا۔ سیشن جج کے احکامات کے باوجود ڈیرہ اسماعیل خان پولیس نے پولیس لائن روڈ کھولنے سے انکار کر دیا اور سرکٹ ہاوس روڈ سمیت کئی پبلک گارڈن پر بزور قوت قبضہ کرکے حکومتی اتھارٹی کو مضمحل کر دیا۔ صوبائی حکومت نے محکمہ انٹی کرپشن کو ڈپوٹیشن پہ آئے پولیس اہلکاروں سے نجات دلا کے فعال بنانے کی کوشش کرنا چاہی تو پولیس نے اس مثبت پیش رفت کو ناکام بنا کر حکومتی منصوبوں پہ پانی پھیر دیا،گورنمنٹ نے رولز آف بزنس کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس کی اتھارٹی اے ڈی سی کے حوالے کی تو پولیس نے اسے قبول کرنے کی بجائے دو سال ایک متوازی لائسنسنگ اتھارٹی چلا کر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کر دیا۔کیا اب پولیس ملک کے انتظامی ڈھانچے اور قانونی نظام سے ماورا ہو گئی ہے؟اگر ایسا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان خود پولیس کو اُٹھانا پڑے گا کیونکہ تمام سرکاری ادارے باہمی جڑت اور ایک مربوط انتظامی ڈھانچہ کے اندر طاقتور رہ سکتے ہیں اگر یہ سسٹم سے نکل کر اپنی الگ حیثیت بنانے کی کوشش کریں گے تو لامحدود اختیارت کے باوجود کمزور رہیں گے،ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ پولیس خود کو واپس اس قانونی نظام کے اندر لانے کی کوشش کرے گی جو اس کی طاقت کا سرچشمہ ہے، لیکن اس کے باوجود سول سسٹم کے تحت اپنے برادر اداروں کی معاونت حاصل نہیں کر پائے گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت منتخب صوبائی قیادت، سیاسی جماعتیں، صوبائی اسمبلی، دانشور اور صحافی اس ایشو پہ وسیع تناظر میں بحث شروع کریں اور عقل اجتماعی کے ذریعے ایسے منفی رجحانات کو روکنے کی تدبیر کریں۔

مزید : کالم


loading...