آبپاشی ملازمین کیخلاف سینکڑوں انکوائریاں زیر التوا،سائلین دربدر

آبپاشی ملازمین کیخلاف سینکڑوں انکوائریاں زیر التوا،سائلین دربدر

لاہور(نمائندہ پاکستان)محکمہ آبپاشی پنجاب میں سینکڑوں کی تعداد میں ملازمین کے خلاف انکوائریاں زیر التواء،درخواستیں دینے والے سائلین عرصہ دراز سے در بدرہو گئے،مشینری ڈویژن، مکینیکل سرکل ،ڈویلپمنٹ زونز سیمت دیگر شعبوں کے خلاف دی جانے والی درخواستیں افسران بالا کی توجہ کی منتظر،سینکڑوں درخواستیں زیر التواء ہونے کے باعث محکمہ اور درخواست دہندہ دونوں کا نقصان ہو رہا ہے،بعض کیسز میں آڈٹ رپورٹس کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے،درخواستوں پر عمدرآمد نہ ہونے سے کرپٹ مافیا کے حوصلے بڑھتے ہیں،ہر درخواست پر قانون کے مطابق ایکشن ہونا چاہیے طاہر رضا بخاری۔تفصیلات کے مطابق محکمہ آبپاشی پنجاب کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والی بے قاعدگیوں کے خلاف دی جانے والی سینکڑوں درخواستیں افسر شاہی کی نظر ہونے لگی ہیں اور ان پر کوئی ایکشن ہوتا نظر نہیں آتا۔ذرائع کے مطابق صرف لاہور ڈویژن میں ہی مشینری ڈویژن،مکینیکل سرکل ،ڈویلپمنٹ زونزسیمت دیگر شعبوں میں ہونے والی مالی و انتظامی بد عنوانیوں کے خلاف ہی سینکڑوں درخواستوں پر کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا اور سائلین دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک کے خود ہی بیٹھ جاتے ہیں۔جبکہ بعض کیسز میں آڈٹ رپورٹس میں کرپشن ثابت ہونے پر بھی ملوث افسران کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے انکوائری افسران کی ملی بھگت سے انہیں دبا لیا جاتا ہے جس سے نہ صرف قومی خزانہ کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ملوث افسران کے خلاف کاروائی نہ ہونے سے محکمہ کو بھی بھاری مالی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس حوالے سے پاکستان سے بات کرتے ہوئے محکمہ اریگیشن پنجاب یونین کے رہنما اور آل پاکستان ایپکا پنجاب کے جنرل سیکرٹری طاہر رضا بخاری نے کہا کہ پنجاب بھر میں محکمہ اریگیشن میں سینکڑوں درخواستیں فیصلہ کی منتظر ہیں اور ان پر قانون کے مطابق ضرور عملدرآمد ہونا چاہیے اور محکمہ اور سائلین دونوں کا وقت اور پیسہ ضائع ہونے سے بھی بچانا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ ان زیر التواء درخواستوں سے محکمانہ کارکردگی پر بھی فرق پڑتا ہے اور انہیں فوری طور پر قانون کے مطابق دیکھتے ہوئے جو بھی ایکشن بنتا ہے کر کے محکمہ اور سائل دونوں کی فلاح کا کام کرنا چاہیے۔

مزید : علاقائی


loading...