اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو،اسحاق ڈار چیئر مین شپ سے فارغ،عہدہ وزیر اعظم نے خود سنبھال لیا

اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو،اسحاق ڈار چیئر مین شپ سے فارغ،عہدہ وزیر ...
 اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو،اسحاق ڈار چیئر مین شپ سے فارغ،عہدہ وزیر اعظم نے خود سنبھال لیا

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا۔ تفصیلات کے مطابق نئی وزارتوں کی تشکیل کے بعد ایک اہم پیش رفت میں وزیراعظم نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا جس کے بعد ای سی سی کے چیئرمین اب وزیراعظم خود ہوں گے، اس سے قبل وزارت پٹرولیم بھی وزیر اعظم نے اپنے پاس ہی رکھی ہوئی تھی۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر خزانہ کو چیئرمین ای سی سی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور اب وزیر اعظم خود چیئرمین ہوں گے تاہم کسی بھی وجہ سے وز یر اعظم کی عدم موجودگی میں وزیر خزانہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔ نوٹیفکیشن کی کاپی کے مطابق ای سی سی کے ممبران میں وفاقی وزراء تجار ت و ٹیکسٹائل، مواصلات، صنعت و پیداوار، قانون و انصاف، نیشنل فوڈ سکیورٹی، ریلویز، شماریات، آبی وسائل اور نجکاری شامل ہوں گے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں ریلویز اور مواصلات کی وزارتوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ تین نئی وزارتوں شماریات، نجکاری اور آبی ذخائر کو بھی کمیٹی کا حصہ بنایا دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اہم فیصلے وزیراعظم خود اپنی نگرانی میں کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری جانب ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ چند نئی وزارتوں کے قیام کے باعث بھی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو ضروری ہوگئی تھی۔ اسحاق ڈار کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کے بعد ان کی حیثیت ایک علامتی وزیر خزانہ کی ہو کر رہ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب کیسز کی وجہ سے اسحاق ڈار سے ای سی سی کی چیئرمین شپ واپس لی گئی ہے۔ وہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک تو ہو سکتے ہیں لیکن نہ ہی سفارشات کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ای سی سی کی چیئرمین شپ وزیر اعظم کے پاس ہی ہوتی ہے تاہم سابق وزیر اعظم نواز شریف نے یہ اہم ترین عہدہ اسحاق ڈار کو دے دیا تھا۔ رپورٹس میںیہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ نواز شریف کی کابینہ میں جب شاہد خاقان عباسی وزیر پٹرولیم تھے تو اسحاق ڈار نے ایل این جی معاہدے کا فیصلہ کیا تھا جس پر شاہد خاقان عباسی خاصے برہم تھے۔ اب یہ پرانی رقابت ہے یا نیب کیسز کی وجہ سے ہی اسحاق ڈار کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

مزید : صفحہ اول


loading...