نواز شریف کو دھچکا ،اہم اتحادی فضل الرحمٰن نے ہی 62،63ختم کرنے کی مخالفت کر دی

نواز شریف کو دھچکا ،اہم اتحادی فضل الرحمٰن نے ہی 62،63ختم کرنے کی مخالفت کر دی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بحال کرانے کی کوششوں کو ایک اور دھچکا،سربراہ جمعیت علماء ا سلام مولانا فضل الرحمن نے بھی آئین سے دفعہ 62،63 کو ختم کرنے کی صورت میں حکومت کی مخالفت کا اعلان کردیا ہے ۔جمعہ کے روز پا رلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے انکا کہنا تھااگر موجودہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل62اور 63کو چھیڑ نے کی کوشش کی تو اس کی شدید مخالفت کی جائے گی، دفعہ62 ، 63 کو ختم کرنے کی کوشش ملک کو سیکولرازم کی طرف دھکیلنے کی سازش تصور کی جا ئے گی، آئین میں صادق اور امین کے حوالے سے مزید تشریح کرنے کی ضرورت ہے، آئین کے آرٹیکل 62اور 63 کو ہر صورت برقر ا ر ر ہنے چاہیے تاہم سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں، کسی بھی قانون کو اس کے غلط ا ستعمال کی وجہ سے ختم کرنا درست نہیں ، موجودہ حالات کا تقاضاہے کہ آئین کی دفعہ62اور 63 کی ایک ایک شق کی مکمل تشریح کی جا ئے کہ صادق و امین اور دینی علوم کا علم رکھنے والا کون ہے اس کی تعریف ہونی چاہئے ، اس ضمن میں جمعیت علماء اسلام بھرپور ساتھ دے گی ۔وا ضح رہے موجودہ حکومت کو قانونی ماہرین نے یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر آئین سے دفعہ62اور63کو مکمل طور پر یا اس کی متنازعہ شقوں کو ختم کیا جائے تو میاں نواز شریف کی بحالی ممکن ہوسکتی ہے جس کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مختلف سیاسی جماعتوں کیساتھ رابطے شروع کرنے کی بھی ہدایت کی تھی ،تاہم حکومت کی کوششوں کوان کے سب سے بڑے حلیف مولانا فضل الرحمن کے مخالفانہ بیان سے زیادہ دھچکا لگا ہے۔

فضل الرحمن مخالفت

مزید : صفحہ اول


loading...