بجلی کو بطور غذاء استعمال کرنیوالا شخص

بجلی کو بطور غذاء استعمال کرنیوالا شخص
 بجلی کو بطور غذاء استعمال کرنیوالا شخص

  


ممبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) انسانوں کو عام طور پر زندہ رہنے کیلئے صحتمند غذا یا کسی بھی شکل میں توانائی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بھارت میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو بجلی کو بطور غذا استعمال کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کے شمالی علاقے مظفر نگر سے تعلق رکھنے والے نریش کمار کا دعویٰ ہے کہ اسے قدرت نے ایسا نایاب تحفہ دیا ہے جو شاید دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بجلی کی ننگی تار چھونے کے باوجود اسے جھٹکا نہیں لگتا بلکہ جب وہ ننگی تاروں کو چھوتا ہے تو اس میں موجود کرنٹ اس کیلئے غذا کا کام کرتا ہے۔بیالیس سالہ نریش کمار کے مطابق اسے اپنے اندر موجود اس خوبی کا علم حادثاتی طور پر ہوا۔ ایک دن وہ معمول کے مطابق اپنے کام میں مصروف تھا کہ اچانک اس نے غلطی سے ننگی تار کو چھو لیا لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اسے کوئی جھٹکا نہیں لگا۔ نریش نے اس کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ اپنی اس پاور کو مزید جانچے گا اور اس نے جان بوجھ کر تاروں کو پکڑنا شروع کر دیا، بالآخر اسے اس بات کا یقین ہو گیا کہ اسے کرنٹ محسوس نہیں ہوتا بلکہ کرنٹ اس کیلئے غذا کا کام کرتا ہے۔نریش کمار کا دعویٰ ہے کہ جب بھی اسے بھوک محسوس ہوتی ہے اور گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تو وہ آدھے گھنٹے کیلئے تار کو پکڑ لیتا ہے اور اس کی بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ جبکہ نریش کی اہلیہ کا کہنا ہے پورے گھر میں بجلی کے کھلے تار بکھرے رہتے ہیں کیونکہ اس کے شوہر کو یہ پسند ہے تاکہ وہ جب چاہے اپنی توانائی کیلئے انہیں پکڑ سکے۔ نریش کا کہنا ہے اس کی بیوی کو یہ سب پسند نہیں تاہم خود اسے اور دوسرے لوگوں کو اس کا ایسا کرنا پسند ہے اور اس کی وجہ سے وہ مشہور بھی ہو رہا ہے۔

بجلی غذاء

مزید : صفحہ اول


loading...