نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت

نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت
 نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت

  


میں نے میاں نواز شریف کی ریلی کو دیکھا،تادم تحریر وہ راولپنڈی کے بعد جہلم اور گجرات میں خطاب کر چکے ہیں، ان کا قافلہ گوجرانوالہ پہنچ چکا ہے، میں نے جمعرات کی شب لاہور سے جی ٹی روڈ کا سفر کیا، گوجرانوالہ میں جوش و جذبہ گجرات سے بھی کئی گنا تھا، میرے لئے یہ ریلی ایک صحافت اور سیاست کے طالب علم کے طو ر پر’مطالعاتی حیثیت ‘رکھتی ہے، میں بطور خاص سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے معاشرے پر اثرات کا مطالعہ کر رہا ہوں، میری یہ رائے پختہ سے پختہ تر ہوتی چلی جا رہی ہے کہ گھر ، گھر رسائی ہونے کے باوجود یہ دونوں میڈیم اکثریتی عوام کی رائے پر اثرانداز ہونے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پیش کردہ رجحانات اگر درست ہوتے تو آج سے چار برس پہلے ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ نون کو کامیابی نہ ملتی ، ریلی بتاتی ہے کہ ان چار برسوں میں بھی کوئی فرق نہیں پڑا، یہ روایتی اور گھسا پٹا فلسفہ کہ عوام حکومت پر تنقید سننا چاہتے ہیں کافی حد تک غلط ثابت ہو اہے، عوام سچ سننا چاہتے ہیں اور سچ جاننا چاہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ایک چینل جسے حکومت کا حمایتی کہہ کر رگیدا جاتا ہے، عمران خان جس کے بائیکاٹ کی بار بار کال دیتا ہے، وہ ریٹنگ میں نمبر ون رہتا ہے۔میں اگرچند دوسرے چینلز کے نام لینا شروع کروں،ان کے مالکان، نیوز اینکرز اور تجزیہ کاروں کی خواہشات ہی نہیں بلکہ آن دی ریکارڈ جرنلزم کے مطابق بھی جی ٹی روڈ کو ویران ہونا چاہئے تھا مگر جی ٹی روڈ اپنی صدیوں کی زندگی میں عوامی شرکت کے حوالے سے تاریخی ریلی کی گواہ بن رہی ہے۔

سوشل میڈیاکے آئی کیو لیول میں بھی تیزی سے تنزلی آتی چلی جا رہی ہے، یہ کہاجائے کہ ہمیں ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے تو بھولے اسے عمران خان کی طرف موڑ دیتے ہیں، بھائی، نئے عمرانی معاہدے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ ’ انگلیاتی معاہدہ ‘کر لیا جائے جس کی بات عمران خان کرتا ہے، یہ تو ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی بات ہے، ایک نئے آئین کی بات ہے، جس میں عوام کے حق حکمرانی کو تحفظ دیا جائے، جس میں عوام کے متنخب وزیراعظم کو بددیانت اور نااہل نہ سمجھا جائے، جمہوریت کا مطلب ہے،’ عوام کی حکومت عوام کے ذریعے اور عوام کے لئے‘، دنیا کی کسی ڈکشنری اور کسی معاہدے میں جمہوریت کی تعریف’ فرشتوں کی حکومت، فرشتوں کے ذریعے اور فرشتوں کے لئے‘ بیان نہیں کی گئی، یہاں فرشتوں سے مراد کتابی دنیا کے انتہائی نیک اور پارسا بھی ہیں او روہ بھی جن کا ذکر سیاسی لغت میں جا بجا ہوتاہے۔میں نے میاں نواز شریف کی گجرات کی تقریر سنی ہے، وہ راولپنڈی سے ہی جی ٹی روڈ پر سفر کو احتجاج قرار نہیں دے رہے، سادہ سے لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ مجھے گھر بھیجا گیا ہے اور میں گھر جا رہا ہوں مگر راولپنڈی سے جہلم اور پھر گجرات تک ان کے الفاظ ، لہجے اور روئیے میں تبدیلی آ رہی ہے۔ اب انہوں نے آگے کی سیاسی حکمت عملی کے اشارے دینے شروع کر دئیے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے وعدہ لینا شروع کر دیا ہے کہ جب وہ کال دیں گے وہ باہر نکلیں گے۔ مسلم لیگ نون میں ’نون والوں‘کا موقف یہی ہے ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے، یہ سازش بین الاقوامی ہے، عمران خان ا س کا چہرہ اور مہرہ ہے، پاکستانی ادارے اس سازش کا بطور ادارہ حصہ نہیں مگر افراد بہرحال اس میں ملوث ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا میاں نواز شریف ان افراد کے نام داتا کے قدموں میں پہنچنے کے بعد بیان کریں گے کیونکہ میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ میاں نواز شریف کو نام معلوم نہیں ہوں گے۔ میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ میاں نواز شریف تصادم اور محاذ آرائی کی طرف نہیں جانا چاہتے مگر کیا دوسرے بھی اس سے گریز کریں گے، ان کی طرف سے ایک اورزوردار قسم کی ٹکر مارے جانے کے بعد یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے۔سیاست بھی ڈرائیونگ کی طرح ہی ہوتی ہے، ہر وقت چوکنا رہنا، ہر وقت درست فیصلے کرنا بہت زیادہ ضروری ہوتا ہے، یہ بہت ضروری ہے کہ آپ محتاط اور تجربہ کار ڈرائیور ہوں ، آپ تمام تر اشاروں، لائن اور لین کی پابندی کر رہے ہوں مگر آپ کی تمام تر احتیا ط اور تجربہ اس وقت دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے جب کوئی دوسرا آپ کی گاڑی میں لاکے ٹھوک دیتا ہے۔

میں نے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے اپنے تئیں سیانوں کی بات کی، کیا مجھے نہیں علم کہ ان میں سے بہت سارے لاشیں چاہتے ہیں اور میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ ختم ہونے کے باوجود چاہتے ہیں،ا س کا ایک چھوٹا سا ٹریلر لالہ موسی میں ایلیٹ فورس کی ایک گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے بچے کی کوریج اور تبصروں میں دیکھا جا سکتا ہے، ملک میں روزانہ بہت سارے حادثے ہوتے ہیں اور ان میں بہت سارے لوگ جاں بحق بھی ہوتے ہیں، میں اس حادثے کی اہمیت کو کم نہیں کر رہا اور نہ ہی اس ضرورت کی نفی کر رہاہوں کہ بچے کے جاں بحق ہونے کا علم ہونے کے باوجود اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جانا چاہئے تھا اور اس کی سانس کی ڈوری کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی جانی چاہئے تھی ، میرا سوال یہ ہے کہ جس طرح یہ لوگ پیشہ ور ماتم بازوں اور پھپھے کٹنیوں کی صورت سامنے آئے، اسے ایک حادثہ سمجھنے کی بجائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے جس طرح الیکٹرانک میڈیا پر تنقیدانہ تبصروں اور سوشل میڈیا پر پوسٹس میں استعمال کیا گیا ، کیا وہ ہر حادثے پر اسی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، اگر نہیں کرتے تومان لیا جائے کہ وہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہے تھے۔ ان کے چینلوں کی سرخ سکرینیں اور ان کے چمکتے ہوئے چہرے بتا رہے تھے کہ انہیں غم نہیں بلکہ خوشی ہوئی ہے، وہ اس ہلاکت کا جشن منا رہے تھے وہ مجھے اس گدھ کی طرح لگ رہے تھے جسے کسی نعش کی ضرورت ہوتی ہے ، جسے وہ اپنے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے نوچ سکے، بھنبھوڑ سکے ۔ اس سے پہلے میاں نواز شریف کی گاڑی کے تیزی سے سفر کرنے پر قیاس آرائیاں کی گئیں، ایک روز پہلے کہا جا رہا تھا کہ لوگ نہیں ہیں اس لئے گاڑی نے بارہ منٹ کا سفر بارہ گھنٹوں میں طے کیا اور اگلے ہی روز اپنے وہی منہ استعمال کرتے ہوئے کہا جا رہا تھا کہ لوگ نہیں ہیں اس لئے جی ٹی روڈ پر ایک سو کلومیٹر کی سپیڈ سے گاڑی دوڑائی گئی۔

بات ایک نئے عمرانی معاہدے کی ہے جس میں ووٹ کے احترام کو یقینی بنایا جائے، جس میں وزیراعظم کے عہدے کو پارلیمانی مدت کے دوران تحفظ حاصل ہو اور اسے تحریک عدم اعتماد کے سوا کسی بھی دوسرے طریقے اور راستے سے ہٹایا نہ جا سکے۔ اگر کسی وزیراعظم پر کوئی مقدمہ چلانابھی ہو تواس کا فیصلہ اس کی پارلیمانی مدت پوری ہونے تک محفوظ کر لیا جائے اور اگر کسی قسم کی سزا درکار ہو تو اس کا نفاذ عہدے کی مدت کی تکمیل کے بعد ہو۔ جس طرح پارلیمنٹ کے ارکان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ججوں، جرنیلوں ، جرنلسٹوں اور بیوروکریٹوں کو ان کے عہدوں سے ہٹا سکیں ،ان پر کرپشن کے الزامات لگا کے اپنے سامنے کھڑے کر سکیں، اسی طرح پاکستان کے سب سے بڑے اور مقدس ادارے کے ارکان کو بھی تحفظ حاصل ہونا چاہئے، جب سرکار کے ماتحت اداروں میں احتساب کا داخلی اور اندرونی نظام کام کر سکتا ہے تودوسروں کو سرکار کو جوتے مارنے کا اختیار کیوں حاصل ہے، یہ داخلی نظام پارلیمنٹ کے لئے کیوں نہیں لایا جا سکتا۔ میں نہیں جانتا کہ سینٹ میں ملک کے باقی مقتدر اداروں کو جس بات چیت کی دعوت دی جا رہی ہے کیا وہ بات چیت ہو بھی پائے گی اور اگر ہو پائے گی تو ا س کا نتیجہ کیا نکلے گا مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور خود مختاری کا سوال سامنے لاتے ہی بہت ساری کٹھ پتلیاں شور مچانا شروع کر دیں گی، وہ بتائیں گی کہ ماضی میں’ اٹھاون ٹو بی‘ ایک ’سیکورٹی والوو‘ کے طور پر موجود رہی ہے مگر اب ان سے یہ سوال پوچھے جانے کا وقت بھی آ گیا ہے کہ آپ کو یہ’ سیکورٹی والوو‘ پارلیمنٹ میں ہی کیوں درکار ہے، باقی اداروں میں کیوں نہیں۔میں نے میاں نواز شریف کی گجرات کی تقریر سنی ہے،سورج غروب ہو چکا ہے، میاں نواز شریف کا قافلہ گوجرانوالہ پہنچ چکا ہے، مسلم لیگ اس ملک کی خالق جماعت ہے او رعوام کی اکثریت اس سے وابستہ ہے، میں جانتا ہوں کہ پاکستان بنانے والی جماعت کے پاس ہی یہ اہلیت ہے کہ وہ ایک نئے جمہوری اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر کر سکے۔

مزید : کالم


loading...