سندھ ایپکس کمیٹی کا اجلاس، کچے میں آپریشن اور 270خطرناک قیدیوں کو کراچی سے دیگر جیلوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ

سندھ ایپکس کمیٹی کا اجلاس، کچے میں آپریشن اور 270خطرناک قیدیوں کو کراچی سے ...

کراچی (این این آئی) ایپکس کمیٹی نے اپنے بیسویں اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ 270قیدیوں بشمول 19 بہت زیادہ خطرناک قیدیوں کو سینٹرل جیل کراچی سے صوبے کی مختلف جیلوں میں منتقل کرتے ہوئے انہیں ہائی سیکورٹی قیدی ڈکلیئر کیا ہے۔اجلاس کی صدارت وزیر اعلی سندھ سید مرادعلی شاہ نے کی ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال ،کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا ،چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن، ڈی جی رینجر میجر جنرل محمد سعید ، صوبائی سیکریٹری داخلہ و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں واضح کیاگیا کہ کراچی سینٹرل جیل میں 270خطرناک قیدی ہیں ان میں سے 19بہت زیادہ خطرناک ہیں اور یہ مختلف طریقوں سے اپنا نیٹ ورک چلارہے ہیں۔اس صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ انہیں آئندہ 10دنوں میں صوبے کی دیگر جیلوں میں منتقل کردیاجائے۔وزیر اعلی سندھ نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مقدمات ملٹری کورٹس کو بھیجیں۔ اس مقصد کے لیے محکمہ قانون اور داخلہ اپنے مقدمات کی جانچ پڑتال اور جائزہ لینے کے بعد ضروری کاغذات کے ساتھ انہیں ملٹری کورٹس کو بھجیں۔ اجلاس میں صوبے میں مدارس میں ہونے والے اضافے پر بھی غور کیا گیا۔ واضح رہے کہ تقریبا ایک ہزار مدارس غیر قانونی طورپر سرکاری زمینوں پر واقع ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ ان ایک ہزار مدارس کے کاغذات /این او سیز وغیرہ کی چھان بین کی جائے گی اور کسی بھی مدرسے کو مین آرٹیری /سٹرک پر تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور آئی کہ گذشتہ 3سے 4سالوں کے دوران 60 مدارس تھر پارکر میں قائم کئے گئے جبکہ علاقے کے آبادی کی اکثریت ہندوؤں کی ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تھر میں یہ مدارس کیوں قائم جارہے ہیں اور یہ ایک سوال طلب معاملہ ہے اور اس حوالے سے خدشات بھی موجود ہیں لہذا یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ محکمہ داخلہ غیر قانونی طورپر تعمیر کئے گئے مدارس کی تحقیقات کرے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گھوٹکی میں 3مدرسے ہیں جنہیں سرکاری زمین پر غیر قانونی طورپر قائم کرنے پر نوٹس دیئے گئے ہیں۔ اپیکس کمیٹی میں کالعدم تنظیموں جو کہ نئے ناموں کے ساتھ کام کررہی ہیں پر بھی غورکیاگیا اور یہ فیصلہ کیاگیا کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں، پولیس اور رینجرز ایسے کیسز کی تحقیقات اور ضروری کارروائی کرے گی۔ اجلاس میں بڑھتے ہوئے سائبر کرائم کے کیسز پر بھی غور کیاگیا اور یہ فیصلہ کیاگیا کہ سائبر کیسز کی تحقیقات اور رجسٹر کرنے کے حوالے سے وفاقی حکومت /ایف آئی اے سے اختیارات طلب کیے جائیں ۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ صوبائی پولیس سیٹ اپ کو صرف شیڈول کیسز کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے ایسے کیسز میں بھی کام کرنے کی مہارت کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ سائبر کرائم ڈیٹیکشن سسٹم میں سرمایہ کاری کی جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دہشتگردوں کا ڈیٹا جمع کیاجارہا ہے۔سندھ پولیس ،پنجاب پولیس کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے اور مجرموں کا ریکارڈ کی شیئرنگ اور ترتیب دیاجارہاہے۔ واضح رہے کہ اس بات کا فیصلہ اٹھارویں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کیاگیا تھا ۔ اجلاس میں پولیس اہلکاروں کے حالیہ بڑھتے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر بھی غور کیاگیا۔ یہ ایک بہت سنگین معاملہ ہے اور آئے دن اس حوالے سے خبریں آتی رہتی ہیں۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ یہ لازمی طورپر بند ہونا چاہیے اور اس پر بہتر طریقیسے کام کیاجائے۔ اس پر اجلاس کو ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس نے بتایا کہ وہ پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث گینگ کو ختم کرنے کے بہت قریب ہیں۔ اجلاس میں کچے کے علاقے میں مجرموں کے آپریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کے لیے وزیر اعلی سندھ پہلے ہی منظوری دے چکے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ اس حوالے سے فضائی سپورٹ ،اضافی فورس جو کہ پولیس رینجرز اور آرمڈ فورسز کے اہلکاروں پر مشتمل ہوگی مدد لی جائے۔اس حوالے سے آپریشن کو ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس حتمی شکل دیں گے۔ اجلاس میں مقبروں کی سیکوریٹی کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حضرت لعل شہباز قلندر اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مقبروں کو مطلوبہ پولیس فورس کی تعیناتی اور واک تھرو گیٹس اور سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کرکے محفوظ بنایا گیا ہے۔ دیگر مقبروں میں سیکورٹی کو بہتر بنانے کا عمل جاری ہے ۔اجلاس میں شہر میں اسٹریٹ کرائمز پر بھی غورکیاگیا اور وزیرا علی سندھ نے کہا کہ اسٹریٹ کرمنلز کا لازمی طورپر خاتمہ ہونا چاہیے اور انہوں نے اے جی سندھ کو ہدایت کی کہ وہ اسٹریٹ کرمنلز کے مقدمات کے حوالے سے چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ کے ساتھ بات کریں۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان کے کیسز بھی انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کے تحت خصوصی عدالتوں میں چلنے چاہئیں لہذا اے جی سندھ کو یہ ٹاسک دیاگیا کہ وہ اس حوالے سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے بات کریں۔ ڈی جی ریجرز نے اجلاس کو بتایا کہ انہوں نے 450اسٹریٹ کرمنلز کو پولیس کے حوالے کیا اور پولیس نے بھی ایک بڑی تعدادمیں اسٹریٹ کرمنلز کو گرفتارکیاہے۔ وزیرا علی سندھ نے آئی جی سندھ سے کہا کہ یہ ایک سیریئس ایشو ہے لہذا اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ اجلاس میں کاروں، موٹرسائیکلوں میں سمیں لگانے اور موبائل فون میں ٹریکنگ سسٹم کی ایکٹیویشن کے حوالے سے اقدامات پر غورکیاگیا۔صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے مینوفیکچرز کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کئے ہیں اور چند نے اس حوالے سے آمادگی بھی ظاہر کی ہے مگر ابھی بھی انہیں قائل کرنے کے حوالے سے کچھ وقت درکار ہے اورجہاں تک موبائل کا فون تعلق ہے تو اس میں سسٹم موجودہے جس کے ذریعے انہیں بلاک اور تلاش کیا جاسکتاہے۔اجلاس میں لینڈ گریبنگ کے معاملے پر غور کیاگیا اور کہا گیا کہ یہ شہر میں ایک منظم جرم ہے۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ سرکاری اور نجی املاک کو تحفظ فراہم کریں اور اگر ایک زمین کے کئی دعوے دار یا متعدد کاغذات سامنے آجائیں تو ان کی بورڈ آف ریونیو کے آٹو میشن برانچ سے اس کی تصدیق کرلی جائے۔اجلاس میں 10مزید کیسز بشمول امجد صابری ملٹری کورٹس کو بھیجنے کی منظوری دی گئی ۔ ان 10کیسوں میں عاصم کیپری،اسحاق بوبی ، سمیع اللہ اور دیگر گروپس نامزد ہیں۔واضح رہے کہ سندھ حکومت نے 90کیسز ملٹری کورٹ کو بھیجے ہیں جس میں سے 37کیسزملٹری کورٹ میں چل رہے ہیں،جن میں 21 مقدمات میں سز ا ہوچکی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت کی سفارشات پر وزارتِ داخلہ نے 69تنظیموں کو شیڈول ون میں رکھا ہے ۔ صوبائی حکومت نے 573افراد کو شیڈول 4 میں رکھا ہے۔وزیرا علی سندھ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ 4شیڈول پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیے۔ 4شیڈولرز کو چاہیے کہ وہ قانون پر عمل کریں جس کے لیے پولیس اسٹیشنز کو ہدایت جاری کردی گئی ہیں ۔اجلاس کو بتایا گیاکہ 7095افغان پناہ گزیروں کو واپس بھیجا گیا ہے ۔ 3135غیر قانونی افغانیوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں ،5073غیر قانونی طورپر مقیم افغانیوں کو گرفتار کیاگیا ہے اور 888افغانیوں کو ڈی پوٹ کیا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...