میاں نواز شریف کا قافلہ لاہور رواں دواں

میاں نواز شریف کا قافلہ لاہور رواں دواں
میاں نواز شریف کا قافلہ لاہور رواں دواں

  


معزز ججوں نے تسلیم کیا کہ کرپشن نہیں کی پھر کیوں نکالا کیوں نکالا کیوں نکالا جی ہاں یہ سوال سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جہلم شہر میں انسانی سمندر کے سامنے اٹھایا جی ہاں میاں نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ بیس کروڑ عوام ووٹ دیتے ہیں اور پانچ جج ایک منٹ میں فارغ کر دیتے ہیں یہ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے مجھے اس طرح نکالنے والے اللہ کو کیا جواب دینگے ستر سال سے قائم روایت کو ختم کر دینگے جی ہاں سابق وزیر اعظم جو کہ نا اہلی کے بعد بڑی شان و شوکت دھوم دھام سے قافلے کی شکل میں لاہور کے لئے روانہ ہو چکے ہیں اورجی ٹی روڈ پر سفر کر رہے ہیں جبکہ نواز شریف کے چاہنے والے نواز شریف کے متوالے بھی شریک سفر بن رہے ہیں جی ہاں دو دن گزرنے کے باوجود میاں نواز شریف کا قافلہ لاہور نہیں پہنچ سکا جی ہاں اور اسکی وجہ جناب نواز شریف کا بے پناہ عوامی پیار ہے جی ہاں اسی لئے تو کسی نے کیا خوب کہا ہے :

میں اکیلاہی چلا تھا جانبِ منزل

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

جی ہاں میاں نواز شریف بھی جو ہیں وہ اپنی گاڑی میں پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے تو عوام کا ایک سمندر انکے ساتھ ملتا گیا اور قافلہ بنتا گیا تاہم میاں نواز شریف جو لاہور پہنچ رہے ہیں اُن کے استقبال کے لئے جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔ جہاں اپنے قائد کا بھرپور استقبال کرنے کے لئے کارکن موجود ہیں تاہم میاں نواز شریف نے شہر شہر اپنے استقبال کے لئے آنے والے کارکنوں کو گرمانے کے لیے شہر شہر خطاب کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہواہے اور اپنے خطابات میں میاں نواز شریف نے اپنے دل کا غبار نکالا تاہم جناب نواز شریف کا یہ سوال بھی جائز ہے کہ کہ۔۔۔ منتخب عوامی وزیر اعظم کو پانچ ججوں نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اقتدار سے باہر نکال پھینکا

جی ہاں بات تو ٹھیک ہے کہ منتخب اور عوامی وزیر اعظم کو تختہ اقتدار سے اس طرح باہر نکا ل پھینک دیا گیا جس طرح مکھن سے بال کو نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے ،جی ہاں یہ بھی قسمت کی ستم ظریفی ہی سمجھیں کہ کہ ،،،،،، جناب میاں نواز شریف تین دفعہ ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور شومئی قسمت تین دفعہ ہی اپنی مدت اقتدار پوری نہ کر سکے

میاں نواز شریف کو اس بات پر نااہل کر دیا گیا کہ انھوں نے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ وصول نہ کرنے کے متعلق نہیں بتایا ۔ اور اسی بات کو بنیاد بنا کے جناب میاں نواز شریف کو نااہلی کا تحفہ پیش کیا گیا ، تاہم میاں نواز شریف کے نااہل ہونے پر عوام بھی حیرت میں مبتلا ہیں کہ کہ راتوں رات کیا ہو گیا ، جی ہاں راتوں رات ہی جناب نواز شریف کی حکومت پر اسی طرح سے شب خون مارا گیا جس طرح سے ماضی میں جناب مشرف نے میاں نواز شریف کو حکومت سے فارغ کیا تھا ، تاہم اب تو کہا جا رہا تھا کہ جناب نواز شریف جو تیسری دفعہ وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں انہیں تیسری دفعہ بھی سازشیوں نے سازش کر کے اقتدار سے محروم کر دیا ، تاہم نا اہلی کے بعد جناب میاں نواز شریف نے براستہ جی ٹی روڈ لاہور آنے کا پروگرام بنایا اور پروگرام کے تحت اسلام آباد سے روانہ ہوئے جی ہاں میاں نواز شریف کو اسلام آباد سے لاہور کی طرف روانہ ہوئے دو دن ہونے کو ہیں لیکن لاہور ہے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا ، دنیا نے دیکھا کہ نواز شریف جو ہیں اس قدر عوام میں مقبول ہیں کہ انکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لوگ دیوانہ وار سڑکوں پر جمع ہو گئے جس وجہ سے چند گھنٹوں کا سفر دنوں تک پھیل گیا ،

بہرحال جناب نواز شریف کے اس طرح سے جی ٹی روڈ پر نکل جانے سے اپوزیشن کی صفوں میں ہلچل مچ چکی ہے اور اپوزیشن جماعتیں نواز شریف کے اس طرح سے جی ٹی روڈ پر سفر کرنے سے اور عوامی مقبولیت سے خائف نظر آتی ہیں بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ جناب نواز شریف کے قافلے سے سیاسی صورتحال کس نہج پر ہو گی اور نواز شریف کے اس طرح سے لاہور جی ٹی روڈ سفر کرنے کے کیا خاظر خواہ اور دور رس نتائج حاصل ہونگے یہ بات بھی آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے تو بہر حال دیکھتے ہیں کہ جناب نواز شریف کا سیاسی اونٹ اب کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ بات بھی وقت ہی بتائے گا تو فی الوقت آپ ہمیں دیں اجازت تو ملتے ہیں آپ سے جلد لیکن اس آس و امید کے ساتھ کہ جو بھی ہو اچھا ہی ہو تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

مزید : کالم


loading...