1947 کی ہجرت یاد آئے تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے‘ فضل دین

1947 کی ہجرت یاد آئے تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے‘ فضل دین

ملتان (سٹی رپورٹر)قیام پاکستان سے قبل ہندوستا ن کے ضلع روہتک کی تحصیل ہریانہ گاؤ ں دودانہ کے رہائشی 90سالہ صوفی فضل دین نے کہاہے کہ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت میری عمر تقریبا20برس تھی اور اپنوں کھیتوں میں کام کرتا تھامسلمانوں تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے اور جلسوں میں جذبوں کے ساتھ نعرے لگاتے ہوئے شریک ہوتے تھیجب 14اگست 1947کو پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو ہمارے پڑوس میں آباد سکھوں نے(بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

مسلمانوں کے لئے جگہ تنگ کر دی ایسا لگتا تھا کہ پاکستان بننے کا سب سے زیادہ دکھ سکھوں کو ہوا ہے سکھوں نے مسلمان آبادی کے گاؤں پر حملے شروع کر دےئے جب ہمارے آباؤ اجداد کو معلوم ہوا حالات خراب ہیں تو انہوں نے رات ہی رات قریبی مسلمان آبادی والے گاؤں میں پناہ لی اور کئی روز تک اس گاؤں میں رہے اس کے بعد دوسروں شہروں سے آنے والے قافلے کے ہمراہ پیدل پاکستان کی طرف روانہ ہوئے راستے میں جگہ جگہ مسلمانوں کی نعشیں پڑی ہوئی تھی جن کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا ان نعشوں میں زیادہ تر خواتین اور نوجوانوں کی تھی جن کے ویکھ کر دل خون کے آنسوؤ رو رہا تھا آج 70سال گذرنے کے باوجود بھی وہ درد ناک لمحے ہمارے آنکھوں کے سامنے ہیں جن کو کبھی نہیں بھلا سکتے اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے بابا صوفی فضل دین نے بتایا کہ جب ہم بٹالہ سے نکلے تو ہمارے سامنے سکھ نوجوان مسلمان لڑکیوں کو اٹھا کر لے جا رہے تھے تو میں نے ساتھ ہی کھڑی ڈوگرا ملٹری کے سپاہی کو جا کر شکایت کی تو اس نے میری ساتھ سنی ان سنی کر دی اور میں خاموشی سے واپس آ گیا جبکہ راستے میں جگہ جگہ سکھوں کے ٹولے کھڑے ہو ئے تھے جو پاکستان کی طرف جانے والے مہاجرین سے لوٹ مار کر رہے تھے انہوں نے کہاہے کہ جب ہم اپنے گاؤں سے نکلے تھے تو سارا سامان ویسے کا ویسا چھوڑ آئے تھا اگر کسی کے پاس کوئی سامان تھا تو وہ کھانے کے کچھ چیزیں یا پھر کسی کے پاس تھوڑا بہت زیور جس کو راستے میں سکھوں نے چھین لیا تھا 85سالہ محمد یوسف طالب نے کہاہے کہ آج کا پاکستان دیکھ کر دل خون کے آنسو ؤ ں روتا ہے آج کے پاکستان کے لئے 20لاکھ سے زائد افراد نے قربانیاں دی اور جانوں کے نذرانے پیش کئے انہوں نے کہاہے کہ آج جب 1947کی ہجرت کو یاد کرتے ہیں تو راتوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں کہ ہم پاکستان بنتے وقت کئی خواب دیکھے تھے آج کا پاکستا ن ہمارے خوابوں خیالوں میں بھی نہیں تھا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...