بونیر ،تمباکو کاشتکاران نے ظالمانہ ٹیکس مسترد کردیا ،پروفیسر حمید الرحمان

بونیر ،تمباکو کاشتکاران نے ظالمانہ ٹیکس مسترد کردیا ،پروفیسر حمید الرحمان

بونیر(ڈسٹرکٹ رپورٹر)تمباکو کاشتکاران کے ضلعی کابینہ نے لگے اِن ڈائریکٹ ظالمانہ ٹیکس کو یکسر مسترد کر دیا ۔ظالمانہ ٹیکس 75ہزارتمباکو کاشتکاران کا معاشی قتل ہے۔ کے پی حکومت کے 77فیصد حصے پر اس فصل کی کاشت کی جا تی ہے۔ جس سے سالانہ 102بیلین روپے حکومتی خزانے کو جاتی ہے۔ ظالمانہ ٹیکس فوری طور پر واپس نہیں لیا گیا تو صوبہ بھر کے تمام شاہراہوں پر اختجاجی مظاہرے شروع کر دینگے ۔ تفصیلات کے مطابق بونیر ورجینا تمباکو کاشتکاران کے ضلعی صدر پروفیسر حمید الرحمان و جنرل سیکر ٹری سردار جھان اورپریس سیکرٹری انور شیر خان کے قیادت میں مرکزی بازار سواڑی کے ترسکون ہوٹل میں ایک ہنگامی اجلاس منعقدہوا جس میں ضلع بھر کے ورجینا تمباکو کے جملہ عہدہ داران نے شرکت کی۔اجلاس میں کہا گیا کہ تمباکو کی فصل خیبر پختون خوا کی نقد آورفصل ہے۔ اور 75ہزار کاشتکاران کا زریعہ معاش اس فصل سے منسلک ہے۔ کے پی کے کے 77فیصد رقبے پر اس فصل کی کاشت کی جاتی ہے۔ جس سے قریبا دو لاکھ 40ہزار افراد کی بلا واسطہ کفالت کی جاتی ہے۔اور اس فصل سے سالانہ 102بیلین روپے حکومتی خزانے کو جاتی ہے اس کے باوجود حکومت نے اس نقد آور فصل پر میدانی علاقوں میں 8.89فی کلو ، پہاڑی علاقوں پر 11.15،دھوپ میں سوکنے والی فصل پر 6.71،ڈی اے سی پر 5.12اور نسوار کیلئے استعمال ہونے والے تمباکو پر4.56فی کلو کے حساب سے ظالمانہ ٹیکس لگا کر تمباکو کاشتکاران کی معاشی قتل کیا ہے ۔ جس کی ہم پُر زور مذمت کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اِس موقع پر ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی ۔ جس میں کہا گیا کہ ظالمانہ 11.15کو پوری طور پر واپس لیا جائے ۔ ضلع بونیر سے ٹیکس کلیکشن (ٹوبیکو) چیک پوسٹ کو ختم کیا جائے تاکہ تمباکو کی آزادانہ ترسیل جاری رہے ۔ ہائی بریڈ 447کے زمینداران کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ کمپنیوں کو زمینداران سے ٹی این ڈی اور تمباکو سکرپٹ مناسب قیمتوں پر لینے کی پابند بنا دیا جائے ۔کیونکہ یہ بھی ایف سی وی ہے ۔ اُنہوں نے 15آگست کے بعد منسٹری آف کامرس سے ملاقات کا عندیہ بھی دیا اور کہا کہ اگر ظالمانہ ٹیکس واپس نہیں لیاگیا تو صوبہ بھر میں اس کے خلاف سڑکوں پر اختجاج شروع کردینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...