میڈیا کا کردار صرف آگاہ کنندہ کا نہیں، مصلح کا بھی ہونا چاہیے،محمود شام

میڈیا کا کردار صرف آگاہ کنندہ کا نہیں، مصلح کا بھی ہونا چاہیے،محمود شام

کراچی (اسٹاف رپورٹر)معروف صحافی، ادیب و شاعر محمود شام نے کہا ہے کہ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ میڈیا کا کردار صرف خبر دینے والا ہی نہیں بلکہ اصلاح کرنے والے کا بھی ہونا چاہیے۔ وہ بطور مہمان مقرر ،جمعرات 10 ۔ اگست2017 کی شام جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت ’’بنیادی قومی مسائل اور ذرائع ابلاغ کی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر شوریٰ ہمدرد کراچی کے اجلاس سے ایک مقامی ہال میں خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد بھی موجود تھیں۔ محمود شام نے مزید کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کے اعصاب پر ریٹنگ سوار رہتی ہے اور بھیڑ چال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مادام رتھ فاؤ کی پاکستان کے لیے کتنی بیش بہا خدمات ہیں لیکن ان کے انتقال پر ٹی وی پر ایک معمولی خبر دی گئی۔ اس کے برعکس ایک نااہل قرار دیئے گئے وزیراعظم کے سفر کو ترجیح دی گئی۔ ٹی وی چینلز کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خبروں میں صحتِ زبان کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا ایک خبر میں کہا گیا کہ سیلاب زدگان کی مدد کرو ہم آپ کی دست درازی کے منتظر ہیں۔ بغداد پر بمباری کی خبر دیتے ہوئے کہا گیا کہ بمباری سے بغداد بقۂ نور بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی قومی مسائل مثلاً تعلیم، صحت، صاف پانی کی فراہمی اور ناجائز تجاوزات پر تحقیقی رپورٹیں شائع اور نشر نہیں کی جاتیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ادارۂ ہمدرد اپنا ایک ٹی وی چینل شروع کرے۔ صدر مجلس جسٹس (ر) حاذق الخیری نے محمود شام کی تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید کا مقصد حیات قوم کی اصلاح تھا کہ پاکستانی ایک اچھی قوم بنیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے میں ٹی وی چینل سے بہت مدد مل سکتی ہے۔ کوئی تو چینل ایسا ہو جسے ہم اپنی پوری فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکیں۔ جسٹس (ر) ضیا پرویز نے کہاکہ ٹی وی خبرناموں میں خبروں کا دنگل لگتا ہے۔ ایک خبر پورے شہر میں آگ لگا سکتی ہے۔ لہٰذا خبریں دینے میں ٹی وی چینلز کو محتاط رہنا چاہیے اور نئے سرے سے خبر کی واضح تعریف کا بھی تعین ہونا چاہیے۔ انور عزیز جکارتہ والا نے کہا کہ لگتا ہے کہ ٹی وی چینلز سیاسی پارٹیاں بن گئے ہیں جبکہ وہ قوم کے نمائیدے ہیں اور انہیں قومی رول ادا کرنا چاہیے۔ ہر ٹاک شو میں دیہات کی چوپال کا ساسماں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا ابھی تک اپنی اقدار کو کسی حد تک سنبھالے ہوئے ہے جبکہ الیکٹرانک میڈیا اپنی راہ سے ہٹ گیا ہے اور وہ نقصان دہ باتیں بھی کر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بگڑے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کو سدھارنے کے لیے شاید ہمدرد کا ایک چینل کافی نہ ہو اس کام کے لیے ایسے دس چینلز چاہئیں۔ ڈاکٹر رضوانہ انصاری نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر بری اور بھیانک خبر کو بار بار دکھایا جاتا ہے جس سے دیکھنے والے کی بلڈ کیمسٹری بدل جاتی ہے اور اس کا بلڈپریشر ہائی ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب بچوں کا منہ ٹی وی کی طرف رہتا ہے اور ٹی وی جو دکھا رہا ہے اس سے ان میں نہ شائستگی آئے گی اور نہ ان کی اچھی تربیت ہوگی۔ انجینئر انوار الحق صدیقی نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی انجینئر ہیں، مراد علی شاہ انجینئر ہیں اس لیے مرکز اور صوبہ سندھ کو اچھے طریقے سے چلنا چاہیے۔ چین کے زیادہ تررہنما انجینئرز ہیں اور انہوں نے اپنے ملک کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاک شوز کا نام اسنیچنگ شوز ہونا چاہیے جن میں ایک دوسرے کے منہ سے بات چھینی جاتی اور تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ایک بہت طاقتور اوزار ہے یہ قوم کو تباہ بھی کر سکتا ہے اور اس کی تعمیر بھی کر سکتا ہے اسے تعمیر کا کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک میڈیا کمیشن بنایا جائے جو اس کے لیے اصلاحات تجویز کرے۔ پروفیسر کفیل احمد نے کہا کہ حکومت اورمیڈیا کی ترجیحات میں تعلیم، صحت، میرٹ اور معاشرتی انصاف نہیں ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی اپنے لیڈر کا دفاع کرتے کرتے دیانت اور راست گوئی کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ معاشرہ بری طرح سے روبہ زوال ہو رہا ہے ، آج ہی ننکانہ صاحب میں ایک خاتون کو زندہ جلا دیا گیا۔ ڈاکٹر تنویر خالد نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے جو لوگوں کی سوچ پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ ہم مختلف طریقوں سے دباؤ ڈال کر اسے راہ راست پر لاسکتے ہیں۔ اپنی زبان کو محفوظ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہم شوریٰ کے تھینک ٹینک کے ذریعے معاشرے کی بری چیزوں کو بدلنے کا آغاز کر سکتے ہیں۔شوریٰ ہمدرد نے ایک قرارداد تعزیت کے ذریعے معروف اور بے مثل سوشل ورکر مادام رتھ فاؤ کے انتقال پر گہر رنج و دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات جلیلہ، جو وہ 1960 سے کراچی میں جذام کے مریضوں کے لیے انجام دے رہی تھیں ، کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اپنے ایک اہم رکن ظفر اقبال کے گرنے سے زخمی ہونے پر ان کے لیے دعائے صحت کی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...