پولیس میں خلاف میرٹ تقرریاں،امن دشمن ایک بار پھرسرگرم

پولیس میں خلاف میرٹ تقرریاں،امن دشمن ایک بار پھرسرگرم

(تجزیہ:کامران چوہان)

شہرقائد میں 2013ء میں شروع ہونے والے ’’کراچی آپریشن‘‘کے ثمرات عوام کو ملناشروع ہی ہوئے تھے کہ اچانک سے بہتری کی جانب گامزن حالات نے کروٹ لے لی۔وفاقی حکومت،سندھ سرکار اورسیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے عروس البلاد کی روشنیوں کی بحالی کیلئے قانون نافذکرنے والے اداروں کے جوانوں نے بے شمارقربانیاں دیں ،ایک طویل عرصے کے بعد شہرباسیوں نے کھل کرسانس لیا اورملک کی شہہ رگ سمجھے جانے والے شہرمیں پھرسے کاروباری،سیاسی،مذہبی ،سماجی سرگرمیاں کاآغازہوا۔سندھ پولیس میں سیاسی اورامن دشمن عناصر کے آلہ کاربننے والی ’’کالی بھیڑوں‘‘کے خاتمے کا بھی سلسلہ شروع کیا گیا مگر سندھ حکومت اور آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ اس کا م میں مکمل طورکامیاب نہیں ہوپائی۔سندھ پولیس سے ’’پرانے گند‘‘کی صفائی میں ناکامی کے بعداے ڈی خواجہ نے انقلابی اقدامات کرتے ہوئے نئی بھرتیوں میں 100فیصدمیرٹ پرکرنے کاعہدکرلیااوراس عمل کومزیدشفاف اورغیرجانبداربنانے کیلئے آرمی اواین ٹی ایس کی خدمات حاصل کیں ۔اے ڈی خواجہ کے اس اہم اوردبنگ فیصلے نے سندھ پولیس کوایک مثالی ادارے کی جانب گامزن کردیاگو کہ اس فیصلے کاخمیازہ وہ اب تک بھگت رہے ہیں مگرکسی دباؤکویکسرردکرتے ہوئے مکمل طورپرمیرٹ پر بھرتیاں کرنے پر سندھ پولیس کی تاریخ میں انہیں ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔مگرشہرمیں امن وامان کا قیام صرف میرٹ کی بھرتیوں سے نہیں ہوگااس کیلئے پوری پولیس فورس آئی جی سے لیکرکانسٹیبل تک کواپناکرداراداکرناہوگا۔آئی جی سندھ اورسائیں سرکارمیں جاری کشمکش کا خمیازہ کراچی کے شہری بھگتنے پر مجبورہیں۔خواجہ سے ناراض بااثرترین سیاسی شخصیت نے انہیں سسٹم سے آؤٹ کرنے کیلئے اعلیٰ افسران کے تبادلے کے اختیارات پہلے آئی جی سندھ سے لیکروزیراعلیٰ کو اور پھریہ تمام اختیارات سندھ کے نئے وزیرداخلہ کومنتقل کردیئے گئے۔اختیارات ملتے ہی وزیرداخلہ نے ایک ہفتے کے دوران ایڈیشنل آئی کراچی،

ایڈیشنل آئی سندھ،ڈی آئی جیز،ایس ایس پیزسمیت تقریباً5درجن سے زائدافسران ادھرادھرکرنے سندھ پولیس کے سارے ڈھانچے کوبدل کررکھ دیا۔اچھی شہرت کے حامل کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کوہٹاکراس عہدے سے پہلے ایک بارناقص کارکردگی کے سبب ہٹائے جانے والے افسرکی دوبارہ سے تقرری کی گئی۔موجودہ کراچی پولیس چیف کے سابق دورمیں ’’پرچی پرتھانے ‘‘ملنے کاشورتھا مگرمشتاق مہرنے میرٹ کوملحوظ خاطررکھتے ہوئے تعیناتیاں کیں۔غلام قادرتھیبوکی بطورکراچی پولیس تعیناتی کے بعد’’پرچی پرتھانے ‘‘ملنے کاسلسلہ پھرسے شروع ہوچکا ہے ۔ شہرقائد میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل افسران کو تبدیل کرکے پرچی والے تھانیداروں کے تقررسے امن دشمنوں کے ’’سلیپرسیلز‘‘کو دوبارہ سے سرگرم ہونا کاموقع ملااور انہوں نے پولیس والوں کو ہی اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے دہشتگردوں نے تواترکے پولیس اہلکاروں اورافسران کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوچکی ہے جبکہ دوسری جانب یکے بعد دیگرے ڈاکوں شہرکے بینکوں کے صفائے پرلگے ہوئے ہیں۔شہرمیں ایک بارپھرسے شروع ہونے والے خونی کھیل کاآغازدراصل 2013ء سے شروع ہونے والے ’’کراچی آپریشن ‘‘کواپنے منطقی انجام تک نہ پہنچنے دینے کی مذموم سازش دکھائی دیتی ہے۔سندھ سرکارکوچاہیے نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عملدآمدکویقینی بنائے اورپولیس میں سیاسی مداخلت سے بازرہ کرافسران کوامن وامان کے قیام کویقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کیلئے ’’فری ہینڈ‘‘دے ۔اگرعوام کے محافظ اپنے فرائض دیانتداری سے اداکرنے لگیں گے تودہشتگردوں کا مکمل طورپرصفایا صرف چنددنوں میں ہوجائے گااورعوام کوپرامن اورپرسکون کراچی مل جائے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...