وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر40

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر40
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر40

  


شہنشاہ انگلستان کی سلور جوبلی کا دن آ پہنچا تھا۔ 7 مئی 1935ء کو عام تقریبات کا اعلان کیا گیا۔ سرکار نے منٹو پارک لاہور میں ایک بڑے دنگل کا اعلان کیا۔اس میں بڑی جوڑ امام بخش رستم ہند اور گونگا پہلوان رستم ہند کے درمیان طے پائی۔ یہ دونوں شاہ زوروں کے درمیان پانچواں مقابلہ تھا۔ امام بخش 52 برس کا ہو چکا تھا۔گونگا عمر کی 35 ویں بہار دیکھ رہا تھا۔دیکھنے والوں نے دیکھا کہ امام بخش بڑھاپے کے باوجود جواں سال نظر آ رہا تھا۔گونگے اور امام بخش کی یہ کشتی کافی طول پکڑ گئی تو برابر چھڑا دی گئی تھی۔

دوسری طرف ایک اور چیلنج آ گیا تھا۔گاماں رستم زماں عمر عزیز کی 60 ویں سیڑھی پر قدم جما رہا تھا جب فرانس کے ایک شاہ زور نے اسے للکارا۔یہ کشتی مہاراجہ نے باندھی تھی۔ان دنوں مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ سیروسیاحت کیلئے فرانس گیا ہوا تھا۔ ایک روز وہ فرانس کے ایک ہوٹل میں ظہرانہ کے بعد گاڑی میں سوار ہونے لگا تو فرانسیسی پہلوان پیٹرسن نے اس کا راستہ روک لیا۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر39 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مہاراجہ پٹیالہ کو میرا سلام پہنچے‘‘۔ پیٹرسن نے کہا۔

مہاراجہ اسے نہیں جانتا تھا۔اس نے حیرانی سے اس اجنبی پہلوان کو دیکھا۔

’’مہاراجہ جی میرا نام پیٹرسن ہے اور میں فرانس کا چیمپئن ہوں‘‘۔

مہاراجہ نے پیٹرسن سے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ ’’بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر‘‘۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

’’مہاراجہ محترم! میں نے آپ کے رستم زماں کے بڑے پرچے سنے ہیں۔ میں بڑی مدت سے اس کی تلاش میں ہوں۔اگر آپ میری اس سے کشتی کرا دیں تو کیا کہنے!‘‘

پیٹرسن جواں قدوقامت کا ایک وجیہہ پہلوان تھا۔ مہاراجہ نے بغور اسے دیکھا اور کہا۔ ’’مسٹر پیٹرسن شاید تمہیں معلوم نہیں اب گاماں ساٹھ برس کا ہو چکا ہے تم سے اس کی یہ کشتی بنتی نہیں ہے‘‘۔

پیٹرسن نے طنز کیا۔ ’’مہاراج سچے پہلوان کی عمر ستر برس ہوتی ہے۔ ابھی تو آپ رستم زماں ساٹھ برس کا ہوا ہے۔ اگر وہ واقعی عظیم پہلوان ہے تو وہ ضرور کشتی لڑے گا‘‘۔ مہاراجہ کو گاماں نہایت عزیز تھا۔ پیٹرسن کی بات سے اسے غصہ آیا۔

’’مسٹر پیٹرسن! اگر یہ بات ہے تو پھر یقین کرو گاماں جی ضرور کشتی کریں گے‘‘۔ مہاراجہ نے اپنے سیکرٹری سے کہا۔ ’’مسٹرپیٹرسن کو کل کا وقت دیں تاکہ تمام معاملہ آ کر طے کر لیں‘‘۔ مہاراجہ نے پیٹرسن کو اپنے سیکرٹری کے حوالے کیا اور خود گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔پیٹرسن کے لبوں پر ایک پراسرار مسکراہٹ تیرنے لگی۔

مہاراجہ بھوپندر سنگھ کا دل تشویش سے بھر گیا تھا۔ اس نے پیٹرسن کی دعوت مبارزت قبول تو کر لی تھی مگر اب اسے دھڑکا سا لگ گیا تھا کہ کہیں گاماں اس قوی ہیکل نوجوان سے گر نہ جائے یا پھر گاماں خود ہی انکار نہ کر دے۔ مہاراجہ کو ایک تسلی یہ بھی تھی کہ گاماں ہرگز اس کو شرمندہ نہیں ہونے دے گا اور اس کے وعدے کی لاج رکھے گا۔ وہ اپنے بامروت اور وضع دار شاہ زور کی عادتوں سے خوب آگاہ تھا کہ وہ اپنی جاں سے گزر جائے گا مگر کسی بھی چیلنج کرنے والے سے منہ نہیں چھپائے گا۔

مہاراجہ کے پٹیالہ واپس پہنچتے ہی پیٹرسن بھی آ گیا۔ چند دنوں بعد مہاراجہ نے پیٹرسن اور گاماں کو اپنے پاس بلایا اور دونوں کا تنقیدی جائزہ لیا۔ پیٹرسن کا فولادی جسم اور عقابی نگاہیں دیکھ کر مہاراجہ ایک بار پھر تشویش میں مبتلا ہو گیا۔ اسے فرق صاف نظر آ رہا تھا۔ گاماں عمر عزیز کی ساٹھویں بہار کے قریب تھا جبکہ پیٹرسن جواں سال تھا۔ دونوں سے رسمی بات چیت کے بعد مہاراجہ نے پیٹرسن کو واپس بھیج دیا اور گاماں کو پاس بٹھا لیا۔

’’مہاراج حضور! کچھ پریشان دکھائی دیتے ہیں‘‘۔ گاماں نے مہاراجہ کی پریشانی تاڑتے ہوئے پوچھا۔

’’ہاں گاماں جی! مہاراجہ نے گاماں کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ ’’گاماں جی آپ نے پیٹرسن کو دیکھ لیا ہے۔مجھے یہ نوجوان پریشان کر گیا ہے‘‘۔

گاماں نے پوچھا۔ ’’مہاراج! اس میں پریشانی کی بات کیا ہے؟‘‘

مہاراجہ نے جواب دینے کے بجائے دریافت کیا۔ ’’گاماں جی کیا آپ ہماری لاج رکھ لیں گے‘‘۔

گاماں بات کی تہہ تک پہنچ گیا۔ ’’مہاراج حضور! میں اپنے فرض کی ادائیگی جاں سے گزر کر بھی ادا کر جاتا ہوں۔آپ اطمینان رکھیں میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا‘‘۔

مہاراجہ نے مشورہ دیا۔ ’’گاماں جی آپ کو مجبور نہیں کرتا۔اگر آپ کشتی نہ لڑنا چاہیں تو یہ آپ کا حق ہے۔ آپ ناقابل شکست رہے ہیں اور پھر اب آپ چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں۔پیٹرسن پہلے آپ کی ڈھال گرائے تب اس سے مقابلہ کروں گا‘‘۔

گاماں نے پراعتماد لہجہ میں کہا۔ ’’حضور! آپ نے پیٹرسن کا براہ راست چیلنج قبول کیا ہے اور یہ صرف میرے لئے ہے۔وہ ہزاروں میل سے لڑنے آیا ہے۔تو مجھ سے۔۔۔ اب بھلا میں آپ کے کہے اور اس کے ارمانوں کا خون کیسے کر سکتا ہوں۔میرے سوہنے رب نے چاہا تو میںآپ کو مایوس نہیں کروں گا۔ اب آپ اطمینان رکھیں‘‘۔

پیٹرسن بڑا کائیاں تھا۔وہ اپنے جن خوابوں کی تکمیل کیلئے پٹیالہ پہنچا تھا، ہر صورت میں اس کی تعبیر پانا چاہتا تھا۔ وہ طاقت اور فن کے علاوہ مکاری کے ساتھ گاماں کو شکست دینا چاہتا تھا۔

مقابلے میں ایک ہفتہ باقی تھا۔ اس نے پتہ کرایا کہ گاماں ریاضت کس وقت کرتا ہے۔یہ معلوم کرنے کے بعد وہ اس کے اکھاڑے میں جا پہنچا۔ گاماں اس وقت سنتولہ پھیر رہا تھا۔اس نے پیٹرسن کو دیکھا تو فارغ ہو کر اس کے پاس پہنچ گیا اور خوشدلی سے اس کا استقبال کیا۔

’’خیر تو ہے۔آپ یہاں کیسے؟‘‘ گاماں نے اپنے حریف سے دریافت کیا۔

’’بس ہم ویسے ہی ادھر آ گیا‘‘۔ پیٹرسن نے عذر لنگ پیش کی۔

’’آئیے تشریف رکھیں‘‘۔ گاماں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

’’نہیں مسٹر گاماں۔ شکریہ۔ بس ہم آپ کا اکھاڑہ دیکھنے کے واسطہ آیا‘‘۔

’’کوئی خدمت؟‘‘

’’بس ہم تمہارا پریکٹس دیکھے گا‘‘۔ پیٹرسن ڈھیٹ بن کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ گاماں حیرانی سے اس کو دیکھنے لگا کہ کیسا پہلوان ہے جو اپنی ریاضت پر اعتماد کی بجائے اپنے حریف کی کسرت دیکھنے آ گیا ہے۔

’’مسٹر پیٹرسن، یہ اصولوں کے خلاف بات ہے۔ میں آپ سے معذرت چاہوں گا‘‘۔

پیٹرسن نے قہقہ لگایا اور کہا۔ او نو مسٹر گاماں۔ دراصل ہم نے کبھی دیسی کشتی کیا نہیں۔ اس لئے دیکھنے آیا ہے‘‘۔

گاماں نے فراخ دلی کا ثبوت دیا۔ ’’تو پھر ٹھیک ہے۔ آپ تشریف رکھیں‘‘۔

پیٹرسن ایک گھنٹے تک گاماں اور امام بخش کے زور دیکھتا رہا پھر چلا گیا مگر دوسرے روز پھر عین اسی وقت دوبارہ آ گیا۔ گاماں کو برا لگا۔ مگر وہ بولا کچھ نہیں۔ادھرمہاراجہ کو بھی خبر ہو گئی۔ انہوں نے پیٹرسن کو منع کیا مگر وہ باز نہ آیا۔اس کا اکھاڑے میں جانا معمول بن لیا۔ آخرکار مہاراجہ کے کہنے پر اسے اکھاڑے سے دھکار دیا جاتا مگر وہ ڈھیٹ بن کر اکھاڑے کی چاردیواری کے اوپر سے گاماں کے راز جاننے کیلئے تاک جھانک کرتا رہتا۔ گاماں نے اس کی ان حرکتوں کا برا منانے کی بجائے فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور ایک روز اسے اکھاڑے کے اندر بلا لیا۔

’’مسٹر پیٹرسن میں آپ کی پریشانی جانتا ہوں۔ آپ مخصوص داؤ دیکھنا چاہتے ہیں تو لیجئے آپ کی تسلی کرائے دیتا ہوں‘‘۔

گاماں نے اپنے ایک پٹھے کو اکھاڑے میں بلایا اور پلک جھپکتے میں اس کے پٹ کھینچ کر اسے گرا دیا۔ گاماں ہاتھ جھاڑتا ہوا بولا۔ ’’مسٹر پیٹرسن یہ میرا کارگر داؤ ہے۔ میں نے آج تک جتنی بھی کشتیاں جیتی ہیں اسی داؤ کو استعمال کیا اور اب میں آپ کو اسی داؤ سے گراؤں گا‘‘۔

گاماں کی یہ بات عام ہو گئی کہ اس نے حریف کو اپنا داؤ بتا دیا ہے اور اسے اسی کے ذریعے شکست دینے کا چیلنج کیا ہے۔ پیٹرسن کے من کی مراد پوری ہو گئی۔اس نے ہوشیاری سے کام لیا اور اس داؤ کے توڑ جاننے لگا۔ پھر دنگل سے دو روز قبل وہ مہاراجہ کے پاس پہنچا اور ایک شرائط نامہ پیش کیا۔ مہاراجہ نے اسے پڑھا اور تعجب سے پیٹرسن کو دیکھا اور پھر فوراً چوبدار کو بھیجا کہ گاماں کو بلا کر لائے۔ گاماں آیا تو مہاراجہ نے اسے پیٹرسن کی شرائط سنائیں۔ ’’گاماں جی! پیٹرسن کہتا ہے کہ کشتی کے دوران پاؤں، ہاتھ اور انگلیوں کو توڑا یا موڑا نہ جائے اور جسم کے کسی حصہ پر ضرب یا خراش نہیں آنی چاہئے۔ چہرے کے بچاؤ کا خیال رکھا جائے‘‘۔

گاماں نے مہاراجہ کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا۔ ’’تو اس کا مطلب ہے حضور کہ گویا کشتی تو ہے مگر ایک دوسرے کو ہاتھ لگائے بغیر گرانا ہے‘‘۔

مہاراجہ پیٹرسن سے مخاطب ہوا۔ ’’مسٹر پیٹرسن یہ کشتی کے قواعد کے خلاف بات ہے۔ آپ نے ایسی کشتی لڑنی ہے نہ کہ فری سٹائل‘‘۔

’’میں دیسی کشتی ہی لڑوں گا۔ مگر یہ قواعد ہمارے روایتی ہیں، میں ان کا عادی ہوں‘‘۔

(جاری ہے, اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : طاقت کے طوفاں


loading...