قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 39

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 39
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 39

  


یہ وہ زمانہ تھا جب صدر ایوب بھی دورہ روس پر گئے ہوئے تھے اور ہمیں توقع تھی کہ کسی نہ کسی شہر میں ہماری ان سے ملاقات ہو جائے گی ۔ ماسکو میں پہلے ہی دن ہمیں احساس ہو گیا کہ سوویت حکومت کا ہمارے ساتھ سلوک سرد مہری کا ہے ۔ انہوں نے ہمارے ساتھ ایک روسی خاتون INTER PRETER جس کا نام سوویتلانہ تھا کی ڈیوٹی لگا دی تھی جو ترجمان کے فرائض انجام دیتی تھی۔ ہمیں ایک اکیس منزل ہوٹل یوترانہ میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اس ہوٹل کے تقریباً اکیس سو کمرے تھے اور فلور گراؤنڈ پر چار بڑے بڑے ریستوران تھے۔

عام طور پر طریق کا ریہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے وفد کے ارکان کو ملک میں پہنچتے ہی ایک الاؤنس دیے دیا جاتا ہے تاکہ ارکان اپنی ضروریات مناسب طریقے سے پوری کر سکیں۔ ہمیں سوویت حکومت کی طرف سے ایسی کوئی سہولت نہ دی گئی بلکہ ہمارے کھانے پینے کی ذمہ داری بھی سوویتلا نہ ہی کو سونپی گئی۔ جب ہم ریستوران میں کھانے کے لیے جاتے تو وہ بل پر دستخط کر دیتی تھی۔ ایک دن وہ کسی وجہ سے نہ آسکی تو ہم رات کو بھوکے ہی سوئے۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 38 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس طرح ہمیں بجائے اس کے کہ تعلیمی اداروں میں گھمایا جائے‘ وہ ہمیں سیاح کی طرح کبھی سرکس دکھانے کیلئے لے جاتے اور کبھی کوئی عمارت ۔ جب ہم ایک رات فاقے میں رہے تو ہم نے احتجاج کیا کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک بھوکے ملک سے آئے ہیں جہاں کے لوگ فاقے کرتے ہیں تو یہ بات ذہن سے نکال دیں ۔ پاکستان کے لوگ یہاں کے لوگوں سے زیادہ کھاتے ہیں اور ہمیں فاقے کرنے کی عادت نہیں ہے ۔ خیر سویتلا نہ نے معذرت کی کہ یہ میری غلطی ہے۔

اس واقعہ سے اگلے روز ہم پاکستانی سفارتخانے گئے تو دیکھا کہ وہاں صرف ایک چپڑاسی تھا اور اس کے علاوہ کوئی شخص نہیں تھا۔ ہم نے پوچھا کہ سفیر صاحب اور دیگر افسران کہاں ہیں تو اس نے کہا کہ وہ سب ماسکو سے باہر ہیں ‘ آپ اپنی آمد کے بارے میں اس رجسٹر میں تحریر کردیں۔ ہم تینوں نے اپنے نام اور پتے درج کیے اور رابطے کیلئے ٹیلیفون نمبر بھی لکھ دیئے۔ لیکن ہمارے ساتھ کسی نے کوئی رابطہ نہ کیا۔

اس دورے کے دوران میرے دل میں یہ بڑی تمنا تھی کہ کہیں کوئی اُردو یا پنجابی بولنے والا مل جائے کیونکہ میرے ساتھی بنگالی سکالروں میں سے ایک تو سرے سے اُردو جانتے ہی نہ تھے جبکہ دوسرے صاحب ابھی اُردو بولنا سیکھ رہے تھے اور میں ان کی اُردو درست کرتے کرتے تھک چکا تھا ۔ میں فرسٹ فلور پر لابی میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک دیکھا کہ دو سکھ سردار بحری فوج کی وردی پہنے آرہے تھے ۔ اس وقت میرے دونوں بنگالی باہر گئے ہوئے تھے کیونکہ ان کے مقاصد کچھ اور ہوتے تھے۔ دراصل بات یہ تھی کہ میں کچھ ممنوعہ چیزوں سے اجتناب کرتا تھاجبکہ وہ سور کا گوشت پسند کرتے تھے۔

میں اٹھ کر سردار صاحبان کی طرف بڑھا اور انہیں ست سری اکال کیا۔ وہ سن کر بڑے خوش ہوئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ میں نے بتایا کہ میں لاہور کا رہنے والا ہوں۔ میں نے کہا کہ آئیں کچھ دیر میرے ساتھ بیٹھیں ۔ وہ کہنے لگے کہ مسئلہ کیا ہے ۔میں نے کہا کہ مسئلہ پنجابی کا ہے اور کتنے دنوں سے میں نے پنجابی میں بات نہیں کی۔ جس پر وہ بیٹھ گئے اور میرے لئے کچھ سنیکس منگوائیں اور خوب باتیں ہوئیں ۔ ذہن پر جو بوجھ تھا وہ اترا۔

اس عرصے میں سفارتخانے سے فون آیا کہ سفیر صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ یہ فون کسی اہلکار نے کیا تھا اور وہ میرے نام ہی سے واقف تھے۔ اگر میں نہ ہوتا تو ممکن ہے کہ وہ انہیں بلاتے ہی نہیں۔ ہم ان سے ملنے کیلئے گئے تو وہ وہاں پر اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔ پروفیسر سرور مرشد اس دوران میں روس سے واپس جا چکے تھے۔ سفارتخانے میں ہمیں چائے اور بسکٹ پیش کیے گئے اور سفیر صاحب نے ہم سے پہلی بار ملاقات نہ ہو سکنے کی معذرت کی۔

میں نے پوچھا کہ آپ کے پاس کوئی پاکستانی اخبارات یا اور کوئی ادبی کتابیں وغیرہ ہیں تو انہوں نے نفی میں سرہلایا اور کہا کہ یہاں بہت دشواریاں ہیں۔ میں نے پوچھا کہ جب کوئی وفد آئے تو آپ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں تو کہنے لگے کہ ہمیں آپ کے آنے کی اطلاع نہیں تھی۔ لیکن ان کا یہ رویہ بتا رہا تھا کہ انہیں ضرور اطلاع ہو گی۔

ہوایوں کہ فضل الرحمان خان جو صدر ایوب کے رشتہ دار تھے اور میرے کلاس فیلو تھے‘ وہ مغربی جرمنی میں سفیر لگے ہوئے تھے ۔ میں نے ماسکو روانگی سے قبل انہیں خط میں لکھا تھا کہ میں ماسکو سے آپ کے ہاں آؤں گا ‘ اس طرح میں نے انگلینڈ میں بھی اپنے بچوں اور دوستوں کو کچھ خطوط لکھے تھے کیونکہ وہاں سے مجھے انگلینڈ بھی جانا تھا۔ لیکن مجھے کسی بھی طرف سے کوئی جواب نہیں آرہا تھا۔

وہاں ریڈیو نے میری کچھ ریکارڈنگ کی تھی اور معاوضے میں مجھے کچھ روبل مل گئے تھے مگر روسی کرنسی کو روس سے باہر کوئی پوچھتا نہیں تھا جبکہ مجھے مغربی جرمنی اور انگلینڈ بھی جانا تھا۔ چنانچہ میں نے روس میں پاکستانی سفیر سے کہا کہ مجھے پانچ پاؤنڈ کی ضرورت ہے کیونکہ میرے پاس ٹکٹ تو ہے لیکن مجھے کسی خط کا جواب نہیں آرہا اور اگر لندن میں کوئی مجھے لینے کیلئے ائیرپورٹ پر نہ پہنچا تو مجھے سخت دشواری ہو گی۔ وہ کہنے لگے کہ مجھے افسوس ہے ہم سے اس کا انتظام نہیں ہو گا۔ پھر کہنے لگے کہ میں دفتر میں کسی سے پوچھتا ہوں اور مجھ سے تبادلے میں پورے روبل وصول کر کے ان کے عوض پانچ پاؤنڈ عنایت کیے حالانکہ ان کے پاس فنڈز ہوتے ہیں اور اگر کوئی پاکستانی تکلیف میں ہوتو وہ اس کی مدد کرتے ہیں اور انہیں ان فنڈز کا حساب بھی نہیں دینا پڑتا۔

جب میں ماسکو سے انگلینڈ روانہ ہوا تو جس جہاز میں میں سفر کر رہا تھا وہ کراچی سے بذریعہ ماسکو لندن جا رہا تھا ۔ اس جہاز میں بیٹھتے ہی دو آدمی پیچھے سے میرے پاس آئے اور پوچھا کہ آپ قتیل شفائی ہیں۔ میں نے کہا ہاں تو کہنے لگے کوئی تکلیف ہو تو بتائیے ۔ میں نے کہا کہ میرے پاس پانچ پاؤنڈ تو ہیں لیکن ممکن ہے کہ وہاں مجھے زیادہ پیسوں کی ضرورت پیش آئے تو ان دونوں سے مجھے دس دس پاؤنڈ نکال کر دے دیئے۔

جب جہاز جا کر ائیرپورٹ پر رکا تو میں نے یہ دیکھا کہ میں نے جن جن لوگوں کو خطوط لکھے ہوئے تھے وہ سب مجھے لینے کیلئے ائیرپورٹ پر موجود تھے۔ انہیں دیکھ کر کچھ جان میں جان آئی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے میرے خطوط کا جواب کیوں نہیں دیا تو کہنے لگے کہ ہم نے تو آپ کو کئی کئی خط لکھے ہیں اور تار بھی دیئے ہیں۔ حیرت ہے کہ آپ کو کچھ بھی نہیں ملا۔

جب میں وہاں سے واپس لاہور آیا تو میرے لاہور پہنچنے کے بھی تقریباً دو ہفتے کے بعد مجھے ایک پیکٹ ملا جس میں فضل الرحمان صاحب سفیر پاکستان اور ان سب لوگوں کے خطوط بھی شامل تھے۔ حالانکہ میں اس دوران تقریباً تین ہفتے تک انگلینڈ میں بھی قیام پذیر رہا تھا۔

اس دورہ ماسکو کے بعد میں نے عالی صاحب سے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ میں سرخا بن کر آیا ہوں میں تو اپنا خون سفید کر کے آیا ہوں۔ کیونکہ ہمارے ساتھ روس والوں کا رویہ قطعی ناروا تھا۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ہم لوگ جو وہاں آرہے ہیں سب پروگریسو ہیں اور غالباً اسی لئے روس بھیجے بھی جا رہے تھے کہ ہم تعصبات رکھ کر کوئی بات نہیں کریں گے ۔ لیکن روس والوں نے ایک تو ہمارے ساتھ ادیبوں کی بجائے سیاحوں والا برتاؤ کیا اور دوسرے سرد مہری سے پیش آئے اور ہمیں فاقے کروائے۔ لیکن میں نے کہا کہ ان سب چیزوں کے باوجود میں سوشلزم سے تو منحرف نہیں ہوں لیکن روس والوں کا یہ رویہ دیکھ کر اب میں پہلے سے کہیں زیادہ قوم پرست بن کر واپس آیا ہوں۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : گھنگروٹوٹ گئے


loading...