وزیراعظم آزاد کشمیر کا مغالطہ

وزیراعظم آزاد کشمیر کا مغالطہ
وزیراعظم آزاد کشمیر کا مغالطہ

  


گزشتہ برس آزاد کشمیر میں عام انتخابات منعقد ہوئے جن کے ذریعے راجہ فاروق حیدر خان بھاری اکثریت سے وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر منتخب ہوئے۔ راجہ فاروق حیدر خان نے الیکشن مہم کے دوران ہر سٹیج پر انتہائی جوشیلے انداز میں گڈگورننس اور میرٹ کا بول بالا کرنے کا اعلان کیا تھامگر افسوس کہ بلند و بانگ دعوے اعلانات اور بیانات محض خواب ہی نکلے۔ میرٹ کا بول بالا کرنے والوں نے خزانے پر بننے والے بوجھ ’’سفارشی ملازموں‘‘ کو ہٹانے کی بجائے تعلیمی پیکج کو ہی سرے سے ختم کرنا چاہا اور تمام اداروں سے سٹاف کو تاریخ میں پہلی دفعہ ٹیلی فونک کالز کے ذریعے ایک ہی رات تبادلے کر دیئے حالانکہ تبادلے کیلئے باقاعدہ ایک نظام کے تحت خط(حکم) لکھا جاتا ہے مگر یہاں تو اُلٹی گنگا بہتی نظر آتی ہے۔ حکومت نے ہزاروں طلبہ و طالبات کا مستقبل داو پر لگا کر حکم جاری کیا کہ قریب ترین کالجز میں داخلے لیے جائیں مگر طلبہ و طالبات کے پاس بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے پہلے مرحلے میں ہی 40فیصد طلبہ و طالبات نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی ۔

اپوزیشن جماعت کی طرف سے موجودہ حکومت کے خلاف تعلیمی پیکج کے سلسلہ میں کیس بھی کیا گیا جو موجودہ حکومت ہار گئی مگر تاحال عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے جرم میں توہین عدالت کا کیس بھی زیر سماعت ہے ۔پھر گڈگورننس کے دعوے عوام کو ووٹرز اور سپورٹرز کی گلیاں پکی ہوتے نظر آئیں۔ راجہ فاروق حیدر خان صاحب جلد بازی میں بغیر کچھ سوچے سمجھے فیصلے کر جاتے ہیں جو بعد میں انکے لیے وبالِ جان بن جاتے ہیں۔ راجہ صاحب گزشتہ ضمنی الیکشن سے پہلے بھی اور بعد میں بھی بلدیاتی الیکشن کروانے کے دعوے کرتے دکھائی دیئے مگر اس میں بھی تاریخ پر تاریخ دی گئی۔ شاید راجہ صاحب اور ان کی کابینہ اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کو برداشت کرنے کیلئے ہی تیار نہیں جس کی وجہ سے ایک سال سے حیل و حجت سے کام لیا جا رہا ہے اور جب دیکھا کہ پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے تو راجہ صاحب نے ریاست بھر کے پٹواریوں کو حکم جاری کر دیا کہ حلقہ بندیاں مرتب کر کے عوام کو تقسیم کر دو تا کہ مزید ایک سال تک عوام انہیں دیکھتے اور درست کرواتے رہیں ۔

بلدیاتی الیکشن کا بوجھ حلقہ بندیوں اور پٹواریوں پر ڈالنے کے بعد انہین نہ جانے کیا زعم ہوا کہ ایک ایسا بیان داگ دیا جس نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو یکدم پیس ڈالا ۔ انہوں نے وزیراعلٰی گلگت بلتستان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں اپنے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی فرمانبرداری میں جو بیان دیا خود یہ ان کے گلے میں پڑگیا۔ بیان کے ردِ عمل میں کشمیری عوام نے جب پاکستانی سیاستدانوں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی تواسکے کافی مثبت نتائج دیکھنے کو ملے۔ واویلا مچاتو وزیر اعظم کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اس بیان کو اگر سیاق و سباق کے ساتھ جوڑا جائے تو کچھ یوں تھا کہ ہمیں وہ پاکستان چاہیے جس کا خواب قائداعظم اور علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔جہاں انصاف کا بول بالا ہو جہاں اسلامی قانون ہوں جہاں خواتین کو تحفظ ملتا ہو جہاں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال نہ ہوتا ہو اور جہاں آئین کی بالا دستی ہو جہاں'' ہر وزیراعظم اپنی مدت پوری کرتا ہو ''اور اگر ایسا پاکستان نہیں ہے یہاں تو ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم کس سے الحاق کریں ۔یعنی کہاں سے وہ پاکستان لائیں جہاں قائداعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کو تعبیر ملتی ہو مگر چند اخبارات نے جب بیان کو سیاق و سباق کو کاٹ کر پیش کیا تو چاروں طرف سے راجہ صاحب پر لعن طعن شروع ہوئی اور پھر موصوف نے دوبارہ پریس کانفرنس کی اور خوب گِڑ گڑا کر بیان کی تردید کر دی مگر پھر بھی دو تین دن پاکستانی میڈیا چینلز کیلئے وہ موضوع بنے رہے جس پر ہر کسی نے تبصرہ کیا اور ایک اینکر نے تو غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مشورہ دے دیا ۔دوسرے دن کراچی کے کسی تھانے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف غداری کی درخواست بھی درج کرانے کی کوشش کی۔

سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف صاحب کی نا اہلی اپنی جگہ وزیراعظم آزاد کشمیر کی کم ظرفی اپنی جگہ کہ انہوں نے صادق و امین نہ ہونے کے جرم میں نا اہل وزیراعظم کی محبت میں یہ سب کچھ بولا مگر جو کچھ انہوں نے بولا ’’کیا یہ سب غداری ہے؟سیاق و سباق سمیت بھی اور سیاق و سباق کو کاٹ کر بھی سب الفاظ غداری کے زمرے میں آتے ہیں؟‘‘وزیراعظم آزادکشمیر ایک ایسی ریاست کے وزیراعظم ہیں جس کی تکمیلِ پاکستان کے لئے بے شمار ناقابلِ فراموش قربانیاں ہیں جو تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں لکھی جائیں گی۔ ریاست جموں و کشمیر کی پاکستان سے محبت کی مثال وہ 80 ہزار کشمیری مجاہدین بٹالین ہے جو سیاچین کے بارڈر پر ہو یا لائن آف کنٹرول پر، گرمی سردی بھوک پیاس کی پروا کیئے بغیر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر وطن عزیز کی حفاظت کرتی ہے۔ان 80 ہزار مجاہدین نے کبھی دشمن کو پاک سر زمین پر ایک انچ تک آگے نہ بڑھنے دیا اور جب کبھی دشمن نے ارادہ بھی کیا ہو تو اسے خاک میں ملا دیا ہے اور ہمیشہ اپنے محبِ وطن ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ لہذا کشمیریوں کی پاکستان سے محبت پر کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے اور یہ حقیقت وزیر اعظم آزاد کشمیر کو بھی معلوم ہونی چاہئے۔ کہ کشمیر بنے گا پاکستان ۔۔یہ نعرہ لگانے والے صادق اور امین ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...