چودھری پرویز الٰہی نے بھی آرٹس ایس کے ناکام ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

چودھری پرویز الٰہی نے بھی آرٹس ایس کے ناکام ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا
چودھری پرویز الٰہی نے بھی آرٹس ایس کے ناکام ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 پنجاب اسمبلی کے متوقع سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار شفاف انتخابات ہوئے ہیں۔ آر ٹی ایس کی ناکامی کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ سسٹم شریف برادران کی حکومت نے ہی لیا تھا۔ محمود اچکزئی کو ہرانے والا ایم ایم اے کا امیدوار تھا، سیاسی جماعتیں کس کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، چودھری صاحب مرنجان مرنج شخصیت ہیں، جوش جذبات میں ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں، جن کی بعد میں وضاحت کرنی پڑتی ہے۔ جب وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کو دس بار وردی میں صدر منتخب کرائیں گے، حالانکہ خود صدر کی اپنی خواہش ایک بار سے زیادہ وردی میں منتخب ہونے کی نہیں تھی، اسی لئے جب وہ وردی میں صدر منتخب ہوگئے تو تھوڑے عرصے کے بعد انہوں نے وردی اتار دی تھی اور چودھری صاحب کو دس بار وردی میں منتخب کرانے کے اعزاز سے محروم کر دیا تھا۔ پھر یہ بھی ہوا کہ وہ صدر تو پانچ سال کے لئے منتخب ہوئے تھے، لیکن 18 اگست 2008ء کو خود ہی استعفا دے دیا، حالانکہ انہیں کم از کم یہ عرصہ صدارت تو پورا کرنا چاہئے تھا جس کے لئے انہوں نے خاصی محنت کی تھی۔ سپریم کورٹ کو تہہ و بالا کیا تھا، کسی اختیار کے بغیر چیف جسٹس سے پہلے استعفا مانگا تھا اور جب وہ حسب خواہش نہ ملا تو انہوں نے چند ساتھی جرنیلوں کی ڈیوٹی لگائی کہ ’’اس سے استعفا لیں‘‘۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب افتخار محمد چودھری کو آرمی ہاؤس میں طلب کیا گیا تھا اور بعض کاغذات سامنے رکھ کر ان سے استعفا مانگا گیا تھا۔ افتخار چودھری نے انکار کیا تو صدر کا پارہ چڑھ گیا اور جو جرنیل وہاں موجود تھے، ان سے کہا کہ اس سے استعفا لیں۔ اس موقع پر انہوں نے افتخار محمد چودھری کے بارے میں ایک نازیبا لفظ بھی کہہ دیا تھا، جو انہوں نے سن لیا اور یہ سکہ واپس کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو وقت ہی ثابت کرے گا کہ اس کا مصداق کون ہے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ افتخار محمد چودھری کس طرح بحال ہوئے اور اپنے عہدے کی مدت پوری کرکے ریٹائر ہوئے، یہ الگ بات ہے کہ انہیں بھی جنرل پرویز مشرف کی طرح سیاسی جماعت بنانے کا شوق چرایا، اب دونوں سیاست میں ہیں اور یکساں خجل خواری کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ اس کوچے میں سابقہ عہدے کام نہیں آتے، سیاست کی اپنی دنیا ہے اور اگر اختیار ہاتھ میں نہ ہو تو یہ بڑی ظالم ثابت ہوتی ہے۔

دراصل بات ہو رہی تھی چودھری پرویز الٰہی کی، جنہوں نے کہا کہ اس الیکشن سے زیادہ شفاف الیکشن پاکستان میں کبھی نہیں ہوئے، یعنی وہ الیکشن بھی 2002)ء( نہیں جن میں مسلم لیگ (ق) کو حکومت سازی کا موقع ملا، اگرچہ انہیں سادہ اکثریت بھی حاصل نہ ہوئی، لیکن جنرل پرویز مشرف نے ریاستی اداروں کے تعاون سے ایسا انتظام کر دیا کہ پیپلز پارٹی توڑ دی اور اس میں 10 ارکان پر مشتمل پیٹریاٹس کے نام سے ایک گروپ تخلیق کیا، جس کے تمام ارکان وزیر یا مشیر بن گئے اور یوں پہلی بار مسلم لیگ (ق) کی حکومت قائم ہوئی۔

اس کے بعد 2008ء کے انتخابات میں پارٹی کو اگرچہ کافی نشتیں مل گئیں، تاہم پیپلز پارٹی نے حکومت بنائی اور آصف علی زرداری کے صدقے چودھری پرویز الٰہی نائب وزیر اعظم بن گئے۔ اب بھی وہ صرف چھ نشستوں کی قوت کی بنیاد پر سپیکر کا عہدہ لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے سودے بازی نہیں کی ورنہ عین ممکن تھا کسی نہ کسی طرح وزیراعلیٰ کا منصب بھی انہیں عطا ہو جاتا۔ 2002ء کے الیکشن کس نوعیت کے تھے، اس پر تو چودھری پرویز الٰہی نے کچھ نہیں کہا، لیکن اگر وہ شفاف بھی تھے تو بھی ان کی نظر میں ان انتخابات کا مقام موجودہ انتخابات کے بعد ہی آتا ہے۔ اگرچہ ان کے بیان کا منشا تو ظاہر ہے یہ نہیں تھا لیکن ان کا کوئی مخالف یہ توجیح بھی کرسکتا ہے کہ اگر 2018ء کے الیکشن شفاف ترین ہیں تو پھر 2002ء میں شفافیت کا رتبہ اور درجہ کیا تھا۔

مسلم لیگ (ق) کو 2008ء میں یہ شکایت تھی کہ اسے انتخابات میں ہرایا جا رہا ہے۔ انہی دنوں چودھری شجاعت حسین اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی ملے تھے اور ان سے شکوہ کیا تھا کہ انتخابات میں مداخلت کرکے ان کی جماعت کو ہرایا جا رہا ہے، اس وقت بھی صدر کے منصب پر جنرل پرویز مشرف موجود تھے، لیکن ان کا پیپلز پارٹی کے ساتھ این آر او ہوچکا تھا۔ اس لئے ان کی خواہش تھی کہ اب کی بار پیپلز پارٹی کو اقتدار ملے اور وہ اس جماعت کی حکومت کے بھی صدر رہیں، صدر تو وہ پہلے ہی منتخب ہوچکے تھے، لیکن عجیب بات ہے کہ چودھری شجاعت حسین نے اپنی شکایت آرمی چیف کو پہنچائی۔ صدر کو ایسا کچھ نہیں کہا، اب تو چودھری شجاعت حسین نے اپنی کتاب ’’سچ تو یہ ہے‘‘ میں لکھ دیا ہے کہ ایک بار سابق امریکی وزیر رچرڈ آرمٹیج ان کے گھر آئے تو انہوں نے ان سے شکوہ کیا کہ امریکہ نے انہیں انتخابات میں ہروا دیا ہے تو انہوں نے صاف کہا کہ ان کی شکست سے امریکہ کا کوئی تعلق نہیں تھا، تاہم ان کی شکست میں کونڈولیزا رائس (سابق امریکی وزیر خارجہ) کا کردار ضرور ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ آپ کے دو ’’گڈ فرینڈز‘‘ بھی آپ کی شکست کے ذمے دار ہیں، اس پر چودھری شجاعت حسین نے استفسار کیا کہ وہ کون ہیں تو انہوں نے کہا، ’’جنرل پرویز مشرف اور طارق عزیز‘‘ ان دو الفاظ پر چودھری شجاعت حسین کی کتاب ختم ہو جاتی ہے۔ چودھری پرویز الٰہی نے موجودہ انتخابات کو شفاف ترین قرار دے کر یہ مطالبہ ضرور کیا ہے کہ آر ٹی ایس کی ناکامی کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ان کے بقول یہ سسٹم شریف برادران کی حکومت نے خریدا تھا۔ حالانکہ سسٹم کی خریداری کا معاہدہ الیکشن کمیشن اور نادرا کے درمیان ہوا تھا۔ دونوں ادارے حکومت پاکستان کے ادارے ہیں اور اگر شریف برادران اس سسٹم کی خرابی کے ذمہ دار ہیں تو کیا مضائقہ ہے کہ اس پر بھی ایک مزید ریفرنس ان کے خلاف بنا دیا جائے، جہاں پہلے سے اتنے ریفرنس چل رہے ہیں، قومی مفاد میں ایک ریفرنس اور سہی، تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے، کہ اس سسٹم نے عین اس وقت کام کیوں چھوڑ دیا تھا جب پوری قوم نتائج کی منتظر تھی اور پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہی تھی۔

آر ٹی ایس

مزید : تجزیہ