قربانی کے بعد ملتی ہے آزادی

قربانی کے بعد ملتی ہے آزادی
قربانی کے بعد ملتی ہے آزادی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یوم آزادی کے ایک ہفتے بعد عید قرباں کی آمد آمد ہے۔ آزادی اور قربانی کا آپس میں جو گہرا تعلق ہے وہ غلامی کی زنجیر میں جکڑی قوم کو کیسے سمجھ آسکتا ہے۔ نہ ہی پاکستان زندہ باد کانعرہ لگا دینا حقیقی آزادی کا مظہر ہے اور نہ ہی عید قرباں پر صرف جانور ذبح کر دینا قربانی کا حقیقی درس ہے۔

قوم کو اگر حقیقی آزادی درکار ہے تو اسکے لئیے خالص قربانی دینی ہوگی۔ ستر سال ہوگئے وطن آزاد ہوئے دو فیصد لوگ آزاد ہیں اور انکی آزادی کی قیمت اٹھانوے فیصد غلام ظلم۔ جبر کی چکی میں پس پس کر ادا کرتے ہیں۔ آئین کیا ہے لوگوں کے بنیادی حقوق کیا ہیں ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہیں تعلیم۔ صحت۔ رہائش اور باعزت روزگار فراہم کرنا کس کی ذمّہ داری ہے شاید چند فیصد لوگ بھی اپنے حقوق سے آگاہی نہیں رکھتے ہیں ۔

2018 کا الیکشن بھی کورٹ کچہری کا انصاف اور بجلی پانی اور گیس کی فراہمی کے نعروں پر لڑا گیا ہے ۔وہ کام جو یونین کونسلر نے کرنے ہوتے ہیں اسکی ذمہ داری صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران سنبھال رہے ہوتے۔

عوام کے بنیادی حقوق کے لیئے قانون سازی نہ ہونے کے برابر ہیں کسی کو نیب سے بچانا ہو کسی کو جیل بھجوانا ہو ذاتی مفادات حاصل کرنے ہوں، کسٹم ڈیوٹی میں تبدیلیاں کرنی ہوں، اسکے لیئے ایمرجنسی میں کابینہ اور اسمبلی کے اجلاس ہوجاتے ہیں ۔قانون سازی ہوجاتی ہے۔ کابینہ سے منظوری مل جاتی ہے اگر یہ ممکن نہ ہو تو گورنر یا صدرِ مملکت سے آرڈنینس جاری کروا دئیے جاتے ہیں۔

طبیعت اور مزاج میں غلامی رکھنے والے ہم لوگ آزادی کے مفہوم کو حقیقی معنوں میں سمجھتے ہی نہیں ہیں ۔ یوم آزادی پر جھنڈا لگا دینا اور یوم پاکستان پر نعرہ لگا دینا۔ بغیر سائلنسر والی موٹرسائیکل ریلی نکال لینا ٹریفک جام کر دینا ہے۔ گلہ کر لینا سوشل میڈیا پر سیلفیاں لگا لینا بس اسی کا نام آزادی رکھ دیا ہے ۔

جنہوں نے دور غلامی میں جدوجہد کی ہو اپنے حق کو لڑ کر چھینا ہو سر کٹا لیا ہو مگر کبھی جھکایا نہ ہو ایسے لوگ تو چراغ لے کر بھی ڈھونڈو تو نہیں ملتے۔ایک گھر میں بھی اگر آزادی سے زندگی گزارنا چاہیں تو قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں، سمجھوتے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ طبیعت میں صبر اور برداشت ہو تو زندگی آسان ہوجاتی ہے۔

اگر ہم نے اپنے آپ کو آزاد مملکت کا شہری تسلیم کروانا ہے تو رویوں کو تبدیل کرنا ہوگا، اجتماعیت کو فروغ دینا ہوگا، اپنی ذات سے آگے دیکھنا ہوگا، پانی جیسی نعمت کی قدر کرنی ہوگی بجلی چوری۔ گیس چوری سے باز رہنا ہوگا وقت کی پابندی کو اپنا شعار بنانا ہوگا ۔پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا ایمانداری آپکا سلوگن ہونا چاہیے۔ تعلیم سب کے لیئے ہو ،صحتمند سارا معاشرہ ہو ، اسکے لیئے اپنی جھوٹی اناؤں کی قربانی دینی ہوگی ،نمود و نمائش اور فضول خرچی سے دور رہنا ہوگا چئیریٹی کو فروغ دینا ہوگا اپنے سے کمزور کا احساس کرنا ہوگا بس ایسی ہی چھوٹی چھوٹی قربانیاں دلائیں گی آپکو حقیقی آزادی کا احساس جسکی خوشیاں آپ اپنے من میں اترتی ہوئی محسوس کرینگے۔

سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ایسی جمہوریت کے لیئے جدوجہد کرنی ہوگی جسکے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں مزدور ہو یا کسان سب اس سے مستفید ہوں ایسے تعلیمی نظام کے لیئے کوشش کرنی ہے جہاں صرف ڈگریاں نہ ملیں بلکہ ہنرمندی کو جوہر چارسو نظر آئیں۔ جہاں میرٹ اور پروفیشنل ازم اداروں کی ترجیح ہو، جہاں شخصیات کے بجائے ادارے مضبوط ہوں ۔جہاں پالیسیوں میں تسلسل نظر آئے۔ ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں سب کے لیئے یکساں تعلیمی نظام ہو جہاں جنس کی بنیاد پر مسٹر اور ملا کی بنیاد پر زبان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ ہو۔ جہاں اکثریت اقلیت کے حقوق کی محافظ بن جائے۔ دنیائے عالم میں سبز ہلالی پرچم کی بلندیاں دیکھنی ہیں تو پہلے سچائی کا علمبردار بننا ہوگا ۔ 

جھوٹ کے تو پاؤں نہیں ہوتے بس لنگڑا لنگڑا کر انتشار برپا کر دیتا ہے،دنوں کی ترتیب ہے کہ ابکے برس آزاد کے بعد عید قرباں آرہی ہے ،اصل میں تو پہلے قربانیاں دینی پڑتی ہیں پھر کہیں جا کر عید آزادی نصیب ہوتی ہے 

؂کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ