رشتہ نہ ملنے پر بھاوج نے دیور کے بیٹوں پر ایسا جادو کرادیا کہ جنات بھی پناہ مانگنے پر مجبور ہوگئے

رشتہ نہ ملنے پر بھاوج نے دیور کے بیٹوں پر ایسا جادو کرادیا کہ جنات بھی پناہ ...
رشتہ نہ ملنے پر بھاوج نے دیور کے بیٹوں پر ایسا جادو کرادیا کہ جنات بھی پناہ مانگنے پر مجبور ہوگئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پیر ابو نعمان  رضوی سیفی

پاکستان میں کالا جادو کرنے والوں کو جیسے کھلی چھٹی مل چکی ہے ۔افسوسناک بات تو یہ ہے کہ مسلمان بھی اس مشرکانہ کام میں پڑ گئے ہیں اور ایسے غلط کام کرتے ہیں کہ وہ مسلمان کہلانے کے قابل ہی نہیں رہتے ۔وہ شیطان کی پوجا کرتے اور پیسے لیکر معصوم عورتوں اور مردوں کی زندگیاں اجاڑ دیتے ہیں ۔ایک دن میرے پاس ایک ایسا ہی کیس لایا گیا ۔معلوم ہوا کہ یہ لوگ ایک سال پہلے کراچی سے لاہور آئے تھے ۔میں سمجھا تھا کہ لاہور آنے کی وجہ انکی کراچی کے حالات ہوں گے ،اگرچہ یہ بھی وجہ تھی لیکن زیادہ بڑی وجہ کراچی سے لاہور ہجرت کرنے کی یہ بنی تھی کہ یہ صاحب جن کا شیخ وقار ہے ،ان کے بڑے بھائی اور بھاوج نے ان کا جینا حرام کردیا تھا ۔ان کے دوبیٹے ہیں ،دونوں نے اچھی تعلیم حاصل کی اور اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں مصروف ہوگئے تھے ،بڑے بھائی چاہتے تھے کہ یہ دونوں بھتیجے ان کے داماد بن جائیں ۔

شیخ وقار نے یہ باتیں مجھے اس وقت بتائیں جب ان کے حالات اس سطح پر پہنچ گئے تھے کہ جینے اٹھنے کوئی امید نہ رہی تھی۔کاروبار تباہ،گھرمیں بیماریاں اور دونوں بیٹے بستر سے لگ کر رہ گئے تھے ۔ڈاکٹروں سے علاج کے باوجود جب بیٹوں کو صحت نہ ملی اور کوئی مرض سامنے نہ آیا تو کسی جاننے والے کے توسط سے وہ مجھ تک پہنچے تو یہ حالات معلوم ہوئے کہ ان کے بھائی کی پانچ بیٹیاں تھیں ۔جن میں سے دو کی شادیاں وہ شیخ وقار کے ہاں کرنا چاہتے تھے ۔بات اتنی سادہ نہیں تھی۔

انکی بھاوج کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد انکے دونوں بیٹے کراچی انکے ہاں گھر داماد کے طور پر رہیں جبکہ شیخ وقار اور انکی بیوی کو بھی اپنی بھاوج کا مزاج پسند نہیں تھا ۔ایک زمانے میں اسکا تعلق بازار حسن سے تھا ۔بھائی نے اس پر دولت لٹائی اور پھر اس سے شادی اسکی ہی شرائط پر بھی کی ۔جس سے اس گھرانے کا تعلق بازارحسن سے قائم تھا ۔بیٹیوں کے لچھن ایسے تھے کہ شیخ وقار اپنی عزت کی وجہ سے بھتیجیوں کے بارے زبان بھی نہیں کھول سکتے تھے ۔

جب شیخ وقار نہ مانے تو بھاوج نے ایک کالا علم کرنے والے کو پیسہ دیااور اپنے دیور اور بھتیجوں کی زندگی غارت کرادی۔

اس بات کا احساس استخارہ کرنے کے بعد معلوم ہوگیا تھا کہ متاثرین جادو کے بدترین وار کا شکار ہوئے ہیں اور ان پر جو جنات چھوڑے گئے ہیں انہیں بھی تعویذوں سے باندھ دیا گیا ہے اور یہ تعویذکراچی کے ایک گندے نالے کے پاس دبا دئے گئے ہیں تاکہ جنات کہیں بھاگ نہ سکیں ۔یہ بہت مشکل اور خطرناک عمل ہوتا ہے جس میں جنات کی مدد سے مخالفوں پر عمل کرایا جاتا ہے ۔

جب بھی کوئی نوری علم کرنے والا متاثرین کا علاج کرتا ہے تو اسکی خود جان پر بن جاتی ہے کیونکہ وہ جنات سحرزدہ کی جان نہیں چھوڑتے۔یہ دوہرا عمل ہوتا ہے جو پہلے جنات پر کیا جاتا ہے ،جب جنات اس عمل سے غلام بن جاتے ہیں تو پھر ان پر دوسرا عمل کرکے انہیں اپنے شکار پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔یہ مہنگا عمل تھا ۔شیخ وقار کی بھاوج کے پاس پیسے کی کمی نہیں تھی اس لئے اس نے انتقام میں معصوموں کی زندگیوں کو داو پر لگا دیا تھا ۔مجھے اس عمل کو اتارنے میں خود بڑی مشکل پیش آئی لیکن اللہ کا کرم ہے کہ اس نے بندے کو اس خدمت کے لئے چنا ۔اللہ کے کلام کے سامنے کوئی کالا علم کھڑا نہیں رہ سکتا ۔البتہ عامل کا ایمان کامل ہونا چاہئے ۔کسی قسم کی طمع نہ ہو ،پشت پر بھی پیر دستگیر کا ہاتھ ہوتوکسی سحرزدہ کو اس مصیبت سے نجات دلائی جاسکتی ہے ۔میں آخر میں ہر مسلمان سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہر کسی کو چاہئے کہ موجودہ دور میں جس طرح موبائل وغیرہ زندگی کا لازمی حصہ بن گئے ہیں اور برائی کا سونامی ہر سو پھیلتا چلا جارہا ہے تو ہر کسی کو اپنی روحانی ڈھال کے طور پر روزانہ یہ دعا” لاحول لا ولا قوة الا باللہ “ بطور تسبیح اکیس مرتبہ پڑھنی چاہئے تاکہ وہ حسد ونظر اور کاروباری بے برکتی اور جادو ٹونہ سے بھی محفوظ رہ سکیں ۔( ۔peerabunauman@gmail.com )

مزید : مافوق الفطرت