"میرے پاس پاور نہیں بس باتیں کر سکتا ہوں" کس اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے یہ بات کہی؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

"میرے پاس پاور نہیں بس باتیں کر سکتا ہوں" کس اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے یہ بات ...

  


کراچی (ویب ڈیسک) میئر کراچی وسیم اختر کہتے ہیں کہ میرے پاس پاور نہیں ہے میں صرف باتیں کرسکتا ہوں لیکن جن کے پاس پاور ہے وہ تو کچھ کر سکتے ہیں۔شہر کے مختلف علاقوں میں دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں میئر کراچی نے کہا کہ کل ہم نے پورے شہر کا دورہ کیا تھا اور وفاقی وزیر بھی ساتھ تھے لیکن شہر میں جو تباہی ہوئی ہے اس کی کچھ وجوہات ہیں۔وسیم اختر نے کہا کہ اس شہر کے انفرا اسٹرکچر پر دس بارہ سال سے کوئی کام نہیں ہوا جس کی وجہ سے نیو کراچی، سرجانی، ملیر لانڈھی و دیگر تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ شہر کے مسائل حل کرنے کیلئے جو اقدامات ہونے چاہیئے ویسے نہیں ہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ شہر کی اہم سڑک شارع فیصل چھ سات جگہوں سے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے جبکہ شارع فیصل پر تعمیر نیا انڈر پاس ڈوبا ہوا ہے۔وسیم اختر نے کہا کہ دو بارشوں میں 27 لوگ مر چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست ہے کہ کراچی کو آفت زدہ شہر قرار دے۔میئر کراچی کا کہنا تھا کہ کل عید کی نماز ہے قربانی ہے۔ کہاں کریں گے کہاں جائیں گے لوگ! سندھ حکومت نہ خود کچھ کرتی ہے اور نہ ہی کرنے دے رہی ہے۔ بلدیہ ٹاون جاکر دیکھوں وہاں لوگ نماز نہیں پڑھ سکتے براحال ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اپنے علاقے اور گھر میں قربانی نہیں کر سکتا تو کے ایم سی کے سلاٹر ہاو¿س میں آجائے۔میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کو ہزار ارب سے زیادہ فنڈز درکار ہے۔ تین سال سے مسلسل چیخ رہا ہوں کہ سڑکیں بنانا بے سود ہے کیونکہ اس وقت انفراسٹرکچر اور سیوریج کے نظام کی ضرورت ہے۔وسیم اختر نے کہا کہ جب تک سیورج اور نالے ٹھیک نہیں ہوتے تب تک شہر میں پچاس کروڑ کی جگہ پچاس ارب بھی لگیں تو کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہاں پولیو اور ہیپاٹائٹس پھیل رہا ہے۔میئر نے فوج سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ نشیبی علاقوں کی رہائشیوں کی مدد کی جائے۔ پاک فوج نشیبی علاقوں میں فوری طور پر اپنی خدمات انجام دے اور جہاں ادارے نہیں پہنچ سکتے وہاں پہنچ کر لوگوں کو ریسکیو کرے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی