جنرل اسمبلی کے صدر کا دورۂ پاکستان

جنرل اسمبلی کے صدر کا دورۂ پاکستان

  

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سنگین صورتِ حال کے تدارک کے لئے اپنا جائز کردار ادا کرے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کشمیری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں دیئے گئے حقِ خود ارادیت کا استعمال کر سکیں۔ انہوں نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے جنرل اسمبلی کے 73ویں اجلاس کے صدر وولکن بوزکر سے ملاقات کے دوران انہیں کشمیر پر بھارتی قبضے کے ایک سال کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مقبوضہ وادی کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا، وولکن بوزکر کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کنجی ہے۔ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے علاقائی سیکیورٹی کو برقرار رکھنا چاہیے، مشکل چیلنجوں کو بات چیت اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے پُرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ فریقین درخواست دیں تو مینڈیٹ کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہوں۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے صدر کے ساتھ کشمیر، افغان امن عمل، یو این اجلاس کے لئے ماحولیاتی تبدیلی، اسلامو فوبیا، غیر قانونی مالی بہاؤ اور ترقی پذیر دنیا کے ساتھ اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، اب جنرل اسمبلی کے منتخب صدر نے، جس کا اجلاس آئندہ ماہ ہونے والا ہے، پاکستان کا دورہ کیا ہے، ان کا تعلق برادر ملک ترکی سے ہے۔ان کا دورہ اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر سمیت ان سے ان عالمی امور پر مثبت تبادلہ ء خیال کیا جو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں زیر بحث آئیں گے۔ بجا طور پر ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں جنوبی ایشیا میں امن کی کلید ہیں لیکن یہ چابی اسی وقت کار آمد ثابت ہو سکتی ہے جب مسئلہ کشمیر کا دوسرا فریق اس کے ذریعے تالہ کھولنے پر آمادہ ہو، بدقسمتی مگر یہ ہے کہ ستر سال سے زیادہ عرصے تک ان قراردادوں پر عمل نہیں ہو،ا پون صدی کا یہ عرصہ بھارت نے  لیت و لعل سے گزار لیا، اس عرصے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگیں بھی ہوئیں۔ مذاکرات بھی ہوئے، تاشقند اور شملہ جیسے معاہدے بھی ہوئے، ایک بھولا بسرا اعلانِ لاہور بھی ہوا تھا، ٹریک ٹو ڈپلومیسی کو بھی وقتاً فوقتاً آزمایا گیا لیکن مسئلہ اپنی جگہ قائم رہا اور جنوبی ایشیا کے امن کی چابی کہیں کھوئی رہی، ایک سال پہلے تو بھارت نے سارا نقشہ ہی بدل دینے کی کوشش کی اور اقوام متحدہ جس علاقے کو متنازع قرار دے چکی ہے اور اب بھی وقتاً فوقتاً اس کا اعادہ ہوتا رہتا ہے اسے تین حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی یونین کا حصہ بنا لیا اور اس کے ساتھ ہی کشمیر کی مسلم اکثریت والی ریاست میں ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کر دیا جو اب تک کسی روک ٹوک کے بغیر جاری ہے۔

 سوال یہ ہے کہ وہ چابی کہاں سے تلاش کی جائے گی جس سے جنوبی ایشیا کے امن کو لگا ہوا تالہ کھلے گا؟ جنرل اسمبلی کے صدر نے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے مینڈیٹ کے مطابق آمادگی بھی ظاہر کر دی ہے بشرطیکہ ”فریقین درخواست کریں“…… اب پاکستان تو عشروں سے کہہ رہا ہے کہ عالمی ادارہ اور عالمی قوتیں مسئلہ کشمیر حل کرائیں، یہ درخواست ایک بار پھر کر دی جائے گی لیکن کیا بھارت بھی ایسا کرے گا جو اس ضمن میں اقوام متحدہ کے کسی کردار کو بار بار رد کر چکا ہے۔ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی مسئلے کے حل کے لئے اپنی خدمات پیش کی تھیں اور بھارت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے لیکن  بھارتی قیادت نے رٹے رٹائے جملے دہرا دیئے کہ کشمیر دو طرفہ تنازع ہے، اقوامِ متحدہ کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ جب بھی کوئی بھارت کو ایسا مشورہ دیتا ہے اس کا جواب یہی ہوتا ہے۔ ایسے میں کیا پیش رفت ہو گی؟ اور کیا مذاکرات ہوں گے؟ جنرل اسمبلی کے صدر نے بھی اپنے کردار کی رادھا نچوانے کے لئے نو من تیل جیسی شرط رکھ دی ہے، کسے معلوم نہیں کہ بھارت ایسی کوئی درخواست نہیں کرے گا،یوں مسئلہ پہلے کی طرح خانہ نمبر ایک میں پڑا رہے گا۔

موجودہ حالات میں اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوئی بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات ہونے ہیں تو اس کے لئے جارحانہ سفارت کاری ضروری ہے۔ اس وقت جس انداز کی سفارتی کوششیں جاری ہیں،ان کے ذریعے عشروں سے جمود کے شکار مسئلے کے حل کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔ اس خاکے میں کوئی نیا رنگ بھرنا ہو گا، نہیں معلوم وہ تریاق کہاں سے آئے گا جس کے استعمال سے بھارت جنرل اسمبلی کو یہ درخواست پیش کرے کہ ہم اس تنازع پر بات چیت کے لئے تیار ہیں جسے ہم اپنے تئیں حل کر چکے اور ایک سال سے کشمیر کو بھارت کا حصہ بھی بنا چکے ہیں۔کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ بھارت بیٹھے بٹھائے، کسی دباؤ کے بغیر، محض ایک تجویز کے ذریعے جو باضابطہ طور پر پیش بھی نہیں کی گئی اور محض گفتگو کے طور پر سامنے آئی ہے، یوٹرن لے لے گا؟ اس کے لئے تو ضروری ہے کہ سفارتی کوششوں کا موجودہ انداز تبدیل کیا جائے اور اس میں ایسے نئے آپشن شامل کئے جائیں جن سے بھارت کوئی دباؤ محسوس کرے اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے آمادہ ہو۔

دنیا میں بہت سے مسئلے ایسے ہیں جو کشمیر کے عشروں بعد وجود میں آئے اور عالمی کوششوں کے ذریعے چند ہی برس میں اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئے۔ ملکوں کو کاٹ کر نئے ملک وجود میں لائے گئے حالانکہ اس کے لئے جدوجہد کا عرصہ دوچار سال سے زیادہ نہ تھا اور اگر تھا تو دنیا اس کے اثرات محسوس نہیں کر رہی تھی لیکن عالمی طاقتوں کی مصلحتیں چونکہ اس کی متقاضی تھیں اس لئے ایسا ہو گیا۔ کشمیری اس لحاظ سے بھی مظلوم ہیں کہ لاکھوں جانوں کی قربانی دینے اور تاریخ کی طویل ترین سیاسی جدوجہد کے باوجود آج بھی اپنے حق سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ نے جو قراردادیں منظور کیں، بھارت ان پر عمل نہیں کرتا،پھر بھی وہ کئی بار سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن رہ چکا ہے۔ کوئی سوال نہیں کرتا کہ جو ملک خود عالمی ادارے کی قراردادوں کا منہ چڑاتا ہے، وہ کیونکر اس کے ایک موقر ادارے کی غیر مستقل ہی سہی، رکنیت کا اعزاز پا سکتا ہے، لیکن ضابطوں کے تحت وہ اس میں کامیابی بھی حاصل کرتا ہے، اس بار تو پاکستان نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی، ایسے میں کون بھارت کو اس امر پر آمادہ کرے گا کہ وہ جنرل اسمبلی کے صدر کو درخواست دے کر پاکستان کے ساتھ ہمارا تنازع طے کرا دیا جائے، جناب بوزکر کا دورہ بہرحال پاکستان کے لئے اعزاز ہے۔ انہوں نے پاکستان کو میزبانی کا شرف عطا کیا۔ متنوع موضوعات پر تبادلہ ء خیال ہوا، کشمیر پر دل خوش کُن گفتگو بھی ہو گئی، یہی اس دورے کا حاصل ہے، ہم معزز مہمان کے ممنون ہیں کہ وہ وزیرخارجہ کی دعوت پر پہلی فرصت میں پاکستان آئے۔ 

مزید :

رائے -اداریہ -