تر ک صدر طیب اردگان پاکستان کے مخلص دوست 

تر ک صدر طیب اردگان پاکستان کے مخلص دوست 
تر ک صدر طیب اردگان پاکستان کے مخلص دوست 

  

26فروری 1954ء کو ترکی کے مشہور شہراستنبول میں پیدا ہونے والے ترک صدرطیب اردگان ترکی کے بارہویں صدر ہیں۔ قبل ازیں آپ 1994ء سے 1998ء تک استنبول کے میئر اور 2003ء سے 2014ء تک وزیر اعظم کے عہدہ جلیلہ پر فائز رہے۔ ملک میں پارلیمانی نظام حکومت کے بجائے صدارتی نظام حکومت کی تبدیلی کے بعد 10اگست 2014ء میں صدارتی نظام کے تحت ہونے والے پہلے انتخابات میں آپ نے واضح اکثریت حاصل کی اور ملک کے بارہویں اورصدارتی نظام کے تحت ہونے والے پہلے انتخاب میں 28اگست 2014ء کوپہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا جبکہ اپنی پہلی صدارتی مدت ختم ہونے کے بعد 24 جون2018ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوبارہ 52.59 فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور 9جولائی 2018ء میں دوبارہ زمام اقتدار سنبھالا اور اب تک ملک کے صدارتی اختیارت کے حامل ہیں۔ آپ ترکی کی برسراقتدار جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ آپ دینی اوردنیاوی تعلیم سے آراستہ اور حافظ قرآن ہیں۔ آپ کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ جب16-15 جولائی 2016ء میں ترک فوج کے ایک گروپ نے ان کے اور ان کی حکومت کے خلاف بغاوت کی تو عوام صدارتی محل کے سامنے باغی فوجیوں کے ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے اور باغیوں کو گرجدار آواز میں للکارا کہ پہلے آپ ٹینک ہمارے اوپر سے گزارو اورپھر صدارتی محل کی طرف جاؤ اور عوام کے غیض وغضب اور حکومت کی وفادار فوج نے بغاوت کو بری طرح کچل کر رکھ دیا اور باغی قید ہوئے جو آج بھی زندان خانوں میں ہیں۔

طیب اردگان ایک ایسے عوامی رہنما ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں جس وقت وہ برسراقتدار آئے توملک معاشی طور پر مستحکم نہیں تھا مگر قوم و ملک کے ایک مخلص رہنما کے طور پر انہوں نے بڑی محنت، تندہی اورشبانہ روزملک کومعاشی طور پر مضبوط بنانے پربھرپور توجہ دی ان کی یہ کوششیں رنگ لائیں اور14مئی 2013ء کو ترکی نے آئی ایم ایف قرضے کی آخری قسط ادا کر دی،جس کو ملک بھر کے عوام نے سراہا۔ آخری قسط ادا کرنے کے بعد انہوں نے آئی ایم ایف کوپانچ ارب ڈالر کا قرض دیا اوریوں 1952ء سے قرض لینے والا ملک اب قرض دینے والا ملک بن گیا۔ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے طیب اردگان صنعتی ترقی کو عروج پر لائے اور ساتھ ہی زرعی آلات، ٹیکسٹائل، آٹو موبائل انڈسٹری، سیاحت، ٹرانسپورٹ، تعمیراتی مشینری، عوامی استعمال کی الیکٹرانک مصنوعات، گھریلو استعمال کی اشیاء اورکاریں بنانے کی صنعت کو فروغ دیا اس وقت ترکی 180.2ارب ڈالرز کی برآمدات کررہا ہے جو جرمنی، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، عراق، امریکہ، اٹلی، فرانس اور سپین بھی جاتی ہیں۔ یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ چین ترکی کا سب سے بڑا کاروباری شراکت دار ہے۔

زمانہ طالب علمی سے لے کرعہد صدارت تک طیب اردگان کی زندگی ایک جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ اپنی تعلیم کے ابتدائی دنوں میں وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ذرائع آمدنی کے حصول کے لیے بھی مصروف عمل رہے اور ان کا یہ عمل ان کی تعلیم کے حصول میں کبھی آڑے نہیں آیا اور وہ بڑی محنت اور لگن کے ساتھ تعلیم پر بھرپور توجہ دیتے رہے اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی اوراپنے زمانہ طالب علمی میں وہ فٹ بال کے بڑے اچھے کھلاڑی بھی رہے اور اسی دوران نیشنل ترکش سٹوڈنٹ یونین جو ایک کیمونسٹ مخالف طلبا ء تنظیم تھی اس میں بھی بڑی سرگرمی سے حصہ لیتے رہے اور ان کی اس تنظیم میں منظم اور بھرپور عملی شرکت کے باعث انہیں 1976ء میں اس تنظیم کی ایک مقامی شاخ کا سربراہ بنا دیا گیا اور یہیں سے ان کے طویل سیاسی سفر کا آغاز ہوا اور رفتہ رفتہ ان میں سیاسی پختگی اور بالیدگی آتی گئی جب 1980ء میں اس وقت کی حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی اور اسے ختم کردیا گیااورنئے انتخابات کا اعلان ہوا تو طیب اردگان ایک فعال سیاسی جماعت ویلفیئرپارٹی میں شامل ہوگئے۔ اس پارٹی میں انکی سیاسی صلاحیتوں اور سیاسی کارکردگی کے باعث انہیں پارلیمنٹ کی ایک سیٹ پر انتخاب میں حصہ لینے کے لیے پارٹی ٹکٹ دیا گیا اور وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے۔

ان کی جماعت ویلفیئر پارٹی نے عام انتخابات میں باقی پارٹیوں کا صفایا کر دیا مگر اس پارٹی کے جملہ مخالفین نے متحد ہو کر ویلفیئر پارٹی پر انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات عائد کئے اور ایک منظم سازش کے تحت ان انتخابات کو کالعدم قرار دیدیا گیا اورویلفیئر پارٹی پر کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا جس پر پارٹی نے ملک گیر سطح پراحتجاجی جلسے جلوس نکالنے شروع کردئیے۔ 1998ء میں طیب اردگان کو ایک عوامی جلسے میں باغیانہ نظم پڑھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیااور ان پر تاحیات سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی اور انہیں کوئی سیاسی عہدہ رکھنے سے نااہل قرار دے دیا گیا،ان پر مقدمہ چلایا گیاجس کے تحت نہیں دس ماہ قید کی سزا دی گئی۔

ویلفیئر پارٹی مغرب کے دوہرے رویے کے خلاف تھی اس وقت سے طیب اردگان کے دل و دماغ میں مغرب کے خلاف جذبات نے جنم لیا  اور وہ مغرب کے دوہرے معیار کے خلاف ہوگئے اور انہوں نے برملا مغرب کے اس دوہرے کردار کے خلاف بولنا شروع کر دیا،2001ء میں انہوں نے اپنے ایک سیاسی دوست کے ساتھ مل کر موجودہ حکومتی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی بنیاد رکھی اور اپنے جلسے جلوسوں میں مغرب کے دوغلے کردار کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا۔ وہ اپنے خطاب کے دوران بڑی شدو مد کے ساتھ کہتے تھے کہ مغرب جو آزادیاں اپنے ملک اور ہم وطنوں کے لئے روا رکھتا ہے وہ ترکی کے لئے کیوں نہیں؟ پارٹی کے قیام کے ایک سال بعد 2002ء کے عام انتخابات میں ان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی، مگر سیاسی پابندیوں کے باعث طیب اردگان وزیر اعظم نہ بن سکے۔ ماضی کی طرح ان انتخابات کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا اور نئے انتخابات 2003ء میں کرانے کا اعلان کیا گیامگر اس دوران عوامی احتجاج اور مطالبے کی بنیاد پر ان پر سے سیاسی پابندیاں اٹھا لی گئیں اور اردگان جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے سربراہ بن گئے۔ 2003ء کے عام انتخابات میں انہیں بھر پورکامیابی حاصل ہوئی اور وہ پارلیمانی نظام حکومت کے باعث ملک کے پچیسویں وزیر اعظم بن گئے اور 2003ء سے 2014ء تک ترکی کے وزیر اعظم رہے۔

بعد ازاں جب ملک میں صدارتی نظام نافذ ہوا تو وہ 2014ء سے لے کر اب تک ترکی کے صدر ہیں۔ 13فروری2020ء کو طیب اردگان نے اپنی اہلیہ کے ساتھ دو دن کا پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ ان کا استقبال وزیر اعظم عمران خان اپنی پوری کابینہ کے ساتھ کیا۔ اس دور ے کے دوران ترک صدر نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا 2002ء سے لے کر اب تک یہ ان کا چوتھادورہ پاکستان تھا اور بحیثیت صدر یہ ان کا دوسرا دورہ تھا۔ اس دورہ کے دوران انہوں نے اعلیٰ سطحی حکومتی مذاکرات کے علاوہ پاک ترک بزنس فورم سے بھی خطاب کیا۔ پاکستان اور ترکی ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ، دوستانہ اور مخلصانہ تعلقات کے حامل رہے ہیں اور عالمی پلیٹ فارموں پر پاکستان اور ترکی میں باہمی یگانگت پائی جاتی ہے جس کی بناء پر 26اکتوبر2009ء میں انہیں پاکستان کا سب سے بڑا اعلیٰ سول اعزاز نشان پاکستان دیا گیا۔ فروری میں ان کے اس دورہ کے دوران لاہور میں  ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے ایک وارڈ کو پاک ترک شاندار تعلقات اورطیب اردگان کی پاکستان سے مخلصانہ دوستی کی بنیاد پر ہسپتال کے چیئر مین اور معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے  ایک وارڈ کو ترک صدر طیب اردگان کے نام سے موسوم کیا اور اس حوالے سے ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی حیثیت سے راقم الحروف نے ہسپتال کی ڈائریکٹر عائشہ نذیر اوراقبال حسین لکھویراکے ہمراہ پاکستان میں ترک سفیر احسان مصطفی یورداکل سے اسلام آباد میں قائم ترکی کے سفارتخانے میں ملاقات کی اور انہیں اس امر سے آگاہ کیا۔ جس پر ترک سفیر نے شکریہ ادا کیا اورانہوں نے ترک صدر طیب اردگان کوبھی اس حوالے سے مطلع کردیاہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم اور زیادتی ہورہی ہو تو طیب اردگان کھلم کھلا اس کی مخالفت کرتے ہیں اور مظلوم مسلمانوں کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا مظاہرہ ا ور ہمدردی کرتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطین طیب اردگان نے ہر دو مسائل کے حل کے لیے پور ی دنیا پر زور دیا ہے اور جس طرح بھی ممکن ہوا ان کی تائید اور حمایت کی ہے۔باایں وجہ عالم اسلام میں ان کو قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -