وزیراعظم کا دورہ لاہور، نئے لاہور کا سنگ بنیاد!

 وزیراعظم کا دورہ لاہور، نئے لاہور کا سنگ بنیاد!

  

نچلی سطح کی کرپشن پر برہمی، سرکاری ملازمین کو ٹھیک ہونے کی وارننگ، 

لاہور سے چودھری خادم حسین

ہفتہ رفتہ کے دوران وزیراعظم عمران خان لاہور آئے تو ان کا موڈ مختلف،تاہم خوشگوار تھا، لاہور میں اجلاسوں اور پھر نئے لاہور کے سنگ بنیاد کی تقریب میں وہ بہت زیادہ اعتماد کا مظاہرہ کرتے رہے، حتیٰ کہ انہوں نے فتح اندلس کو بھی یاد کیا اگرچہ طارق بن زیاد (فاتح اندلس) کا نام تو نہ لیا لیکن یہ کہہ دیا کہ دو سال گزار لئے، اب کشتیاں جلا دی ہیں، مڑکر پیچھے نہیں دیکھیں گے، انہوں نے جس منصوبے کا اعلان کیا اس میں سرمایہ کاری شاید پاکستان کے سب منصوبوں سے زیادہ ہو گی، اسی لئے سوال کیا جا رہا ہے کہ یہ سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ اور اس منصوبے کے لئے کتنی مدت درکار ہو گی اور کیا یہ تحریک انصاف کے آخری تین سالوں میں کوئی ایسی شکل اختیار کرے گا کہ اس کی تکمیل یقینی نظر آنے لگے۔ یہ میگا پراجیکٹ ”آن پیپر“ تو بہت ہی زبردست اور دل کو کھینچنے والا ہے کہ اس کی تکمیل خواہشات کا تاج محل ثابت ہو سکتی ہے، تاہم ماہرین اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کررہے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ ایسا ہو جائے گا؟

وزیراعظم جب بھی لاہور کا چکر لگاتے تو ہر بار وزیراعلیٰ پنجاب کو تھپکی دیتے کہ ان کی آمد سے پہلے کہا جاتا کہ وزیراعلیٰ کا ”تخت“ گرایا جانے والا ہے، لیکن کپتان اس بار آئے تو ان کو اپنے وسیم اکرم پلس کی تعریف کرنا یا کلّا مضبوط کرنے کی ضرورت نہ رہی تھی کہ بار بار کہنا اچھا نہیں لگتا، بہرحال اس بار وزیراعظم نے افسر شاہی کے اجلاس کی صدارت کی۔ پولیس کی بات کی اور تشویش کا اظہار کیا کہ نچلی سطح پر کرپشن بہت ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کو ہدائیت کی کہ وہ اس کا سدباب کریں بیورو کریسی اور پولیس کریسی سے انہوں نے یہ توقع باندھی کہ ان کو مراعات دی گئی ہیں تو وہ کارکردگی بھی دکھائیں، دوسری صورت میں نااہل حضرات کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ ایسے لوگوں کو گھر جانا ہوگا، وزیراعظم نے پٹواری اور ایس ایچ اوز کلچر ختم کرنے پر بھی زور دیا۔

فرزند راولپنڈی شیخ رشید کورونا سے صحت یاب ہو کر کچھ زیادہ ہی صحت مند ہو گئے ہیں اور باتیں بھی پہلے سے زیادہ ہی بے باکی سے کرنے لگے ہیں۔ اس کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ اس بار لاہور میں انہوں نے میڈیا سے جو گفتگو کی، وہ بھی سابقہ روایات کے مطابق محکمانہ کم اور سیاسی زیادہ تھی۔ محکمانہ ذکر تو یہ کیا کہ ایم ایل ون منصوبہ بہت بڑی تبدیلی کا باعث بنے گا اور نہ صرف ریلوے کا نظام بہترین اور جدید ہو گا بلکہ مسافر بھی سڑک سے ریل پر آ جائیں گے۔ اس کے ساتھ انہوں نے بتایا کہ ٹرینیں چلنا شروع ہو چکیں، اب مزید دس روٹوں پر دس گاڑیاں چلا رہے ہیں، اس کے بعد حسب سابق وہ سیاست پر اتر آئے اور پوچھا ”میں نے کہا تھا کہ عید کے بعد نیب تگڑا ہو گا دیکھا کہ اب بات برسراقتدار تک بھی آ گئی ہے۔ (شاید ان کا اشارہ وزیراعلیٰ کو طلبی کے نوٹس کا تھا) لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا نیب کا گھیرا تنگ ضرور ہو رہا اور ہوگا لیکن تحریک انصاف (یا حکومت) کا کوئی وزیر کرپشن میں ملوث نہیں، لوگ پوچھتے ہیں، آپ کلین چٹ بھی دے رہے اور گھیرے کی بات بھی کرتے ہیں، اس کا جواب نہیں دیا، البتہ جب ایک صحافی نے وزیرخارجہ کی طرف سے سعودی عرب کے بیان کے بارے میں پوچھا  تو انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ یہ ٹھیک بیان نہیں۔ میں بطور وزیر ایسا کہنے کی جرائت و ہمت نہیں کر سکتا، کسی اور وزیر نے ایسی تنقید بھی نہیں کی، تاہم شیخ رشید کہہ گئے کہ حکومتی جماعت کے رکن نہیں، حلیف ہیں اور ایسا کرتے رہتے ہیں۔

نیب کی طرف سے وزیراعلیٰ کو نوٹس بھیج کر طلب کرنے کا مسئلہ سوشل میڈیا کا بہت بڑا موضوع بن گیا ہے۔ ان کو آج (بدھ 12اگست) پیش ہونا ہے اور انہوں نے اعلان کیا ہے کہ نیب دس مرتبہ بھی بلائے تو وہ جائیں گے، نیب نے ان کو ایک زیر تعمیر ہوٹل کو شراب کا لائسنس جاری کرنے کے حوالے سے طلب کیا ہے اور یہ ایک دلچسپ کیس یا تحقیق ثابت ہو گی کہ غیر ملکیوں اور غیر مسلموں کے لئے لائسنس پہلے بھی موجود ہیں اور وہ ہوٹلوں ہی کے پاس ہیں، 

دوسری طرف نیب نے جاتی عمرہ اراضی کی خریداری اور منتقلی کے حوالے سے مریم نوازشریف کو بھی طلب کر رکھا ہے اور انہوں نے بھی پیش ہو کر سوالات کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ سوالات ان کو نوٹس کے ساتھ بھیجے گئے تھے۔گزشتہ روز جب مریم نواز پیشی کے لیئے گئیں تو مسلم لیگ کے کارکنوں کی بھاری تعداد پہلے ہی ٹھوکر نیاز بیگ نیب دفتر کے باہر موجود تھی،کورکنوں کی نعرہ بازی تصادم میں تبدیل ہو گئی،اور پولیس سے بڑی جھڑپ ہو گئی آنسو گیس لاٹھی چارج اور پتھراؤ کا زبردست مقابلہ ہوا،متعدد گرفتاریاں عمل میں آئیں،اس ہنگامے کی وجہ سے مریم اندر نہ جا سکیں اور نیب نے یہ پیشی ملتوی کر دی، ادھر مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ سطح کمیٹی نے کل جماعتی کانفرنس والی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلانے کی درخواست کی اور اکرم درانی سے رابطہ کیا، مسلم لیگ (ن) اب جلد آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کے حق میں ہے۔ بلاول بھٹو پہلے ہی تیار ہیں، تاہم سابقہ ”خلش“ کے باعث نہ صرف جمعیت علماء اسلام معترض ہے بلکہ اے این پی اور دوسری جماعتوں کو بھی شکوے ہیں۔ شائد رابطہ کمیٹی کا اجلاس بھی ان ابتدائی شکوک کو دور کرنے کے لئے بلانے کی اپیل کی گئی ہے۔ دیکھئے مستقبل کیا دکھاتا ہے ؟۔

مزید :

ایڈیشن 1 -