مسئلہ کشمیرکے حل کی خواہش اور پاکستان کا مطالبہ

 مسئلہ کشمیرکے حل کی خواہش اور پاکستان کا مطالبہ

  

اقوام متحدہ کے نئے صدر کی اسلام آبادآمد

افغانستان میں امن کی کوشش اچھی پیش رفت ہوئی

سیاسی ڈائری اسلام آباد

ملک بھر کی طرح وفاقی دارالحکومت میں بھی مون سون کا موسم جوبن پر ہے موسلادھار بارشوں کے سلسلے جاری ہیں اگرچہ اسلام آباد اپنے منفرد لینڈ سکیپ کی بدولت عمومی طور پر بارشوں کے باعث سیلابی خطرے سے محفوظ رہتا ہے۔ تاہم بہت زیادہ بارشوں کی صورت میں سسلی اور راول  ڈیم کے سپل وے کھولنے سے ملحقہ علاقے زیر آب آنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ تاہم جڑواں شہر راولپنڈی میں نالہ لئی ہر سال برسات کے موسم میں ضرور بپھر تا ہے جس سے جانی و مالی نقصان ہوتا ہے ہر بار ضلعی انتظامیہ نالہ لئی میں سیلاب آنے سے متحرک تو ضرور ہوتی ہے لیکن جیسے ہی مون سون کا موسم گزر جاتا ہے تو انتظامیہ بھی نالہ لئی کے سیلاب کے تدارک کے لئے ٹھوس اقدامات کے بجائے خواب غفلت کا شکار ہو جاتی ہے اب دیکھتے ہیں اس سال کیا صورت ہوتی ہے۔ حالانکہ محکمہ موسمیات نے اس سال معمول سے زائد بارشوں کے امکانات کی پیشن گوئی کر رکھی ہے۔ بارشوں سے گرمی کی شدت میں تو نمایاں کمی واقع ہوئی ہے لیکن حبس بڑھ گیا ہے جبکہ دارالحکومت کے سیاسی درجہ حرارت میں تو کمی واقع نہیں ہوئی لیکن اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کی ٹھنڈی میٹھی سیاست سے حکومت مخالف حلقوں میں سیاسی حبس بڑھ گیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادت نیب کے نشانہ پر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے پاس کوئی واضع اور ٹھوس لائحہ عمل نہیں ہے۔ ان دونوں جماعتوں کی قیادت کے رویہ سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی زیادہ پر امید نہیں لگتے۔ مولانا سخت گیر رویہ اور موقف کے حامل ہیں تاہم پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے مطمئن نظر آتے ہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی ان دونوں بڑی جماعتوں کے رویہ سے ان کے بعض اپنے حمایتی حلقے بھی شاکی نظر آتے ہیں۔ دارالحکومت میں بہت سوں کا خیال ہے کہ اپوزیشن کی قیادت حکومت کے خلاف صرف ”ہوائی فائرنگ“ کر کے اپنے اپنے ووٹروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ہے دونوں جماعتوں کی قیادت کیسوں کے چنگل میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ دارالحکومت کے سیاسی افق پر اپوزیشن کی سیاست کے حوالے سے دھند چھائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزراء و رفقاء کار پہلے سے زیادہ با اعتماد نظر آتے ہیں 

 حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ ان کی حکومت کو باہر سے کوئی سیاسی خطرہ درپیش نہیں ہے تاہم حکومت کو اندر سے خطرات لاحق ہیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکومتی حلیف سیاسی جماعتیں بھی نالاں ہیں جو موقع ملتے ہی چودھری برادران ہوں، ایم کیو ایم یا دیگر ہوا دینے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی حکومت کی سیاسی نزاکتوں اور مصلحتوں کو جانتے ہوئے پنجاب میں کسی تبدیلی سے گریزاں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان بطور کپتان شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب یا مرکز کے نازک سیاسی سیٹ اپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ مہنگی پڑ سکتی ہے تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حوالے سے بعض تحفظات کے ازالہ کے لئے انہوں نے صوبہ میں اعلیٰ بیورو کریسی کی تعیناتی میں وزیر اعظم ہاؤس کا کردار رکھا ہوا ہے۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان اب قدرے اعتماد کے ساتھ بیٹنگ کر رہے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں وزیر اعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس کی مدد سے ایک ملک گیر شجرکاری مہم کا آغاز کیا ہے در حقیقت وزیر اعظم عمران خان ملک کے نوجوانوں کو رضا کارانہ طور پر فلاحی کاموں میں مشغول کر کے انہیں مستقبل میں سیاسی دھارے میں لانے کی تربیت اور ترغیب دے رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ملک خطے اور عالمی سیاست کے تقاضوں کے باعث ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے اس بدلتی ہوئی خطے کی صورتحال کے باعث اقوام متحدہ کے 75 ویں سالانہ اجلاس کے صدر دولکان بوزکیز کا دورہ پاکستان غیر معمولی حیثیت کا حامل ہے۔ بالخصوص مودی سرکار کی جانب سے اقوام متحدہ کی  قراردادوں کو رد کر کے مقبوضہ کشمیر کے بھارت سے الحاق کے بعد کی پیدا کردہ صورتحال میں یہ دورہ ایک اہم سفارتی  پہل گردانی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے صدر وولکان بوکیز جو ترکی نژاد ہیں پہلے بھی کسی اعلیٰ سفارتی حیثیت میں پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں لیکن موجودہ حیثیت میں یہ ان کا کسی ملک کا پہلا دورہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے پر زور دیا جس کی انہوں نے حمایت کی 

 کئی دہائیوں سے خانہ جنگی اور دہشت گردی کے شکار ہمسایہ ملک افغانستان میں پاکستان کی مدد سے شروع ہونے والے امن عمل میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔ پاکستان کے افغانستان کے لئے خصوصی نمائندہ محمد صادق کی سفارت کاری کی دھوم افغان دیرینہ تنازعہ کے حل میں بار آور ہو رہی ہے۔ اگرچہ اس اثنا میں پاکستان نے افغانستان کو بھارت سے براہ راست تجارت کی یک طرفہ اجازت دے کر بہت بڑی رعایت دی۔ امریکہ کا بھی اس حوالے سے خاصا دباؤ تھا لیکن دوسری جانب افغان انتظامیہ نے طالبان قیدیوں کی رہائی کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ افغان طالبان اور امریکہ کابل انتظامیہ کے مابین امن مذاکرات کے حوالے سے یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے بعض پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں جنہیں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی اگر او آئی سی سے کشمیر کے حوالے سے توقعات پوری نہ ہوئیں تو پاکستان او آئی سی سے ہٹ کر بھی بعض متبادل فورم کی مدد کے لئے متحرک ہو سکتا ہے تاہم سعودی سفیر الملکی نے اس حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اہم ملاقات کی ہے اب گیند سعودی عرب کی کورٹ میں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

ایڈیشن 1 -