ملتان نظرانداز،بہاول پور ہی مرکز ہو گا

ملتان نظرانداز،بہاول پور ہی مرکز ہو گا

  

جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کا مسئلہ حل نہیں پیچیدہ ہو گیا،

ملتان سے شوکت اشفاق

ایک ایسے وقت میں جب طویل لاک ڈاؤن کے بعد پابندیاں اٹھائی یا نرم کی جارہی ہیں ضروری ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے زیادہ احتیاط کی جائے کیونکہ چند ممالک کو چھوڑ کر دنیا بھر کے  ممالک میں اس مرض سے متاثرہ مریضوں کی تعداد پھر بڑھنے لگی ہے خصوصا امریکا اور یورپ میں یہ سر اٹھا رہا ہے،اس کی بنیادی وجہ وہاں بھی لاک ڈاؤن پابندیوں کو نرم کرنا ہے،صحت سے متعلقہ بین الاقوامی ادارے بھی بار بار یاد دہانی کروا رہے ہیں کہ یہ مرض ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا مگر کاروبار زندگی کو رواں رکھنے کیلئے ضروری ہے لگائی جانے والی پابندیوں میں نرمی کی جائے لیکن احتیاطی اور حفاظتی تدابیر کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے وجہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے سے عوام نے یہ سمجھ لیا ہے کہ شاید کرونا اب ختم ہوچکا ہے لیکن ایسا بالکل نہیں ہے خصوصا پاکستان میں یہ مرض ابھی تک موجود ہے، تاہم ہمارے پاس مکمل ڈیٹا نہ ہونا،ایک اور دوسری وجہ مرض کی تشخیص کیلئے ٹیسٹ کو روکنا یا اس کی سہولت نہ ہونا ہے،جبکہ سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں پر عدم اعتماد ایک اور اضافی وجہ ہے،سرکاری ہسپتالوں میں خوف اور نجی میں مہنگے علاج کی وجہ سے لوگ نہیں جارہے اور اب جبکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر لاک ڈاؤن تقریبا ختم کردیا گیا ہے تو اس کیلئے جاری کئے گئے ایس اوپیز پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ عوام اس کی پرواہ کئے بغیر ایک مرتبہ پھر ہجوم کی صورت میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں،سیاحتی مقامات پر اس قدر رش ہوچکا ہے کہ ٹریفک تک جام ہورہی ہے،شمالی علاقہ جات ڈیرہ غازی خان کے خوبصورت مقام (راکھی گاج)فورٹ منرو میں دو دن تک سڑکیں بلاک رہیں،اسی طرح بازاروں میں ایسا رش ہورہا ہے کہ جیسے پہلے کبھی یہ کھلے ہی نہ تھے۔ابھی عبدالضحیٰ ختم ہوئی ہے اور محرم الحرام کی آمد ہے مجالس اور عزاداروں کے اکٹھ ہونے ہیں جو ایک خطرناک اور نقصان دہ ہوگا کیونکہ یہ مرض ہجوم میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔مگر انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پر خاموش ہیں اور کسی قسم کی نہ تو آگاہی مہم چلا رہے ہیں اور نہ ہی عوام کو ہجوم کی صورت میں اکٹھے ہونے سے روک رہے ہیں سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ذمہ داران خود بھی مختلف نجی اورعوامی تقریبات میں ہجوم میں نظر آتے ہیں اب اس پر اللہ تعالیٰ سے رحم کی بھیک ہی مانگی جاسکتی ہے 

 میٹرو بس سروس،پبلک ٹرانسپورٹ،سینما،تھیڑ،ہوٹل،پارک اور مزارات کھول دئیے گئے ہیں لہذا اب عوام پر منحصر ہے کہ وہ اس سہولت کا فائدہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اٹھاتے ہیں یا پھر مرض کے پھیلاؤ میں معاؤنت کرکے مزید نقصان کرتے ہیں۔ادھر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو ابھی فعال نہیں کیا گیا،دو ایڈیشنل تعینات کرکے معاملا  چلا تو لیا گیا ہے جس پر تمام مکاتب فکر نے اپنے اپنے انداز اور ضرورت کے مطابق احتجاج بھی کیا ہے،ان  پر وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے اپنے ارکان اسمبلی کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے جواب دینے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی جواب بن نہیں سکا اور بات وہی درست ہے کہ جنوبی پنجاب کا سیکرٹریٹ دراصل بہاولپور میں ہی بنے گا مگر ”وزٹینگ“سائیڈ پر ملتان اور ڈیرہ غازی خان ہوں گے،اس کو سمجھنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے کہ بہاولپور کو مرکز ضرورت کے تحت بنایا گیا ہے اس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت کوئی حکومتی عہدیدار کسی قسم کا کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ مخدوم شاہ محمود قریشی بھی قسمت کا لکھا جان کر تسلیم کرچکے اور اب زور لگا رہے ہیں کہ اشک شوئی کے طور پر ملتان میں ایک آدھ ایڈیشنل سیکرٹری ہی مستقل بنیادوں پر تعینات ہوجائے۔جو ممکن تو ہے لیکن ابھی نہیں کیونکہ پالیسی اور ضرورت کے مطابق یہ تمام بہاولپور میں ہی ہونا ہے اسی تناظر میں کچھ ارکان اسمبلی کے ہمراہ انہوں نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی جس کا تاثر یہ تھا کہ یہ ملتان کے ارکان اسمبلی کا نمائندہ وفد ہے جو سیکرٹریٹ کے مسئلہ پر وزیر اعلیٰ سے بات چیت کرے گا مگر شنید یہ ہے کہ ایک صوبائی وزیر اور دو ایم این اے کے ہمراہ ہونے والی اس ملاقات کا پی ٹی آئی کے باقی ارکان اسمبلی نے حددرجہ برا منایا ہے جس کا برملا اظہار مختلف فورم پر کرتے نظر آتے ہیں اور موقف اختیار کررہے ہیں کہ ملتان کے عوام اور سول سوسائٹی کا اس حوالے سے پریشر وہ برداشت کرتے رہے ہیں اب ہمیں علیحدہ کردیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مذکورہ تمام ارکان اسمبلی کسی عوامی اجتماع یا اپنے حلقوں میں جانے سے گریزاں نظر آتے ہیں البتہ محتاط انداز میں اپنے ڈیروں کی رونقیں بحال رکھی ہوئی ہیں کیونکہ انہیں یہ ادراک ہوچکا ہے کہ سیکرٹریٹ کے حوالے سے ان کی شنوائی مشکل ہے اور جو فیصلہ ہوچکا اس پر عملدر آمد ہی ہوگا تاہم مخدوم شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکرٹریٹ کو مکمل بحال کرنے کیلئے مختلف محکموں کے سیکرٹریز بہت جلد یہاں تعینات ہوں گے اور سیکرٹریٹ کو انتظامی اور مالیاتی خود مختاری دی جائے گی لیکن پی ٹی آئی کے یہ تمام ارکان اسمبلی بتانے سے قاصر ہیں کہ کیا سیکرٹریٹ کے فعال ہونے سے این ا یف سی ایوارڈ اور صوبائی محاصل کی تقسیم منصفانہ ہوگی کیونکہ قبل ازیں اس خطے کے فنڈز بجٹ میں مختص کرکے کچھ عرصہ بعد واپس لے لئے جاتے رہے ہیں اور باقی ماندہ جو فنڈز باقی بچتے ہیں انہیں انتظامی امور میں کھپا دیا جاتا ہے اور کیا ا ب بھی یہی کچھ ہونے جارہا ہے کہ فنڈز کی تقسیم کا کوئی فارمولا تو سامنے نہیں آیا البتہ سیکرٹریٹ کے قیام پر متفق نظر آتے ہیں تو پھر کیا بچے کچھے جو فنڈز ملتے ہیں وہ بھی ماضی کی طرح سیکرٹریٹ کے انتظامی امور پر خرچ ہوجائیں گے یہ ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جس پر ابھی تک وزیر اعلیٰ سمیت کس نے لب کشائی نہیں کی۔

 پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود نے حکومت ختم ہونے کے کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہونے کی نوید سنا دی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کو گرانا کوئی مشکل کام نہیں، تاہم اپوزیشن طے شدہ لائحہ عمل کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے، خواجہ رضوان عالم اور عبدالقادر شاہین کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں کو حکومت کی ناکامی اور سیاسی انتقام قرارد یا اور کہا کہ یہ جمہوریت نہیں آمریت ہے،نالائق حکمرانوں پر اپوزیشن کا خوف طاری ہے ملکی معیشت تباہ کردی گئی ہے کاروبار ٹھپ اور ملک خسارے میں چل رہا ہے اور عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں۔دوسری طرف ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں شجر کاری مہم کا آغاز تو کردیا گیا ہے لیکن سرکاری انتظامیہ کے کاریگر،سرکاری جماعت کے عہدیداروں کے ساتھ مل کر کارروائیوں اور فوٹو سیشن میں مصروف ہیں اور ایسی جگہ پودے لگا کر تصویریں بنوائی جارہی ہیں جہاں کئی دہائیوں سے پہلے ہی ہریالی موجود ہے،اس نام نہاد کارروائی کی روایتی اور سوشل میڈیا پر تشہیر کی جارہی ہے حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ ایسی ہی انتظامیہ کی ملی بھگت سے شہر اور گردو نواح میں سایہ دار اور پھل دار درختوں کا جو قتل عام ہوا تھا وہاں توجہ دی جاتی،نہروں،سڑکوں اورمختلف ہاؤسنگ کالونیوں،جہاں سے یہ درخت اکھاڑ دئیے گئے،میں یہ مہم چلائی جاتی لیکن ایسا نہیں ہورہا اور یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا یہ ویژن بھی ان کے اپنے عہدیداروں اور ان کی منتخب کردہ انتظامیہ کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے گا جس طرح کے ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

ایڈیشن 1 -