آصف علی زرداری کے خلاف فرد جرم عائد،

آصف علی زرداری کے خلاف فرد جرم عائد،

  

صھت جرم سے انکار، کاروائی ویڈیو لنک کے ذریعے ہوئی،وکیل کی  عدم موجودگی پر پی پی والوں کا اعتراض۔

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

سابق صدر آصف علی زرداری جن کے خلاف نیب ایگزیکٹو بورڈ نے گذشتہ برس جولائی میں ریفرنس دائر کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، اپنی گرفتاری کے دوران صحت کے مسائل سے دوچار ہوئے، بعدازاں عدالتی حکم سے انہیں اسلام آبادسے کراچی منتقل کردیا گیا تھا، گذشتہ کئی ماہ سے شدید علیل ہیں۔ اس دوران ان کے متعلق ایسی خبریں بھی زبان زدعام ہوئیں جن سے ان کے قریبی رفقاء کو شدید پریشانی بھی لاحق رہی اور بالاخر انہیں وضاحت دینا پڑی کہ وہ تندرست ہورہے ہیں اور گھر پر ہی علاج جاری ہے،مولانا فضل الرحمن ان کیلئے وجہ رحمت بھی ہیں اور مشکلات کا باعث بھی، ان سے ملاقات کیلئے وہ بستر علالت سے اٹھ کر آئے اور مکمل احتیاط کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی میں ملاقات کی، شاید اس کے بعد ہی نیب عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ اب وہ روبصحت ہورہے ہیں اور ان پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے اب موزوں وقت ہے۔چنانچہ  احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے پاک لین ریفرنس کے سترہ ملزمان بشمول سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف جرم عائد کی، ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ کمرہئ عدالت میں موجود میڈیا نمائندوں کا کہنا ہے کہ سابق صدر کی آواز سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کافی حد تک روبصحت ہیں، انہوں نے بھرپور انداز سے گفتگو کی، گذشتہ کئی ماہ سے انہوں نے پارٹی اجلاس کی صدارت نہیں کی، لیکن اب وہ بہتر دکھائی دے رہے تھے۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف اس لیے مقدمات بنائے جارہے ہیں کیونکہ انہوں نے آئین میں اٹھارویں ترمیم کروائی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اٹھارویں ترمیم ان کے خیال میں ملک کیلئے بہتری لائی تو انہیں اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن آج ملک کی اندرونی صورتحال نے یہ ثابت کردیا ہے کہ صوبائی خودمختاری سے صوبوں کے حالات بھی خراب ہوئے ہیں۔ بہرحال یہ ایک طویل  بحث ہے جس کے حق اور مخالفت میں دونوں اطراف دلائل موجود ہیں۔ اگر آج صوبے بہت زیادہ ترقی کرگئے ہوتے تو اس کا کریڈٹ بھی آصف علی زرداری کو دیا جاتا، لیکن جو صورتحال خا ص طور پر کراچی کی نظر آرہی ہے اس سے اس ترمیم کے حوالے سے سوالیہ نشان لگ چکا ہے 

سپریم کورٹ آف پاکستان کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد، سندھ حکومت اور میئر کراچی سمیت کراچی الیکٹرک کے حکام پر خوب  برسے اور میئر کراچی  سے خاص طور پر سخت الفاظ سے مخاطب ہوئے۔ یہاں تک کہا کہ آپ کا عہدہ کب ختم ہورہا ہے، جب وسیم اختر نے کہا کہ 28اگست! تو چیف جسٹس غصے میں گویا ہوئے کہ جاؤ اور جان چھوڑو شہر کی!  اگر اختیارات نہیں تھے تو کیوں میئر بنے بیٹھے ہوئے ہو۔ میئر کراچی وسیم اختر نے گذشتہ چار سال سے عوام کے ساتھ ساتھ عدالت سے بھی بہت سخت ریمارکس سنے ہیں۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان جو کچھ بھی ہو لیکن اس کی بھاری قیمت وسیم اختر اور مراد علی شاہ ادا کررہے ہیں۔ دونوں اپنی اپنی پارٹی قیادت کی محبت میں سخت لہجے کا سامنا کرتے ہیں، سیاسی طور پر ڈس کریڈٹ بھی ہوتے جارہے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہئ کراچی میں توقع کی جارہی ہے کہ شجرکاری مہم کے ساتھ ساتھ کچھ اچھی خبریں بھی سننے کو ملیں۔ بارشوں سے جو شہر کی صورتحال ہوئی اس سے 19 افراد جان سے گئے، وزیراعظم کے احکامات کی روشنی میں ایف ڈبلیو او نے بڑے نالے صاف کیے تو سندھ کابینہ کے بیشتر اراکین وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے ہمراہ بارش میں سڑکوں پر گھومتے دکھائی دیئے۔ انہوں نے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ اس دگرگوں صورتحال میں بھی وہ کام کررہے ہیں۔ لیکن میڈیا کے بیشتر ادارے اندرونی صورتحال بھی آشکار کرتے رہے کہ واٹر بورڈ کی مشینری گذشتہ کئی برسوں سے خراب پڑی ہے۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ورکشاپ سے اطلاعات آئیں کہ حکومت سندھ کو مشینری کی مرمت کیلئے سمری بھجوائی گئی تھی لیکن اس پر کچھ کام نہیں ہوا۔ اس لیے ہنگامی حالات میں واٹر بورڈ کے پاس سازوسامان ہی موجود نہیں، یہ وہ المیہ ہے جس کے باعث معمولی بارش بھی شہر کے نظام کو برباد کردیتی ہے۔ 

کورونا وائرس میں پورے ملک میں کمی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں، شرح اموات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، اسی وجہ سے حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ حکومت کے ہاتھ میں کوئی سوئچ تھا جسے آف کردیا گیا ہے۔ بالاخر سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔ اقتصادی سرگرمیاں جو انڈسٹری کو بحالی کیلئے درکار ہیں، امید کی جارہی ہے کہ تعمیرات کی صنعت میں حکومتی مراعات سے میسر آئیں گی۔

اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب ڈالرز سے زائد ہیں۔ انٹرنیشنل ایجنسی موڈی نے پاکستان کیلئے بہتر ریٹنگ جاری کی ہے۔ اسٹاک ایکسچینج بہت بہتر پرفارم کررہی ہے۔ لاک ڈاؤن کے باوجود برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور تجارتی خسارہ 78فیصد کم ہوا ہے۔ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ میں قانون سازی بھی کرلی ہے۔ اس لیے پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں کے اعشارئیے مثبت رحجان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ 

وفاقی وزیر بحری امور سید علی زیدی نے ترمیم شدہ شپنگ پالیسی جاری کی ہے۔ جس میں 2030ء تک انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دی گئی ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے ساحل پاکستان کیلئے روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ دنیا کے جس ملک کے پاس اتنی بڑی ساحلی پٹی ہو، اس کے عوام کیلئے رو زگار کے مواقع ہونا یقینی ہے۔ پاکستان کا سمندری علاقہ بلوچستان کے رقبے کے تقریباً برابر ہے۔ گویا ہمارے پاس ایک سمندری صوبہ بھی موجود ہے، پاکستان کے سمندری وسائل ان گنت ہیں، وفاقی حکومت سنجیدگی سے اس پر توجہ دے تو بارہ ماہ قابل استعمال سمندر پاکستان کی تقدیر بدلنے میں معاون ثابت ہوگا۔

بحری امور کی وزارت ایم کیو ایم کے پاس رہی ہے، بابر غوری اس کے وزیر تھے، کئی سالوں سے ملک سے فرار ہیں، ان کے دور میں دیگر بے قاعدگیوں کے علاوہ نیٹو اسلحہ کے ہزاروں کنٹینرز غائب ہوئے، نجانے ابھی تک کتنا اسلحہ کراچی اور اس کے مضافات میں زیرزمین دفن ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

ایڈیشن 1 -