راحت         اندوری

   راحت         اندوری

  

ہاتھ خالی ہیں تِرے شہر سے جاتے جاتے

جان ہوتی، تو مِری جان!لُٹاتے جاتے

اب تو ہر ہاتھ کا پتّھر ہَمّیں پہچانتا ہے

عُمر گذری ہے تِرے شہر میں آتے جاتے

رینگنے کی بھی اِجازت نہیں ہم کو، ورنہ!

ہم جِدھر جاتے، نئے پُھول کھلاتے جاتے

مجھ میں رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید

لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے

اب کہ مایُوس ہُوا یاروں کو رُخصت کر کے

جا رہے تھے، تو کوئی زخم لگاتے جاتے

ہم سے پہلے بھی مُسافر کئی گزرے ہونگے

کم سے کم، راہ کا پتّھر تو ہٹاتے جاتے

مزید :

صفحہ آخر -