تالپور روڈ، سیوریج کا پانی گلیوں اوردفاتروں میں داخل

تالپور روڈ، سیوریج کا پانی گلیوں اوردفاتروں میں داخل

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی واٹر اور سیوریج بورڈ اورکے ایم سی نے ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود سٹی پریس کے قریب تالپورروڈپر سیوریج کا پانی صاف نہ کرنے سے سینکٹروں افراد کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔تفصیلات کے مطابق تالپورروڈریلوے پھاٹک کے بعد سیوریج کاپانی سڑکوں،دفاتروں،ہسپتال اور مسکین گلی کے مکینوں کیلئے عذاب بن کر رہ گیا ہے۔ایک ماہ سے زائد عرصہ گرجانے کے بعد بھی صفائی نہ کرائی جاسکی جس کی وجہ سے یہاں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ بھی لاحق ہوگیا ہے۔تالپور روڈ پر سٹی پریس،مہر سنزاسٹیٹ،مانڈوی والا بلڈنگ سمیت دیگر اہم دفاتر بھی قائم ہیں،سیوریج کا پانی ان دفاتروں میں اور مہرسنز کمپاؤنڈ میں داخل ہوچکا ہے۔اسی سڑک پر محمدمہرالٰہی کلینک  بھی ہے جہاں مسکین گلی سمیت مختلف علاقوں سے مستحق افراد علاج ومعالجہ کیلئے آتے ہیں اور اسی کلینک میں امراض قلب کے قومی ادارے کا خصوصی یونٹ بھی قائم ہے لیکن  یہاں مریضوں کی آمد ورفت مشکل ہورہی ہے اور بیشتر مریض سیوریج کے پانی سے گزرکر کلینک میں داخل ہوتے ہیں جس سے انکی صحت کو شدید خطرہ ہے۔مہر سنز اسٹیٹ میں 200سے زائد دفاتر قائم ہیں جن میں نیشنل بینک اور سلک بینک کے مختلف شعبوں کے دفاتر بھی ہیں اس کے علاوہ ری پبلک آف کانگو کے اعزازی قونصل جنرل کا دفتر بھی قائم ہے لیکن اس احاطے میں مرکزی گزرگاہ پر سیوریج کا ایک فٹ سے زیادہ پانی موجود ہے لیکن کراچی واٹر بورڈ اور کے ایم سی کے متعلقہ محکموں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

مزید :

صفحہ آخر -