غیر مستند طبی سہولیات فراہم کرنے والوں کیخلاف بھرپور کاروائی کا آغاز

 غیر مستند طبی سہولیات فراہم کرنے والوں کیخلاف بھرپور کاروائی کا آغاز

  

پبی (نما ئندہ پاکستان)خیبر پختو نخواہیلتھ کیئر کمیشن کا  پشاور میں عطا ئی ڈاکٹروں اور غیر مستند طبی سہولیات فراہم کرنے کے خلاف بھرپور کاروائی کا آغازخیبر پختو نخواہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر مقصود علی کی صدارت میں  ہیلتھ کیئر کمیشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔  اجلاس  میں ضلع پشاور میں عطائیت کے خلاف ایک موثر حکمت عملی ترتیب دی گی  اجلاس میں ڈائریکٹر آپریشز سید ولایت شاہ، ڈائریکٹر  ایم اینڈ ای  سلیمان جلال خان سمیت چیف انسپکٹر  پشاور نے بھی شرکت کی اجلاس میں پشاور زون کے تمام انسپکٹرز  پر مشتمل تین ٹیمیں تشکیل دے دی گیئں۔  تمام ٹیموں کو خصوصی ہدایات دی گیئں کہ اس کریک ڈاؤن کا دائرہ کار پشاور کے مین علاقوں بشمول مضافات تک بڑھایا جائے  اس کریک ڈاؤن کے دوران عطا ئی ڈاکٹروں، غیر رجسٹرڈ لیبارٹریز، کلینکس، ایکسرے سنٹرز  کے خلاف کارواء کی جائے گی چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر مقصود علی کی  ہدایت پر  چیف انسپکٹر اسدا اللہ کی زیر نگرانی کریک ڈاؤن کے پہلے دن پشاور ٹاؤن ون میں 21   طبی مراکز  صحت کو  غیر معیاری اور ناقص طبی سہولیات فراہم کرنے پر سیل کر دیا گیاسی ای او  ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق  یہ کاروائی عطاایؤں کے خلاف گرینڈ آپریشن اور کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جس کے دوران تمام غیر معیاری اور ناقص طبی سہولیات فراہم کرنے والے مراکز صحت کو  سیل کیا جائے گا۔  عوام کو  معاری سہولیات کی فراہمی میں کوء غفلت اور کواتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سی ای او  نے تمام عطایؤں کو خبردار کیا کہ وہ انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنا بند کر دیں کیونکہ ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں بھرتی جائے گی اور ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔سی ای او  ہیلتھ کیئر کمیشن  نے اس بات کا اعادہ کیا کہ    خیبر پختو نخواہیلتھ کیئر کمیشن موجودہ حکومت کے وژن  کے عین مطابق صحت مند خیبر پختو نخوا کے لیئے  پر عزم اور شب و روز کوشاں ہے اس سلسلے میں کمیشن  وزیر صحت تیمور سلیم  خان  اور سیکریٹری ہیلتھ سید امتیاز  حسین شاہ کی خصوصی احکامات کی روشنی میں گاہے بگاہے اس طرح کے گرینڈ آپریشن کا  انعقاد کرتی ہے تا کہ عوام الناس کو معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -