فرنٹیئرپرنٹرز اینڈ پبلشرز ایسوسی ایشن کا فیصل خالد کی رہائی کیلئے مظاہرہ

 فرنٹیئرپرنٹرز اینڈ پبلشرز ایسوسی ایشن کا فیصل خالد کی رہائی کیلئے مظاہرہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر) فرنٹیئر پرنٹرز اینڈ پبلشرز ایسوسی ایشن (ہمدرد گروپ) خیبر پختونخوا کے زیر انتظام پریس مارکیٹ سے ایک احتجاجی ریلی بسلسلہ رہائی غازی خالد فیصل زیر قیادت بانی ہمدرد گروپ سلیم الرحمن ہمدرد، محمد سعید راجہ، مشتاق احمد خلیل، محمد یونس چترالی و دیگر نکالی گی۔ اس موقع پر پرنٹرز ایسوسی ایشن ہمدرد گروپ کے بانی سلیم الرحمن ہمدرد، محمد یونس چترالی، الخدمت تاجران پشاور کے صدر خالد گل مہمند، پاسبان و انجمن تاجران پشاور کے ترجمان نعمان زیب شفقت نے شرکائے سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ غازی فیصل خالد معاملے میں ریاست کو اپنی ذمہ داریاں بہت پہلے انجام دینی چاہیے تھی، لیکن 2سالوں سے ایک حساس نوعیت کا معاملہ بوسیدہ عدالتی سسٹم کی نظر ہوگیا خالد گل مہمند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس انداز سے توہین رسالت ؐ کا نام مزد ملزم طاہر اپنی طرف سے توہین رسالت ؐ کا اقرار کر رہا ہے اور عدالت کے روبرو بھی اس کا بیان ریکارڈ پر ہے۔ تو یہ تمام معاملات اس چیز کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک میں قادیانیوں کو نوازا جا رہا ہے۔ ملک کے اکثریتی طبقے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا کر جس افراتفری کی بنیاد رکھی جار ہی ہے اس کے انتہائی بھانک نتائج رونما ہونگے۔ غازی فیصل خالد معاملے میں عدلیہ اور ریاست نے ابھی تک اپنی پوزیشن واضح نہیں کی ہے، ایک طرف امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے اپنے ایک متنازعہ شہری کی موت کا واویلہ کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف پاکستانی عدلیہ پر دباؤ کی کیفیت ڈالتے ہوئے اس اہم نوعیت کے معاملے میں پہلو تہی کی جارہی ہے۔ سلیم الرحمن ہمدرد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور اعلیٰ حکومتی پوسٹوں پر آئین پاکستان کے مسترد شدہ لوگوں کو عہدہ دیتے ہوئے اس آئین کی پامالی کی جار ہی ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے وزیروں کی فوج میں ان آئین دشمن قوتوں کو باہر سے بلوا کو جو نوازشات کی ہیں، اس سے موجودہ حکومت کی اسلام دشمنی و مذہبی طبقوں کو دیوار سے لگانے کی سازش عیاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالمیت پاکستان کے مخالف قادیانیوں کو جس آئین نے واضح طور پر اسلام سے خارج قرار دے کر پاکستان کے لئے ان کی خدمات کو مشکوک قرار دیا ہے، اب انہی قادیانیوں کو پروٹوکول دے کر اس آئین سے غداری جیسے اقدامات ملک کی خدمت کسی طور بھی نہیں۔ مقررین نے غازی خالد فیصل کی رہائی، ملک میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی غیر قانونی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان کو لگام دینے، آزادعدلیہ کی بغیر بیرونی دباؤ غازی خالد فیصل کیس کی پیروی، اور پیروی کرنے والے جوڈیشنل اراکین کو مکمل تحفظ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -