اسلام آباد ہائی کورٹ کا ضمانت کیسمز میں تفتیشی افسران کی کارکردگی پراظہار تشویش 

اسلام آباد ہائی کورٹ کا ضمانت کیسمز میں تفتیشی افسران کی کارکردگی پراظہار ...

  

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ کاضمانت کے کیسز میں تفتیشی افسران کی کارکردگی پر اظہارِ تشویش ایس پی سٹی کو معاملہ آئی جی کے نوٹس میں لانے کی ہدایت کی ہے جبکہ عدالت عالیہ نے نے حکم دیا ہے کہ تفتیشی افسران کے لیے ایس او پیز بنا کر رجسٹرار ہائی کورٹ کو بھی بھجوا دیں  دور ان سماعت ایس پی پولیس عدالت کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے چیف جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے کہا کہ یہاں تفتیشی افسران کو تفتیش کے طریقہ کار کا ہی نہیں معلوم، تفتیشی افسران کی تفتیش کے لیے ٹریننگ کا بندوبست ہونا چاہیے اسلام آباد پولیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ موقع پر گیا تو مدعی موجود نہیں تھا اس لیے واپس چلا گیا عدالت نے استفسار کیا کہ اگر تفتیشی افسر جائے وقوع پر ہی 2 دن بعد جائے گا تو وہ شواہد کیا اکٹھے کرے گا؟چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ایس پی کو حکم دیا کہ یہ واقعہ آئی جی پولیس کے نوٹس میں لائیں، تفتیشی افسران عدالت کے سامنے آتے ہیں تو ان کو کیس کا پتہ نہیں ہوتا عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسران کے اس کنڈکٹ کی وجہ سے پراسیکیوشن کا یہ حال ہوگیا ہے ہم نہیں چاہتے کہ تفتیشی افسران اپنا یا عوام کا وقت ضائع کریں عدالتوں کے سامنے تفتیشی افسر کو مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونا چاہیے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ ہم نے آئی جی کو ہدایت دی تھی کہ تفتیشی افسران کے ایس او پیز بنائیں تفتیشی افسران کی حالت یہ ہے کہ وہ ٹرائل میں پیش ہی نہیں ہوتے انہوں نے کہا کہ یہ وفاقی دارالحکومت ہے، بارکھان بارڈر کے قریب کوئی جگہ نہیں اس شہر میں جو کرائم ریٹ ہے اس کا اندازہ لگا لیں عدالت نے استفسار کیا کہ اگر تفتیشی افسر جائے وقوع پر ہی 2 دن بعد جائے گا تو وہ شواہد کیا اکٹھے کرے گا؟چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ایس پی کو حکم دیا کہ یہ واقعہ آئی جی پولیس کے نوٹس میں لائیں، تفتیشی افسران عدالت کے سامنے آتے ہیں تو ان کو کیس کا پتہ نہیں ہوتا۔عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسران کے اس کنڈکٹ کی وجہ سے پراسیکیوشن کا یہ حال ہوگیا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ تفتیشی افسران اپنا یا عوام کا وقت ضائع کریں، عدالتوں کے سامنے تفتیشی افسر کو مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونا چاہیے۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ ہم نے آئی جی کو ہدایت دی تھی کہ تفتیشی افسران کے ایس او پیز بنائیں، تفتیشی افسران کی حالت یہ ہے کہ وہ ٹرائل میں پیش ہی نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ یہ وفاقی دارالحکومت ہے، بارکھان بارڈر کے قریب کوئی جگہ نہیں، اس شہر میں جو کرائم ریٹ ہے اس کا اندازہ لگا لیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -