مجھے بلانے کا مقصد نقصان پہنچانا تھا، گاڑی بلٹ پروف نہ ہو تی تو پتھر مجھے لگتے: مریم نواز 

مجھے بلانے کا مقصد نقصان پہنچانا تھا، گاڑی بلٹ پروف نہ ہو تی تو پتھر مجھے ...

  

 لاہور(جنرل رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نوقاز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ نیب کے سامنے ریاستی دہشت گردی اور جبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہتے کارکنوں پر تشدد کیا گیا اور گاڑی پر پتھر برسائے گئے۔  نیب کی طرف سے آج بلانے کا مقصد نقصان پہنچانا تھا۔آج جس حکومتی دہشت گردی کا میں نے مظاہرہ کیا ہے وہ میرے لیے یا مسلم لیگ (ن)کے لیے نہیں بلکہ اس جعلی اور سلیکٹڈ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے، نیب کے دفتر کے سامنے ریاستی دہشتگردی اور جبر کا مظاہرہ کیا گیا، پر امن نہتے کارکنوں پر تشدد کیا گیا، آنسو گیس اور پتھر لگنے سے کارکن زخمی ہوئے،گاڑی پر پتھر برسائے گئے، مجھے گھر سے بلانے کا واحد مقصد نقصان پہنچاناتھا،بلٹ پروف گاڑی نہ ہوتی تو پتھر مجھے لگتے،پولیس یونیفارم میں لوگوں نے پتھر مارے، پتھر لگنے سے مجھے ہیڈ انجری بھی ہوسکتی تھی، مجھے واپس جانے کیلئے پیغام بھی آئے، مجھے کہا گیا بی بی واپس چلی جائیں، نیب والوں نے دروازہ نہیں کھولا، چھپ کر بیٹھے رہے، نیب کے دروازے کے باہر کھڑی رہی اور کہا مجھ سے جواب لے لیں،نیب کا کال لیٹر مجھے پرسوں موصول ہوا، کہا گیا شاید میں نے کوئی زمین خریدی ہے، کاللیٹر میں مجھ پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا۔ نیب پیشی کی منسوخی کے بعد ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں شاہد خاقان عباسی، رانا ثنااللہ خان، مریم اورنگزیب،پرویز رشید، دانیال عزیز، طلال چوہدری، شائستہ پرویز ملک، محمد زبیر، ملک پرویز، خواجہ عمران نذیر، چوہدری شہباز، غزالی سلیم بٹ، فیصل کھوکھر، ثانیہ عاشق، سلمی بٹ اور شیزہ خواجہ سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ آج جس طرح پر امن اور نہتے کارکنان پر پتھر برسائے گئے،اسپرے کیا گیا،آنسو گیس پھینکی گئی میں اس کی بھرپور مذمت کرتی ہوں اور مسلم لیگ(ن)کے جو کارکنان میرے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لیے جبر کا سامنا کرتے ہوئے وہاں کھڑے رہے انہیں سلام پیش کرتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب میری گاڑی نیب دفتر کے نزدیک پہنچی اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ دوسری جانب عوام کا سمندر موجود ہے تو اچانک آنسو گیس کی شیلنگ شروع ہوگئی جس سے گاڑی کے ساتھ موجود لوگ دور ہٹ گئے اور گاڑی اکیلی ہوگئی۔اسی اثنا میں نیب دفتر کے بالکل سامنے رکاوٹوں کے پیچھے سے میری گاڑی پر پتھرا  ؤہوا، میری گاڑی بلٹ پروف گاڑی تھی اس کے باجود ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی اور سکیورٹی گارڈز نے بغیر کسی حفاظتی اشیا ء کے گاڑی کے سامنے گھڑے ہوکر میری حفاظت کی۔انہوں ے کہا کہ نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ جو زمین میں نے خریدی تھی اس زمین پر قبضہ کیا تھا لیکن نیب کے طلبی کے نوٹس میں کوئی ایسا الزام موجود نہیں تھا۔نیب کی جانب سے جاری نوٹس پڑھ کر سناتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اس میں الزام کوئی نہیں ہے، بہت مبہم رکھا گیا ہے کیونکہ مجھے بلانا مقصود تھا اور اب میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ مجھے بلانے کے پیچھے مجھے نقصان پہنچانا مقصود تھا کیونکہ میرے ساتھ جو سلوک کیا گیا، میں نے پاکستان کے 72سال میں یہ ہوتے نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا کہ آج پرویز رشید صاحب میری گاڑی میں تھے اور جب ون ڈ اسکرین پر حملہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ شکر کرو کہ یہ بلٹ پروف گاڑی تھی، اگر یہ بلٹ پروف گاڑی نہ ہوتی تو شیشہ ٹوٹتا اور اس کے بعد پتھر میرے سر پر لگتے کیونکہ میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔مریم نواز نے کہا کہ اگر یہ بلٹ پروف گاڑی نہ ہوتی تو سامنے سے پولیس کی وردی میں ملبوس افراد جو مجھے نہیں معلوم کہ پولیس کے تھے یا نہیں لیکن وہ پولیس کی یونیفارم میں تھے اور پنجاب پولیس عموماً ایسا نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے موبائل فون پر ویڈیوز بنا لیں اور بطور ثبوت ان ویڈیوز کو ٹوئٹ کردیا۔ اگر گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو شیشہ ٹوٹنے کے بعد یہ پتھر مجھے لگتے اور یہ واضح طور پر مجھے جانی نقصان پہنچانے کی کوشش تھی۔مریم نواز نے کہا کہ مجھے غیرآفیشل ذرائع سے کہنا شروع کیا گیا کہ آپ واپس چلی جائیں لیکن میں نے انکار کردیا، میں نیب کے دروازے کے باہر کھڑی رہی اور میں نے کہا کہ آپ نے مجھے نوٹس پر بلایا ہے تو میں جواب لے کر آئی ہوں۔میں ڈیڑھ گھنٹہ وہاں رہی لیکن انہوں نے دروازہ نہیں کھولا۔انہوں نے کہا کہ سوال وہاں کیے جاتے ہیں جہاں سوال کرنے والا کا کوئی کردار ہو، نیب کا کردار پہلے سے ہی پتہ تھا، نواز شریف، رانا ثنااللہ، شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز، سعد رفیق اور نیب گردی کا نشانہ بنانے والے ہمارے رہنماؤں کو پہلے سے پتہ تھا لیکن نیب ان ہتھکنڈوں پر مہر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان نے اپنے ریمارکس اور اپنے فیصلوں کے ذریعے لگا دی ہیں اور رہی سہی کسر ہیومن رائٹس واچ نے پوری کردی جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ، سیاسی انتقام، مخالفین کو بلیک میل کرنے اور دبانے کے لیے اور حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ ایسے نیب کے سامنے پیش نہ ہونا شاید قانون کی زیادہ پاسداری ہو گی کیونکہ نیب تو ان ریمارکس اور حربوں کے بعد اب تو خود ایک مطلوب ادارہ ہے، نیب کو تو اب خود جواب دینے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی خزانے کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے بے دریغ استعمال کیوں کیا، کیوں نیب نے اس پیسے کے ذریعے مخالفین کی جوڑ توڑ کی، سیاسی جماعتوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور حکومت کی مدد کی۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی میر شکیل الرحمن کا کیس لے لیں، ایک وزیر موصوف فرما رہے تھے کہ میں عمران خان صاحب سے یہ درخواست کروں گا کہ میر شکیل الرحمن کو چھوڑ دیں، تو 140دن سے حبس بے جا میں موجود میر شکیل الرحمن کو کیا عمران خان صاحب نے پکڑا ہے، ان کو تو نیب نے پکڑا ہے اور کیا عمران خان کے کہنے پر نیب ان کو چھوڑ دے گی۔اس سے قبل نیب کے دفتر کے باہر  گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا  کہ حوصلہ نہیں ہے تو سوچ سمجھ کر بلانا چاہیئے، میں کھڑی ہوں، بلایا ہے تو جواب بھی سنیں، نیب آفس کے باہر کھڑی ہوں، واپس نہیں جاؤں گی۔پاجھوٹے الزامات کا جواب دینے آئی ہوں، مجھے سنا جائے، جواب دیئے بغیر نہیں جاؤں گی، نیب نے گیٹ بند کرلیا، جواب دینے آئی ہوں، دروازہ کھولیں۔کارکنوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈرنے والی نہیں، وہ اور ان کے والد اپنے موقف پر قائم ہیں، میرے اوپر جعلی اراضی کیس بنایا گیا۔لیگی رہنما قافلے کی صورت میں جاتی امرا رائیونڈ سے نیب آفس پہنچے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شبہازشریف کی کارکنان پر پولیس شیلنگ، مریم نوازکی گاڑی پرپتھراو اور حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کی فسطائیت اور آمریت قابل مذمت، شرمناک اور قابل افسوس ہے۔ کارکنان پر شیلنگ، پتھراؤ اور مریم بیٹی کی گاڑی پر حملے میں نیب نیازی گٹھ جوڑ ملوث ہے عمران نیازی سیاسی مخالفین کے خلاف غیرجمہوری، غیرقانونی اور سیاسی انتقام کے منفی راستے پر چل رہے ہیں۔ نیب نیازی گٹھ جوڑ کی فسطائیت سے نہ پہلے مرعوب ہوئے نہ آئندہ ہوں گے۔

مریم نواز

مزید :

صفحہ اول -