مالی پریشانی، گھریلو جھگڑے، 2خواتین کی کالا پتھر پی کر خودکشی

مالی پریشانی، گھریلو جھگڑے، 2خواتین کی کالا پتھر پی کر خودکشی

  

 رحیم یار خان (بیورو رپورٹ)گھریلو جھگڑوں اور مالی پریشانیوں سے دلبرداشتہ ہوکر 25 سالہ خاتون نے کالاپتھر پی کرخودکشی کرلی خانبیلہ کی رہائشی 25 سالہ ثمرین بی بی نے آئے روز کے گھریلو جھگڑوں اور مالی پریشانیوں سے دلبرداشتہ ہوکر کالا پانی میں گھول کر پی لیا‘ حالت غیر ہونے پرورثاء  نے طبی امداد کیلئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد کے باوجود وہ جانبر (بقیہ نمبر40صفحہ10پر)

نہ ہو پائی اور دم توڑ گئی جبکہ اقدام خودکشی کرنے والے 7 افراد جمالدین والی کی 30 سالہ مہناز بی بی‘ لیاقت پور کا 25 سالہ محمد صدیق‘ چک 46 کی 16 سالہ بشریٰ بی بی‘ اوباڑو کی 60 سالہ مائی بچل‘ ترنڈہ محمد پناہ کا18 سالہ اکرام‘ مسلم آباد کا 20 سالہ طاہر‘ اوباڑو کا 30 سالہ کلیم کو ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔علاوہ ازیں   نواحی علاقہ موضع اللہ دتہ بھیلہ کی رہائشی روبینہ بی بی جو اپنے میکے آئی ہوئی تھی‘ نے گھریلو پریشانیوں سے دلبرداشتہ ہو کر کالا پتھر پی کر خود کشی کر لی جسے ہسپتال لے جایا گیا مگر جانبر نہ ہو سکی اور جاں بحق ہو گئی جبکہ محبت کی شادی کرنے والی موضع رم کی رہائشی خاتون زوجہ محمد آصف ارائیں نے تلخ کلامی ہونے پر کلا پتھر پی لیا جسے شیخ زید ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں پر وہ موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ دو روز میں کالے پتھر سے خود کشی کا یہ دوسرا واقعہ ہے جبکہ کالے پتھر سے ہونے والی خود کشیوں کے بعد سے کالے پتھر کی کھلے عام فروخت پر پابندی پر عملدرآمد نہ ہو سکا‘ غریب شہریوں کو خود کشی کے لئے کالا پتھر آسانی سے دستیاب ہو جاتا ہے۔ شہریوں محمد ابراہیم‘ محمد عبداللہ‘ محمد یامین‘ عبدالغفور‘جلیل احمد‘محمد فیصل‘شبیر احمد‘محمد احمد‘ صلاح الدین‘محمد احسان‘اسد راجپوت‘بلال احمد‘محمد حمزہ‘گوہر اقبال‘ محمد فیض‘ شکیل احمد‘ تنویر احمد‘ منیر احمد‘ محمد ایاز‘ محمد عابدودیگر نے ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان علی شہزاد سمیت دیگر اعلیٰ و متعلقہ حکام سے نوٹس لے کر کالے پتھر کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

خودکشی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -