اربوں روپے سے تبدیل ہونیوالی سیوریج لائنیں 10سال میں تباہ 

اربوں روپے سے تبدیل ہونیوالی سیوریج لائنیں 10سال میں تباہ 

  

ملتان (سپیشل رپورٹر)واسا ملتان کی گیلانی دور حکومت میں اربوں روپے کی مالیت سے تبدیل ہونے والی 148کلومیٹر سیوریج لائنیں 8سے 10سال میں ہی جواب دے گئیں ناقص پلاننگ، ناقص میٹریل اور اربوں روپے کے خوردبرد کے انکشافات پر سابق ایم ڈی و ڈائریکٹر ورکس ملک تصدق اور ان کی ٹیم کے خلاف سیاسی دباؤ پر ڈراپ کی گئیں انکوائریاں، کرپشن مقدمات ری اوپن کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، اینٹی کرپشن کو خصوصی ٹاسک دیدیا گیا۔اس وقت کے ڈی جی ایم ڈی اے کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ واسا ملتان کی جانب سے سیوریج لائنوں کے بڑھتے ہوئے کر اون فیلر کے باعث پنجاب حکومت سے ملتان کی 148کلومیٹر ناکارہ سیوریج لائنوں کی تبدیلی کیلئے فنڈز فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا جس پر وزیراعلیٰ کی ہدایت پر خصوصی انسپکشن ٹیم نے ناکارہ سیوریج لائنوں بارے معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ مذکورہ سیوریج لائنیں 2008سے 2013کے دوران سابق وزیراعظم اعظم سید یوسف رضاگیلانی کی خصوصی گرانٹ اور پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اربوں روپے کے فنڈز سے تبدیل کی گئی تھیں جن کی ٹیکنکل لائف 25سے 35سال تھی مگر اس وقت کے ڈائریکٹر ورکس واسا ملک تصدق جو بعد میں ایم ڈی واسا کے عہدے پر بھی تعنیات رہے کی اربوں روپے کی کرپشن کے باعث انتہائی ناقص کام کیا اور  ناقص میٹریل کے باعث مذکورہ سیوریج سسٹم 8سے 10سال میں ہی جواب دے گیا ہے۔مذکورہ رپورٹ کی روشنی میں اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق انیٹی کرپش میں اس دور میں ٹھپ کی گئی انکوائریاں و مقدمات ری اوپن کیے جائیں گے جس میں اس وقت کے ڈائریکٹر ورکس واسا ایم ڈی واسا ان کی ٹیم اور ڈی جی ایم ڈی اے کو شامل تفتیش کیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -