آپ لوگوں نے پورے کراچی کو گوٹھ بنا دیا،پوراشہر غلاظت اور گٹر کے پانی سے بھراہواہے، سندھ حکومت مکمل ناکام ہوچکی ،چیف جسٹس گلزاراحمدکے تجاوزات سے متعلق کیس میں ریمارکس

 آپ لوگوں نے پورے کراچی کو گوٹھ بنا دیا،پوراشہر غلاظت اور گٹر کے پانی سے ...
 آپ لوگوں نے پورے کراچی کو گوٹھ بنا دیا،پوراشہر غلاظت اور گٹر کے پانی سے بھراہواہے، سندھ حکومت مکمل ناکام ہوچکی ،چیف جسٹس گلزاراحمدکے تجاوزات سے متعلق کیس میں ریمارکس

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات سے متعلق کیس میں چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ لوگوں نے پورے کراچی کو گوٹھ بنا دیاہے،پوراشہر غلاظت اور گٹر کے پانی سے بھراہواہے،مچھر ،مکھیوں جراثیم کاڈھیرلگاہواہے،لوگ پتھروں پر چل کر جاتے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ مکمل تباہی ہے اور سندھ حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے ،صرف حکمران انجوائے کررہے ہیں ،یہ تو مکمل انارکی والا صوبہ ہوگیاہے۔

نجی ٹی وی جی این این کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،کمشنر کراچی نے کہاکہ نالے پر غیرقانونی تعمیرات ہیں ،تجاوزات کیخلاف کاررروائی میں مزاحمت کاسامناتھا،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ نالوں کی صفائی کاکیاہوا؟،این ڈی ایم اے بھی کررہی تھی ،کمشنرکراچی نے کہاکہ این ڈی ایم اے نے 3 بڑے نالے صاف کئے ہیں ،کراچی میں 38 بڑے نالے ہیں اور514 چھوٹے نالے ہیں ۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ این ڈی ایم اے نے پورے شہر کے نالوں کی صفائی کیوں نہیں کی؟،اٹارنی جنرل نے کہاکہ چیئرمین این ڈی ایم اے 2روز قبل آئے تھے آج نہیں آسکے،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ یہ تو صوبائی کی ناکامی ہے وفاقی حکومت کو آنا پڑا،لوگوں کے بھی حقوق ہیں مگر شہریوں کوکوئی بنیادی حق نہیں دیاجارہا،

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ یہ کیسی طرز حکمرانی ہے کہ صوبے کے لوگوں کاکوئی خیال نہیں؟،ہیلی کاپٹر پر 2 چکر لگا کرآکربیٹھ جائیں گے،معلوم تھا بارش آرہی ہے کوئی پیشگی اقدامات نہیں کئے گئے ،ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ تجاوزات کیخلاف کارروائی کرتے ہیں تو امن کامسئلہ ہوجاتا ہے،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ پوراشہر انکروچ ہوا ہے،یہ آپ کی ناکامی ہے کہ تجاوزات ختم نہیں کرسکے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ حاجی لیموں گوٹھ میں پتلی گلیاں ہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ لوگوں نے پورے کراچی کو گوٹھ بنا دیاہے،پوراشہر غلاظت اور گٹر کے پانی سے بھراہواہے،مچھر ،مکھیوں جراثیم کاڈھیرلگاہواہے،لوگ پتھروں پر چل کر جاتے ہیں

ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ 2ماہ میں حاجی لیموں گوٹھ کلیئر ہوجائے گا،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ کتنے سال ہو گئے آپ کو حکومت کرتے ہوئے ؟،ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ ہماری یہ آپ کے ساتھ کمٹمنٹ ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ کی لوگوں کیساتھ کمٹمنٹ ہونی چاہئے مگر لوگوں کیساتھ کیاگیا؟،کراچی سے کشمور تک براحال ہے جہاں جائیں وہی حال ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہائی وے پر اشتہارات لگے ہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ،یہ کیاہوتاہے؟،ایسے کاموں کی اجازت نہیں دے سکتے ،آپ کسی اور کو کیسے کنٹریکٹ دے سکتے ہیں؟،مکمل تباہی ہے اور سندھ حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے ،صرف حکمران انجوائے کررہے ہیں ،یہ تو مکمل انارکی والا صوبہ ہوگیاہے۔

چیف جسٹس پاکستا نے استفسار کیاکون صوبے کو ٹھیک کرے گا؟کیاوفاقی حکومت کوکہیں آکر ٹھیک کرے؟،لوگوں کو بنیادی حقوق کون دے گا؟،جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ یہاں توپانی اور بجلی کیلئے لوگو کو عدالت آنا پڑتا ہے،میراتعلق اسی صوبے سے ہے مگر حال دیکھیں یہاں۔

عدالت نے کہاکہ آپ عوام کے حقوق کو نقصان پہنچا رہے ہیں ،پچھلے40 سال میں کراچی کابراحال کردیاہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ یہاں مافیا آپریٹ کررہے ہیں کوئی قانون کی عمل داری نہیں ،پوری حکومتی مشینری سب ملوث ہیں ،افسرشاہی سے ملے ہوئے ہیں ،کروڑوں روپے کمارہے ہیں غیرقانونی دستاویزات کو رجسٹرڈ کرلیاجاتا ہے۔

عدالت نے کہاکہ سب رجسٹرارآفس میں پیسہ چلتا ہے،معلوم نہیں پراپرٹی کس کے نام پر رجسٹرڈ ہوگئی،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ جب مرجائے گا تو بچوںکو پتاچلے گاکہ قبضہ ہوگیا،جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ دنیا بھر میں لوگوںکی حکمرانی ہوتی ہے وہ ووٹ دیتے ہیں ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ کورونا وائرس میں سب سے پہلے سب رجسٹرار کاآفس کھول دیا گیاتھا،آپ نے کراچی سے کشمور تک کچھ نہیں کیا،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر سڑک بنا دیتے ہیں ،صوبائی حکومت لوگوں کو اس حال میں دیکھ کر انجوائے کررہی ہے،کہیں قانون کی عمل داری نظر نہیں آرہی ہے ۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والامعاملہ ہے،عدالت نے ایکشن لیاتوتجاوزات ہٹا دیتے ہیں میگاسٹی ایسے چلتے ہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ جو بجٹ آپ نے مختص کیااس میں ایک پیسہ نہیں لگایاگیا،یہی نہیں فارن ایڈیا جوامدادآئی وہ بھی عوام پر خرچ نہیں ہوئی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -