پی آئی اے پائلٹ کی لائسنس معطلی اور ملازمت برطرفی کیس ،اسلام آبادہائیکورٹ کاسول ایوی ایشن کے جواب عدم اطمینان کااظہار ،آخری مہلت دیدی

پی آئی اے پائلٹ کی لائسنس معطلی اور ملازمت برطرفی کیس ،اسلام آبادہائیکورٹ ...
پی آئی اے پائلٹ کی لائسنس معطلی اور ملازمت برطرفی کیس ،اسلام آبادہائیکورٹ کاسول ایوی ایشن کے جواب عدم اطمینان کااظہار ،آخری مہلت دیدی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی آئی اے پائلٹ کی لائسنس معطلی اور ملازمت برطرفی کیس میں سول ایوی ایشن کے جواب عدم اطمینان کااظہار کرتے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو جواب جمع کرانے کی آخر مہلت دیدی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی آئی اے پائلٹ کی لائسنس معطلی اور ملازمت برطرفی کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سی اے اے حکام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جو کچھ آپ نے کیا اس سے ملک کے امیج کو نقصان ہوا،آپ نے قومی ائیر لائن کے وقار کو ایسا نقصان پہنچایا جس کا مداوا بھی نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیاکہ اہم پوسٹ پر 2 سال سے مستقل ڈی جی کیوں تعینات نہیں کیا گیا؟

 چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سی اے اے حکام پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملک کے امیج اور پی آئی اے کو آپ نے نقصان پہنچایا ، آپ وضاحت نہیں کر سکتے، ریاست اس طرح نہیں چلتی،عدالت دیکھنا چاہتی ہے کہ آپ نے قانون کے مطابق کام کیا بھی یا نہیں، آپ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی درست طریقے سے عمل نہیں کیا، جو کرنا ہے کریں لیکن قانون کے مطابق چلیں پھر آپ الزام عدالتوں پر لگاتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سول ایوی ایشن کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو جواب جمع کرانے کی آخر مہلت دیدی،عدالت نے کہاکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ڈی جی سول ایوی ایشن کی تعیناتی سے متعلق وضاحت نہ کر سکے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کےلئے ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -