حاضر سروس لوگ پراپرٹی کے کاروبار میں ملوث ہیں،کرائم ریٹ میں اضافہ اسی وجہ سے ہے،اسلام آبادہائیکورٹ کے کیس میں ریمارکس

حاضر سروس لوگ پراپرٹی کے کاروبار میں ملوث ہیں،کرائم ریٹ میں اضافہ اسی وجہ سے ...
حاضر سروس لوگ پراپرٹی کے کاروبار میں ملوث ہیں،کرائم ریٹ میں اضافہ اسی وجہ سے ہے،اسلام آبادہائیکورٹ کے کیس میں ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے اداروں کے نام پر ہاﺅسنگ سوسائٹیز بنا کر چلانے کیخلاف کیسز میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباداورچیئرمین سی ڈی اے کے نمائندہ کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سارے ادارے زمینوں کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں ،حاضر سروس لوگ پراپرٹی کے کاروبار میں ملوث ہیں ،کرائم ریٹ میں اضافہ اسی وجہ سے ہے یہ بہت سریس معاملہ ہے ۔

اسلام آبادہائیکورٹ میں اداروں کے نام پر ہاﺅسنگ سوسائٹیز بنا کر چلانے کیخلاف کیسز پر سماعت ہوئی،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیسز کی سماعت کی ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ سارے ادارے زمینوں کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں ،ایف آئی اے کو کہاں اختیار ہے کہ وہ کاروبار کریں گے؟ایف آئی اے کوخود ایسے معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے اور وہی اس میں لگ گئے،سی ڈی اے ریگولیٹر رہ گیاہے یا نہیں؟۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ شہر کاانوائرمنٹ تباہ کردیاگیا،حاضر سروس لوگ پراپرٹی کے کاروبار میں ملوث ہیں ،کرائم ریٹ میں اضافہ اسی وجہ سے ہے یہ بہت سریس معاملہ ہے ۔

کوآپریٹو ہاﺅسنگ سوساٹیز حکام نے کہاکہ سوسائٹیز کے ملازمین نے ہاﺅسنگ سوسائٹیز بنائی ہیں ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ملازمین نہیں ادارے خودیہ ہاﺅسنگ سوسائٹیز بناکرچلا رہے ہیں۔

وکیل نے کہاکہ ایف آئی اے نے ملازمین کے نام لی جانیوالی جگہ ہاﺅسنگ سوسائٹی کو بیچ دی ،عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباداورچیئرمین سی ڈی اے کے نمائندہ کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،عدالت نے ڈپٹی کمشنر،سی ڈی اے حکام کو طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -