بیروت دھماکے سے 2 ہفتے قبل حکومت کو کیا وارننگ دی گئی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف منظر عام پر

بیروت دھماکے سے 2 ہفتے قبل حکومت کو کیا وارننگ دی گئی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف ...
بیروت دھماکے سے 2 ہفتے قبل حکومت کو کیا وارننگ دی گئی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف منظر عام پر

  

بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک) لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے ہولناک دھماکے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس دھماکے میں 200سے زائد لوگ لقمہ اجل بن گئے اور 6ہزار سے زائد زخمی اور 3لاکھ سے زائد بے گھر ہو گئے۔ اب اس دھماکے کے متعلق ایک تہلکہ خیز انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق لبنان کے سکیورٹی حکام کی طرف سے دھماکے سے محض 2ہفتے قبل حکومت کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ بندرگاہ پر رکھے گئے 2ہزار 750میٹرک ٹن امونیم نائٹریٹ کی وجہ سے کسی بھی وقت دھماکہ ہو سکتا ہے جو پورے شہر کو تباہ کر دے گا لیکن حکومت کی طرف سے سکیورٹی حکام کی اس وارننگ کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سکیورٹی حکام کی طرف سے یہ خط لبنان کے وزیراعظم حسن دیاب اور صدرمائیکل عون دونوں کو بھیجا گیا تھا۔ دھماکے کے بعد گزشتہ دنوں بیروت میں ہزاروں کی تعداد میں مشتعل شہری سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا۔ اس دوران پرتشدد واقعات بھی پیش آئے جن میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان خوفناک جھڑپیں ہوئیں۔ اس احتجاج کے نتیجے میں پیر کی شب وزیراعظم حسن اور ان کی کابینہ مستعفی ہو گئے۔ تاہم انہیں نئی حکومت بننے تک نگران حکومت کے طور پر اپنی جگہ برقرار رہنے کو کہہ دیا گیا ہے۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے استعفے آنے کے بعد بھی لوگ احتجاج کر رہے ہیں اور وہ صدر کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں جو 2016ءسے صدارت کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی حکام کی طرف سے دو ہفتے قبل وارننگ دیئے جانے کے باوجود مناسب اقدام نہ کرنا حکومتی نااہلی کی انتہا ہے۔ چنانچہ ایسی حکومت کے برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -