ریاست ہو گی ماں جیسی۔۔۔ لیکن کب ؟؟؟

ریاست ہو گی ماں جیسی۔۔۔ لیکن کب ؟؟؟
ریاست ہو گی ماں جیسی۔۔۔ لیکن کب ؟؟؟

  

 انسان کے باہمی معاملات اور تعلقات کو استوار کرنے کے لیے کچھ قواعد و ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے لیے عوام ایک ایسا ادارہ قائم کرتی ہے جس کے ہاتھ میں اقتدار اور قانون نافذ کرنے کی طاقت ہوتی ہے، اس اجتماعی منظم ادارے کو ریاست کہتے ہیں۔ عوام کی جان و مال، عزت کی حفاظت کرنا، ضرورت مند کی کفالت کرنا،ریاست کا بنیادی فرض ہے، جس طرح ماں اپنے بچے کی دیکھ بھال کرتی ہے،اس کی پرورش کرتی ہے، اس کی خوراک، تعلیم سے لے کر لباس تک تمام ضروریات پوری کرتی ہے، اپنے بچے پر آنے والی تمام مشکلات کا دفاع کرتی اور تحفظ فراہم کرتی ہے، بالکل اسی طرح ریاست کی بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو اپنے دائرہ کار میں رہنے والے لوگوں کو زندگی گزارنے کے بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جس کے حصول کا بنیادی مقصد مسلمان اپنی زندگی اپنی دین کے مطابق گزار سکیں، جس میں ہر شہری کو بلا امتیاز، بلا تفریق مساوی حقوق حاصل ہو۔ترقی کرنے کے یکساں مواقع ہوں۔ ایک لیڈر کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ اس کی سوچ محدود نہیں ہوتی وہ چند سالوں کا نہیں سوچتا بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کا سوچتا ہے۔ قائد اعظم کی سوچ اگراپنی ذات تک ہوتی تو کبھی پاکستان معرض وجود میں نہ آتا۔ ایک قومی ریاست درج زیل بنیادی خصوصیات کی حامل ہوتی ہے۔

ایک مخصوص جغرافیہ

اس جغرافیہ میں لوگوں کی آبادی یعنی پاپولیشن، حکومت، ریاستی ادارے جو کہ نظم و نسق اور ریاست سے مخصوص دیگر امور سرانجام دینے کی ذمہ داری کی ادائیگی کے پابند ہوتے ہیں جیسے انتظامیہ عدلیہ دفاع وغیرہ  اقتدارِاعلی جوایک لبرل جمہوریت میں شہری ریاست کے سپرد کرتے ہیں جس کے بدلے وہ اقتدارواختیار کے امور میں ریاست سے جوابدہی طلب کرتے ہیں. قانون. سیاست کے ماہرین کی ایک معقول تعداد قانون کو اس ذیل میں شامل نہیں کرتی مگر اکثر ماہرین کی رائے میں قانون بھی ایک قومی ریاست کا لازمی جزو ہے. ایک لبرل ریاست قانون کی حکمرانی کے بغیر قائم نہیں ہو سکتی۔

14جولائی کو مختلف اخبارات میں خبر شائع ہوئی ”غربت نے میاں بیوی اور تین بچیوں کی جان لے لی“ ننکانہ صاحب کے علاقے منڈی فیض آباد میں 35سالہ فیاض نے کرائے پر موٹرسائیکل لی اور اپنی بیوی سلیم بی بی، بیٹیوں انعم، مسکان،رابعہ سمیت کیو بی لنک نہر میں چھلانگ لگا دی۔ اس سے پہلے کراچی میں بھی ایسا واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص نے صرف اس لیے خود کشی کرلی تھی جو اپنے بچوں کی کپڑوں کی خواہش پوری نہ کرسکا۔ دوسرے واقعہ میں غربت مفلسی اور بے روزگاری سے تنگ آکر 6بچوں کے باپ نے اپنے چار بچوں سمیت نہر میں کود کر خودکشی کرلی۔ بہاولنگر رہائشی غلام یٰسین اپنے چار بچوں ثانیہ،شافیہ،زین علی اور شیر خواہ علی حسین علی سمیت نہر میں کود کر خودکشی کرلی جبکہ دو بچے یاسر علی اور فیصل علی کو بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا لیکن وہ گھر پر موجود نہ تھے جس وجہ سے وہ اس سانحہ سے بچ گئے۔

ایک اور واقعہ میں غربت کے ہاتھوں تنگ آکر وریام ظفروال کے رہائشی قدیر نے تین بچوں سمیت زہر پی لیا۔اسی ریاست میں ٹھری میر واہ میں بچوں کو اکیڈمی پڑھانے والے ریٹائرڈ ٹیچرسارنگ شر نے نہ صرف معصوم بچے سے زیادتی کی بلکہ اس کی ویڈیو بھی ریکارڈ کرلی بعد ازاں مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ وہ بد بخت ایسی درجنوں ویڈیوں بنا کر بچوں کو بلیک میل کرتا رہا ہے۔استاد جو باپ ہی ہوتا ہے، اگر اس سے بھی ہمارے بچے محفوظ نہ رہیں تو پھر ہم کدھر جائیں؟زینب واقعہ جس نے پوری ملک کو ہلا کر رکھ دیا، زارا کیس، چونیاں میں معصوم بچے زیادتی کے بعد قتل کیس، ان کیسز میں ملزمان تو گرفتار کرلیے گئے اور سزائیں بھی ہوچکی ہیں۔

ضلع قصور میں 2015میں گاؤں حسین خاں والا میں بچوں سے زیادتی کے بعد ویڈیو کیس، جنوری 2018زینب کیس، جون 2019چونیاں زیادتی کے بعد قتل کیس نمایاں ہیں۔ اس سلسلہ میں زینب الرٹ بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا،اس مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی بچے کے اغوا یا اس کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہو گی۔بل کے ذریعے پولیس کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ اگر کسی بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر پولیس افسر قانون کے مطابق اس پر عمل درآمد نہیں کرتا تو اس کا یہ اقدام قابلِ سزا جرم تصور ہو گا۔یہ بل بچوں کی گمشدگی کے واقعات کو رپورٹ کرنے اور ان کی بازیابی کے لیے ایک نئے ادارے ’زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی‘ کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔

اس بل کا اطلاق وفاقی دارالحکومت کی حدود میں ہوگا اور ملک کے چاروں صوبوں میں اس معاملے میں صوبائی اسمبلیاں قانون سازی کی ذمہ دار ہیں۔اس بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کرنے کے مقدمے میں دی جانے والی سزا کو 10 سال سے بڑھا کر 14 سال کر دیا جائے۔ اس بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی کم عمر لڑکے یا لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد قتل یا شدید زخمی کر دیا جاتا ہے یا اسے خواہش نفسانی کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے تو ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے کو موت کی سزا دی جائے گی یا پھر عمر قید اور یا پھر زیادہ سے زیادہ 14 سال اور کم سے کم سات سال قید کی سزا دی جائے گی۔اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جائیداد کے حصول کے لیے اگر 18 سال سے کم عمر بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے تو ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کو 14 سال قید اور جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔اس بل میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچے کو ورغلا کر یا اغوا کر کے اس کی مرضی کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر لے جانا یا اسے اس کے والدین یا قانونی سرپرست کی تحویل سے محروم کیے جانا قابل سزاجرم ہے۔ ماضی کی طرح قانون بنا دیے گئے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہورہا، ملک بھر میں روز بروز زیادتی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں جن میں سے کچھ رپورٹ ہوتے ہیں باقی بے عزتی کے ڈر سے رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -