جس قدر بجلی اور گیس کے بل آتے ہیں،اس سے عوام کو لگتا ہے کہ۔۔۔ فواد چوہدری نے پاکستانی قوم کے دل کی بات کہہ دی

جس قدر بجلی اور گیس کے بل آتے ہیں،اس سے عوام کو لگتا ہے کہ۔۔۔ فواد چوہدری نے ...
جس قدر بجلی اور گیس کے بل آتے ہیں،اس سے عوام کو لگتا ہے کہ۔۔۔ فواد چوہدری نے پاکستانی قوم کے دل کی بات کہہ دی

  

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی  فواد چوہدری نے کہاہے کہ جس قدر بجلی اور گیس کے بل آتے ہیں ،اس سےعوام کو لگتاہےکہ بجلی اورگیس اُن کے تیل سے بنے ہیں،سستی بجلی اور لوڈ شیڈنگ سے نجات میں دس سے پندہ سال لگ سکتے ہیں،اگلے دس سال تک بجلی کی پیداوار اور تقسیم کار کا سٹریکچر بدل جائے گا،سعودی عرب اور یو اے ای سے اچھے تعلقات ہیں اور رہیں گے۔

نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مہنگے منصوبوں سے بجلی اورگیس کے بلز زیادہ آتے ہیں، جس قدر بجلی اور گیس کے بل آتے ہیں اس سے عوام کو لگتا ہے کہ دونوں اُن کے تیل سے بنے ہیں، بجلی و گیس کے بلوں سے عوام کا تیل ہی نکل جاتا ہے،کراچی کے شہری لوڈشیڈنگ کے ساتھ بجلی کے بلوں سے بھی پریشان ہیں۔فوادچوہدری کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ بجلی سستی اورعوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی جائے، اس مقصد کے حصول کے لئے 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں لیکن پھر بجلی کی لاگت میں خاطر خواہ کمی ہوگی اور بجلی دستیاب بھی ہوگی، مستقبل میں پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کو بجلی برآمد کرنے کے قابل ہوسکے گا۔انہوں نے کہا کہ انشااللہ وہ وقت بھی آئے گا جب ہم بجلی دیگر ممالک کو بیچیں گے ،اگلے دس سال تک بجلی کی پیداوار اور تقسیم کار کا سٹریکچر بدل جائے گا،متبادل اور قابل تجدید توانائی پالیسی تاریخی ہے،پالیسی کا مقصد بجلی سستی اور دستیاب بھی ہو ،پہلے سولر اور پھر ونڈ انرجی کو استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر جگہ مافیا بیٹھا ہے،ہماری تیار کردہ چیز مہنگی اور باہر سے آنے والی سستی ملتی ہے۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کچھ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ سعودی عرب اور امارات سے پاکستان کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں ،ایسی کوئی بات نہیں ،سعودی عرب اور یو اے ای سے اچھے تعلقات ہیں اور رہیں گے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے متبادل توانائی پالیسی کی منظوری دے دی ہے، 2025  تک 20 فیصد اور 2030 تک 30 فیصد بجلی قابل تجدید اور متبادل ذرائع سے حاصل ہوگی، قابل تجدید زرائع سے بجلی کی پیداوار کے ٹھیکے اوپن بڈنگ کے ذریعے ہوگی، ملک میں انجینئرز و ٹیکبیشن و دیگر ورک فورس کی فوج ہوگی، جس کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔عمرایوب کا کہنا تھا کہ اندرونی زرائع سے بجلی کی پیداوار پر انحصار بڑھایا جائے گا، 75 فیصد بجلی مقامی زرائع سے پیدا کی جائے گی،  کوئلے سے بجلی کی مجموعی طلب کا 10 فیصد حاصل کریں گے، ہوا سے بجلی کی پیداوار کے لئے آلات بنانے کی تیاری جاری ہے، سستی بجلی سے صنعتوں اور گھریلو صارفین کو فائدہ ہوگا۔

مزید :

قومی -