سردار ہاشم ڈوگر+نئے آئی جی پولیس اور پراپرٹی ڈیلر 

 سردار ہاشم ڈوگر+نئے آئی جی پولیس اور پراپرٹی ڈیلر 
 سردار ہاشم ڈوگر+نئے آئی جی پولیس اور پراپرٹی ڈیلر 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


میرا۱ پختہ ارادہ تھا کہ وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد میں چودھری پرویز الٰہی کے گھر مبارکباد کے لئے جاؤں گا لیکن بوجوہ نہ جا سکا۔ بطور DGPR پنجاب ریٹائر ہونے کے بعد 2002ء کے الیکشن کے وقت چودھری پرویز الٰہی کے گھر پر بنائے گئے میڈیا سیل کا کچھ عرصہ کے لئے مجھے انچارج بنایا گیا تھا۔ الیکشن ہوئے تو اس وقت پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کی حکومت قائم ہوئی۔ چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔ وہ ماشاء اللہ 1983ء میں سیاست میں آ چکے تھے اور ضلع کونسل گجرات کے چیئرمین تھے پھر غیر جماعتی الیکشن میں محمد خان جونیجو وزیراعظم بنے اور نوازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے تو وہ وزیر بلدیات تھے، پھر یہ سلسلہ جاری رہا۔1988ء۔ 1990ء۔ 1993ء۔ 1997ء کے الیکشنوں میں بھی وہ کامیاب ہوتے رہے۔


آج اپنے اخبار میں جناب محسن گورایہ کے کالم میں سردار ہاشم ڈوگر کی تعریف لکھی دیکھی تو میرا بھی دل چاہا کہ میں ایک ایسا واقعہ ان کے علم میں لے آؤں جو میرے 55سالہ صحافتی تجربہ (جس میں سرکاری محکمہ اطلاعات کے 25 برس بھی شامل ہیں) میں کبھی نہیں دیکھا گیا تو حضرات اب میں آپ کو لے چلتا ہوں واقعہ کی طرف۔ محکمہ تعلیم کی ایک افسر خاتون اپنے بیٹے کو جو لاہور کے ایچی سن کالج میں پڑھتا تھا لینے گئی تو اس نے بتایا کہ یہاں پر انہیں ایچی سن سٹاف ہاؤسنگ کوآپریٹو سوسائٹی رائے ونڈ لاہور کے نام سے فارم دیئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ والدین سے کہیں کہ وہ اس سوسائٹی کے ممبر بن جائیں ممبرشپ فیس شاید چند ہزار تھی ہر ماہ ایسا ہی چندہ ادا کرتے رہیں اور پھر انہیں ایک کنال کا پلاٹ الاٹ کر دیا جائے گا۔ یہ لگ بھگ 1982ء کا زمانہ تھا ظاہر ہے کہ چھوٹی عمر کے بچوں کے تقاضوں کو آپ سمجھ سکتے ہیں، ان کی ضد کے آگے تو اکبر بادشاہ کی بھی نہیں چلی تھی۔(وہ واقعہ یعنی تاریخی حقیقت تو آپ نے سن رکھی ہوگی کہ ایک مرتبہ شہنشاہ اکبر کے دربار میں وزیر بیربل دیر سے آیا تو بادشاہ ناراض ہوا اور دیر سے آنے کی وجہ پوچھی۔ وزیربیربل نے کہا کہ میرے آقا، مجھے بچہ تنگ کر رہا تھا اور مَیں اسے منانے کی کوشش کرتا رہا اور دیر ہو گئی بادشاہ سلامت بولے یہ تو کوئی وجہ نہیں، بیربل نے کہا کہ حضور میری جان آپ پر صدقے واری، میں بچہ بن جاتا ہوں آپ مجھے منا کر دکھائیں۔ چنانچہ بادشاہ مان گیا۔ بیربل نے ضد کی اور کہا کہ مجھے ہاتھی لے دو۔ فوراً ہاتھی منگوا دیا گیا۔ بیربل نے کہا کہ مجھے صراحی منگوا دو فوراً صراحی حاضر کر دی گئی۔ بیربل نے ضد کی اور کہا کہ اب اس ہاتھی کو صراحی میں ڈال دو۔ بادشاہ بھنا گیا اور کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو بیربل نے کہا کہ ایسی ہی ضد میرا بچہ کر رہا تھا۔ چنانچہ بات آئی گئی ہو گئی)۔


چند سالوں کے بعد محکمہ تعلیم کی اس افسر محترمہ تسنیم کوثر کو ممبرشپ نمبر382مل گیا اور سوسائٹی کے کرتا دھرتا جناب سید سلطان عارف نے ایک کنال پلاٹ کا خط لا کر دے دیا۔ یہ 1990ء کا سال تھا آگے چل کر 1997ء میں ایک خط قبضہ کا بھی دے دیا گیا اور پلاٹ کا نمبر 69-B الاٹ کرنے کا خط دے کرکہا گیا کہ آپ اپنا گھر بنانا شروع کر دیں۔ ابھی گھر نہیں بھی بنانا تو چار دیواری بنا لیں۔ محترمہ تسنیم کوثر رائے ونڈ روڈ پر متعلقہ سوسائٹی میں پہنچی تو وہاں سڑکیں تیار تھیں۔ گھر بنانے والوں نے گھر شروع کئے ہوئے تھے لیکن ان کے پلاٹ میں پانی کھڑا تھا۔ یہ وہ پانی تھا جو ساتھ کے گاؤں میں سیوریج نہ ہونے کی وجہ سے نکل کر یہاں آتا تھا سوسائٹی والوں نے کہا کہ ہم اپنا سیوریج ڈال رہے ہیں یہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ 1997ء کے بعد یہ جلد 2014ء میں آئی یعنی 21برس بعد جب پانی خشک ہوا۔ تب وہاں چار دیواری بنانے کے لئے ریت، مٹی، اینٹ گارا، سریا، لوہے کا دروازہ اور مستری گئے تو تھانہ نواب ٹاؤن کے انچارج پولیس وہاں پولیس لے آئے اور سب کو پکڑ کر لے گئے۔ سامان بھی لے گئے۔ محترمہ تسنیم اگلے روز تھانہ گئیں تو پولیس افسر نے کہا کہ ہماری اطلاع کے بغیر تو یہاں پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ اس پلاٹ کے ہم چاہیں تو کئی مالک پیدا کر سکتے ہیں۔ خاتون نے بتایا کہ 33برس ملازمت کرکے وہ ریٹائر ہوئی ہیں، پولیس کو دینے کے لئے رشوت نہیں ہے نہ ہی کبھی ہو گی۔ تھانیدار نے مستری مزدور چھوڑ دیئے کسی عدالت کا کوئی حکم نہیں تھا، نہ ہی کوئی اور وجہ کہ انہیں حوالات میں رکھا جائے۔ اس پر خاتون نے اِدھر اُدھر شکایات کیں لیکن ہر شکایت واپس تھانہ پہنچی۔ وہاں سے ہر کارے آئے کہ کچھ نہیں ہوگا اسے بیچ دو پھر 2018ء میں عمران خان آئے تو 2019ء میں شکایات سیل میں درخواست دی۔ وہاں سے کمشنر نے بلایا اور پھر سوسائٹی کے صدر سے پوچھا گیا صدر نے لکھ کر جواب دیا کہ پلاٹ 69-B محترمہ تسنیم کوثر ممبر نمبر382 کی ملکیت ہے۔تمام واجبات ادا ہیں جب تک پولیس مدد نہ کرے چار دیواری نہیں بن سکتی۔

حد یہ ہے کہ 1990ء میں الاٹ ہونے والے اس پلاٹ پر آج 32برس بعد بھی چار دیواری نہیں بن سکتی اس معاملہ کے لئے جب میں از خود مسمی محمد حسین ملک۔ ریٹائرڈ ڈی جی پی آر تھانہ نواب ٹاؤن گیا (اس لئے کہ محترمہ تسنیم کوثر میری 78سالہ اہلیہ اور میرے بچوں کی ماں ہیں) تو تھانہ والوں نے صرف دو کروڑ پاکستانی روپے کا خرچہ بتایا حالانکہ پلاٹ کی قیمت اس سے آدھی بھی نہیں، یہ معاملہ سرکل افسر نے بھی مجھ سے خود سنا اور چوہنگ میں بیٹھے اس پی ایس پی افسر نے کہا کہ یہ تھانہ ہی نہیں اب ہماری لاہور کی تمام پولیس پراپرٹی ڈیلر بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی تھانہ کے ”بیٹ“ افسر بلائیں تو انہیں اپنی اپنی ”بیٹ“ کے علاقوں کی حدود ہی کا علم نہیں کیونکہ اب لگ یہ رہا ہے کہ پی ایس پی افسر شاید افسر نہیں بلکہ کسی ملک کے بڑے سیٹھ یا تاجر ہیں؟ اللہ کرے یہ تاثر غلط ہو بلکہ صریحاً غلط ہو۔ ہمارے کلب میں تو جو چند ریٹائرڈ پی ایس پی آتے ہیں وہ تو ایسے نہیں بلکہ ان کے پاس تو کاریں اور بی ایم ڈبلیو یا مرسڈیز بھی نہیں بلکہ وہ رکشوں پر آتے ہیں۔ پھر یہ کون لوگ ہیں جو ایسا تاثر دینا چاہتے ہیں؟ اب یہ کام حادثاً پنجاب کے بن جانے والے نئے آئی جی کا ہے کہ وہ پتہ لگائیں ہو سکتا ہے کہ یہ نئے آئی جی جو کم وزن بھی ہیں اور وردی پر کم کپڑا لگواتے ہیں، شاید کام کرنے کے اعتبار سے بڑے وزن کے ہوں اور کم از کم اتنا تو جانتے ہوں کہ اگر کسی تھانہ کو سادہ کپڑوں میں وزٹ کرنے جائیں تو اپنا تعارف کروانے کی بجائے علاقہ افسران ASIصاحبان سے علاقوں کی حدود ہی جان لیں۔باقی شہروں کا علم نہیں لیکن لاہور کا تو یہ حال ہے کہ صرف ایس ایچ او ہی نہیں اکثر نچلی پوسٹوں والے لوگوں کے بھی پورے لاہور میں پراپرٹی دفاتر ہیں۔ کیا گلبرگ کیا ماڈل ٹاؤن، کیا چوہنگ،کیا رنگ روڈ، کیا شاہراہ کیا ڈیفنس، مال روڈ، جیل روڈ، کرشن نگر، ساندہ یا خود آئی جی پنجاب کے دفتر والی روڈ۔


آئی جی پنجاب سے میری صرف اور صرف ایک گزارش ہے کہ وہ اپنا سپاہی بھی اب بھرتی کریں تو اس سے حلف نامہ لیں کہ ملازمت کے دوران وہ پارٹ ٹائم بھی پراپرٹی ڈیلر کا کام نہیں کرے گا۔ رہی افسروں کی بات تو خود باشرم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے اپنے حلف نامے نوکری شروع کرنے سے پہلے ہی دے دیں جن میں یہ درج ہوگا کہ اگر ہم نے خلاف ورزی کی تو ہمیں کسی انکوائری یا نوٹس کے بغیر فارغ کر دیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -