سوال کریں نہ سچ بولیں  

  سوال کریں نہ سچ بولیں  
  سوال کریں نہ سچ بولیں  

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


  مختلف نوعیت کے سوال ہیں ، لیکن ان کا تعلق ایک ہی طرح کے لوگوں سے ہے، سمجھ نہیں آرہی یہ سوال پوچھنا چاہئیں یا نہیں کہ پوچھے بنا گذارہ نہیں ہورہا  اور پوچھنے پر اہانت یا شر پھیلانے کی تہمت کا خطرہ سر منڈلاتا ہے کہ یہاں سوال کرنے والے کو جہنمی ہی نہیں کہا جاتا بلکہ مرضی کے خلاف بات کرنے والے کو اپنی طرف سے واصل جہنم  بھی کر دیا جاتا ہے  اور کیا پتہ یہاں کس کی مرضی کے خلاف کون سی بات نکل آئے،  یہاں کوئی بھی کسی کو آسانی سے شر پسند، کافر، مرتد یا جہنمی کہہ سکتا ہے اور میں جیسی بھی ہوں خود پر شر پسند، جہنمی یا مرتد ہونے کی مہر نہیں لگوانا چاہتی۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر کوئی  زبان و بیان  کے کسی  ذرائع  سے خدا سے شکوے کررہا ہے تو اسے اپنی موج میں لگا رہنے دیں لیکن  ہوتا یوں ہے کہ، اس کے شکوہ کرنے سے  دوسروں کو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ گناہ کبیرہ کررہا ہے۔
 اسی طرح کوئی  لاڈ میں آکر خدا سے سوال کر ڈالے یا پھر کسی کا خدا گم ہوجائے تو اس گناہ کی سزا میں اس کا قتل واجب سمجھتے ہیں  لہٰذا حق یہی ہے کہ اسے قتل کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور قاتل کو جنت کا سرٹیفکیٹ عطا کیا جائے گو یہ ممکن ہے کہ دوسروں کو جہنم میں بھیجنے والے خود جنت سے کوسوں دور رہیں لیکن چونکہ جنت کی ملکیت کا حق جتانے والوں نے کسی دوسرے کے لئے اپنی زبان سے جنت کو ممنوع قرار دے دیا ہے تو لازم ہے کہ اب دنیا میں اس کو جہنمی لکھا اور پکارا جائے اور اس پر کیا کہیے کہ یہاں اپنے مسلک سے باہر کے لوگوں کو کوئی  بھی مسلمان اور جنتی ماننے کو تیار ہی نہیں،  یہاں مصائب پہ رونے والوں پر ناشکری  کا الزام لگتا ہے تو  مایوسی یا لاڈ میں سوال کرنے والے پر اہانت کا لیبل۔ آج تک سمجھ نہیں آئی کہ خدا سے شکوہ  یا پھر سوال کرنے، جیسا کچھ بھی ہوجائے تو یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ سوال یا شکوہ کرنے والا خدا کا منکر ہے یا خدا کی اہانت کررہا ہے۔  


 انسان شکوہ اسی سے کرتا ہے جس سے محبت ہو کسی دشمن یا اجنبی  سے آپ شکوہ نہیں کر سکتے دکھ کی گھڑی میں وہی یاد آتا ہے  جس کے ساتھ خوشیاں بانٹی ہوں، سوال بھی وہیں کیا جاتا ہے جہاں سے جواب کا انتظار ہو۔ شکوہ یا سوال کرنا خدا کو نا پسند ہے تو یہ بندے اور خدا کا معاملہ ہے۔ بندہ جانے، خدا جانے، جزا و سزا کا معاملہ خدا پہ چھوڑیں،  دوسرے بیچ میں کس واسطے کود پڑتے ہیں؟
اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا کبھی کسی نے کفر یا اہانت کی مہریں لگانے والوں سے پوچھا کہ میاں تم ہو کون، تمہارے پاس کیا اختیار ہے کسی کو مذہب سے خارج یا داخل کرنے کا  تمہیں یہ حق کس نے عطا کیا کہ تم کسی کو جنت یا جہنم میں بھیج سکو، جو کام خدا کے کرنے کے ہیں وہ  تم نے کب اور کیسے اپنے ذمہ لے لئے۔ تمہیں یہ  خوشخبری کس نے دی کہ جنت صرف تم ہی کو ملے گی لیکن یہ سوال کرنے کی جرات کوئی نہیں کرے گا کیونکہ سب اندر سے میری طرح کمزور اور خوفزدہ ہیں کوئی جہنمی کہلانا پسند کرتا ہے نہ قتل ہونا۔
 اور یہ صرف مذہبی حوالے ہی سے تو مشکل مرحلہ نہیں عام زندگی میں بھی ایسے ہی شدت پسند روئیے دیکھنے میں آتے ہیں، کتنے ہی ہوس زدہ لوگ کمسن بچوں کو ریپ کردیں کوئی صاحب ایمان مدرس مساجد میں طالب علموں کے ساتھ لواطت کے مزے لوٹتا رہے۔ کوئی بہن بھائی کی ہوس کا نشانہ بن جائے، کوئی باپ سگی بیٹی کی معصومیت نگل جائے، لوگ چاہتے ہیں اس پہ کچھ نہ لکھا جائے۔ معاشرے کا کوئی بھی بھیانک روپ کسی افسانے کا موضوع نہ بن پائے۔


 لوگ جو دیکھ سن لیں اس کو چٹخارے لے کر ایک کان سے دوسرے کان میں منتقل تو کرتے رہیں لیکن اگر وہی قصہ اصلاح کے لئے افسانوی اسلوب میں قلمبند کیا جائے، تو قلمکار کو فحش نگار بنا دیتے ہیں ہونا تو یہ چاہیئے کہ ایسے افسانوی کردار حقیقت میں جہاں بھی ملیں ان کو الٹا لٹکا دیا جائے لیکن یہاں معاملہ الٹ ہوجاتا ہے، ایسے قلمکاروں پہ مقدمات بن جاتے ہیں نہ بنائیں تو لوگ اپنے اندر کے وحشی پن کو کیسے چھپائیں، یا پھر یوں کہہ لیں اندر کی خباثت کو کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔
 اور صرف اسی پر ہی کیا موقوف کوئی ماہر ڈاکٹر  آگاہی کے لئے  طب کے شعبہ میں ہوئے تجربات اور عورتوں کے مخصوص مسائل پہ بلاگ لکھے  تو اس پر بھی اعتراضات کی بوچھاڑ ہوجاتی ہے ان کے لئے کہا جاتا ہے صاحب یا صاحبہ فحاشی پھیلا رہے ہیں، اکثر لوگوں کا خیال ہے  عورتوں کے مسائل پہ بات سر عام نہیں کرنی چاہئے ایسا کیوں ہے کہ ایک واعظ تو بھرے مجمع میں میاں بیوی کے آپسی تعلقات کی گرہیں کھولے اور بات شرح ننگی ہے پہ ڈال کر بری الذمہ ہوجائے لیکن کوئی دوسرا صحت اور زندگیاں بچانے کے لئے بھی کچھ نہ کہہ پائے، جانے کسی قلم کار کے نصیب میں ایسی کوئی  روایت کیوں نہیں آتی کہ وہ آنکھوں دیکھا لکھے اور اس کو کسی اور کھاتے میں ڈال دے۔ قلمکار تو فرشتوں کے لکھے پر بھی نہیں پکڑا جاتا بلکہ اسے اپنے ہی لکھے کا بھگتنا پڑجاتا ہے کئیدفعہ اس کی تحریر تعذیر بن جاتی ہے۔ 
لوگ کیوں سمجھتے ہیں کہ حقیقت کی عکاس تحریریں اخلاق کو تباہ اور مذہب سے دور کرتی ہیں  جبکہ دوسری طرف گھر کے مرد ماں بہن کی گالیاں دے کر نئی نسل کا اخلاق سنوارنے کی کوشش خوب کرتے  ہیں اس سے کسی کا ذہن خراب ہوتا ہے نہ کردار پہ کوئی  فرق پڑتا ہے فرق پڑتا ہے تو صرف  مسائل کو سامنے لانے پر؟


 لیکن یہ تمام باتیں میں صرف سوچ سکتی ہوں، کہ میں دیکھ رہی ہوں یہاں سچ سننے کو کوئی  تیار نہیں جھوٹ پر واہ واہ ہورہی ہے، سمجھ نہیں آرہی یہ سب کہوں توکیسے کہ جھوٹ پر ہزاروں تماش بین صدقے واری جارہے ہیں، میلہ سجا ہے اور لگتا ہے مجھے بھی مجمع کا حصہ بنتے ہوئے حقیقت کو چھپاکر وہی دکھانا ہے جو لوگ یہاں دیکھنے آئے ہیں، ظلم تو یہ ہے کہ شمشیریں اٹھائے لاکھوں پہرے دار مجھے میرے اپنے خدا سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دے رہے  لہٰذا مجھے  اپنے چہرے پر میک اپ کی مزید تہیں لگانی ہیں تاکہ کوئی  میرے چہرے کی اصلیت نہ دیکھ سکے۔  

مزید :

رائے -کالم -