سلمان رشدی کی وہ کتاب جس کی وجہ سے عالمِ اسلام میں شدید احتجاج ہوا، 60 افراد جان سے گئے

سلمان رشدی کی وہ کتاب جس کی وجہ سے عالمِ اسلام میں شدید احتجاج ہوا، 60 افراد ...
سلمان رشدی کی وہ کتاب جس کی وجہ سے عالمِ اسلام میں شدید احتجاج ہوا، 60 افراد جان سے گئے
سورس: Twitter

  

نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمِ اسلام میں ناپسندیدہ ترین سمجھے جانے والے مصنف سلمان رشدی پر امریکہ میں قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ ان پر یہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ ریاست نیو یارک میں ایک لیکچر دینے کیلئے موجود تھے۔ 

انڈیا میں پیدا ہونے والے سلمان رشدی نے برطانیہ سے ایم اے ہسٹری کیا اور یہیں ملازمت اختیار کی۔ انہوں نے  لندن میں ایڈورٹائزنگ کاپی ایڈیٹر کے طور پر فنی کریئر کا آغاز کیا اور 1975 میں اپنا پہلا ناول لکھا۔ سنہ 1988 میں سلمان رشدی نے اپنا چوتھا ناول لکھا جس کی وجہ سے وہ ایک متنازعہ شخصیت بن کر سامنے آئے اور عالمِ اسلام میں  ان کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے۔ 

بڑی تعداد میں سلمان رشدی کی نئی کتاب کو جلایا گیا اور کئی مسلمان ملکوں میں ان کی کتاب پر پابندی عائد کردی گئی۔ ڈیلی میل کے مطابق سلمان رشدی کے خلاف برطانیہ سمیت دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جن میں 60 افراد جان کی بازی ہارے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

انقلاب ایران کے رہنما امام خمینی نے سنہ 1989 میں ان کے قتل کا فتویٰ جاری کیا اور ان کے سر پر  تقریباً تین ملین ڈالر کا انعام رکھا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے سر کی قیمت مقرر ہونے کے بعد   برطانیہ کی حکومت نے انہیں سرکاری سیکیورٹی فراہم کی اور وہ چھپ کر رہتے رہے۔ سلمان رشدی اس وقت تک چھپے رہے جب تک ایران کی حکومت نے ان کے سر سے انعام نہیں ہٹالیا۔

سی این این کے مطابق سنہ 1998 میں ایرانی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ امام خمینی کے سلمان رشدی کے حوالے سے فتویٰ پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی ۔ اس اعلان کے بعد 10 سال تک چھپے رہنے والے سلمان رشدی دوبارہ منظر عام پر آئے تاہم سنہ 2012 میں  ایران کی ایک مذہبی تنظیم نے رشدی کے سر کی قیمت 2.8 ملین ڈالر سے بڑھا کر 3.3 ملین ڈالر کردی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -