یادوں کے جھروکوں سے۔سمجھدار بزرگ

یادوں کے جھروکوں سے۔سمجھدار بزرگ
یادوں کے جھروکوں سے۔سمجھدار بزرگ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

1995-96ءکی بات ہوگی کہ بطور سول جج لاہور میری عدالت میں جانشینی سرٹیفکیٹ کے حصول کی ایک درخواست زیر سماعت تھی، جو کسی محکمہ کے ریٹائرڈ ملازم کی بڑی پڑھی لکھی فیملی بیٹیاں اور بیٹے عدالت میں بیان لکھوانے کے لئے حاضر آئے۔ جانشینی صرف کسی بنک میں ایک لاکر کی بابت تھی جو متوفی نے اپنے نام لے رکھا تھا۔ میں نے ایک لوکل کمیشن مقرر کیا کہ وہ بنک منیجر اور وارثان کی موجودگی میں لاکر کھول کر اس میں موجود چیزوں کیinventory بنا کر عدالت میں پیش کرے۔ رپورٹ آئی کہ لاکر Empty تھا، کچھ حیرانگی ہوئی، اس کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد اسی طرح کی ایک اور درخواست حصول سرٹیفکیٹ جانشینی پھر آئی۔ اس مرتبہ بھی صرف لاکر کے لئے ہی تھی اور مرنے والا کوئی ریٹائرڈ افسر تھا اور اس کی بڑی پڑھی لکھی فیملی ،ماڈ سکاڈ بیٹے بیٹیاں بیان قلمبند کرانے کے لئے عدالت میں پیش ہوئے۔ وہی کاروائی لوکل کمیشن اور inventory والی دہرائی گئی اور پھر وہی رپورٹ Empty والی آئی۔ اب کے بار میری حیرانگی کچھ زیادہ بڑھی، میں نے متعلقہ بنک منیجر کو عدالت میں طلب کر لیا اور اس کی وجہ پوچھی کہ لاکر خالی کیوں نکل رہے ہیں۔ تو جو کچھ اس منیجر نے بتایا ، وہ بیک وقت حیران کن ، پریشان کن، مگر دلچسپ بھی تھا۔ منیجر نے بتایا کہ آج کل، یہ آج کل 1995-96ءکے دور کا تھا، اکثر ریٹائرڈ لوگ بنکوں میں لاکر کرایہ پر لے لیتے ہیں۔

ان دنوں لاکر کا کرایہ چند سو روپے سالانہ ہوتا تھا جو وہ آسانی سے ادا کر لیتے ہیں اور ہر ماہ کسی دن بڑی باقاعدگی سے لاکر آپریٹ کرنے کے لئے بنک کا چکر لگاتے ہیں۔ بیٹے اور بہوﺅیں سمجھتے ہیں کہ ابا جی کے پاس کوئی بڑا خزانہ ہے جو لاکر میں رکھا ہے اور وہ اسی لالچ میں بزرگوار کی بڑی خاطر خدمت اور آﺅ بھگت کرتے ہیں،مگر لاکر خالی ہوتا ہے۔ ہوشیار با بے اولاد سے خدمت کرانے کا گر جانتے تھے۔وہ اپنی زندگی کو سکھی اور موت کو آسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں،کہنے کو تو یہ دو ایک دلچسپ واقعات تھے، مگر اپنے اندر سوچ و بچار اور فکر و نظر کے کئی در وا کر گئے،جو اس وقت بھی غور طلب تھے اور آج بھی ہیں۔وہ کون سی وجوہات تھیں کہ ان دونوں بزرگوں کو یہ خالی لاکر والا ناٹک رچانا پڑا، ایک ہی بات قابل ِ فہم نظر آتی ہے کہ غالباً اپنی اولاد کی طرف سے کچھ عدم تحفظ، کچھ بے اعتباری،کچھ ناگواری،جو کہ ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ سنا تھا کہ ایک باپ محنت مشقت کرکے سات بچے پال لیتا ہے، مگر سات بچے مل کر ایک باپ نہیں سنبھال پاتے، جن لوگوں نے انڈین فلم باغبان دیکھی ہے، وہ اس بات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ جب ناز و نعم میں پلے بچے ماں اور باپ دونوں کو اکٹھے بھی نہیں رہنے دیتے کہ بیک وقت کوئی بچہ بھی والدین کو گھر میں رکھنے پر تیار نہیں ہوتا تو امیتابھ بچن اور ہیما مالنی کی بے ساختہ اداکاری لوگوں کو رلا دیتی ہے۔ ہمارے معاشرہ میں ایسی بے شمار کہانیاں چار سو پھیلی ہیں کہ بوڑھے والدین کو انکی مرضی کے خلاف اولڈ ہوم میں داخل کرا دیا جاتا ہے۔


گزشتہ عید پر جب ایک ایسے ہی فلاحی ادارے کے منیجر نے میڈیا پر یہ بات بتائی کہ ایک والد نے اپنی زندگی میں ہی اپنی ساری جائیداد اکلوتے بیٹے کو منتقل کر دی تھی، بیٹے نے والد کے آخری دِنوں میں سنبھالنے کی بجائے ان کو اولڈ ہوم میں داخل کرا دیا تھا اور جب اُسے اس کے والد کی موت کی اطلاع دی گئی تو اُس نے اس ادارے کے منیجر کو کہا کہ اسے دفن کر دیں اور مجھے قبر کی نشاندہی کر دیں میں دُعا کے لئے چلا جاﺅں گا ،تو بے اختیار آنکھیں نم ہو گئیں کہ وہ والد جس نے کتنی مشکلات میں اس بچے کو پروان چڑھایا ہو گا،اس کی کامیابی کے کتنے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ہوںگے،وہ کتنی بے بسی کی موت مرا ہو گا۔یہ لمحہ فکریہ ہے ، اس سوسائٹی کے لئے، ہماری نوجوان نسل کے لئے، کہ والدین کی ان کی زندگیوں میں خدمت کیجیے ، کہ انہیں خالی لاکر والا ناٹک نہ کرنا پڑے اور بعد از وفات واویلا کرنے اور لوگوں کو بریانی اور فروٹ کھلانے سے بہتر ہے کہ اپنے والدین کو زندگی میں ہی خوش رکھنے کی کوشش کی جائے۔ ہم بطور مسلمان جب قرآن کریم پڑھتے ہیں تو ہمیں شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کی نافرمانی نظر آتا ہے۔ پھر قرآن مجید میں اکثر جگہوں پر اپنا مال اپنے قریبی رشتہ داروں، مسکینوں، یتیموں اور مسافروں پر خرچ کرنے کا حکم آیا ہے، مگر ان سب سے پہلے یہ مال اپنے والدین پر خرچ کرنے کا ہے اور اس کا اجر بھی یقینا زیادہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم کچھ یوں بھی ہے کہ اپنے والدین کو محبت اور عقیدت سے دیکھنے کا بھی اجر عظیم ہے اور والدین کی ناراضگی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔ آج کے نوجوان کی مایوسی، ڈیپریشن، اکتاہٹ ، بے دلی اور بے یقینی کی وجہ قرآنی تعلیمات سے دوری کے ساتھ ساتھ والدین سے بھی ذہنی ، جسمانی اور روحانی دوری ہے۔ اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو سمجھیں آپ نے گھر میں پیر فقیر بٹھا رکھے ہیں اور آپ کے پیچھے دعاﺅں کا ایک انمول خزانہ ہے۔والدین کی خدمت کسی لالچ اور غرض کے بغیر کرنے کا صلہ ہی کچھ اور ہے۔ویسے بھی جن والدین نے اپنی اولاد کو پروان چڑھانے، ان کی تعلیم ،شادیوں اور سکون پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہو، ان کے بڑھاپے کو پر سکون اور راحت آمیز بنانے کی بجائے ان کی جمع پونجی پر نظر رکھنا کہ اپنے بچوں سے عزت اور خدمت کرانے کے لئے انہیں بنکوں میں خالی لاکر رکھنا پڑیں ، سخت تکلیف دہ اور افسوسناک بھی ہے۔والدین کو بھی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اور جو کچھ بھی میسر ہو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہئے تاکہ بڑھاپا بہتر اور خوشگوار گزرے اور یہ خالی لاکر والا ناٹک نہ کرنا پڑے۔

مزید :

رائے -کالم -