مجھے باہر نکالو

  مجھے باہر نکالو
  مجھے باہر نکالو

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ذرا ایک لمحے کے لئے اپنے ذہن میں عدالت سے سزا یافتہ قیدی کی جیلر کے سامنے ہونے والی پہلی ملاقات کا تصور کریں۔ نام: عمران، ولد:اکرام اللہ، جرم: گھڑی چوری۔(اللہ اکبر)
ہندوستان کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا۔ یہ جہاز 17 اکتوبر 1858 ء کو رنگون پہنچ گیا۔رنگون میں کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں برصغیر کے جلا وطن شہنشاہ کو رکھا جا سکتا، لہٰذا رنگون کے انچارج کیپٹن نیلسن ڈیوس نے اپنا گیراج خالی کرایا اور شہنشاہ ہندوستان، تیموری لہو کے آخری چشم و چراغ کو اپنے گیراج میں قید کر دیا۔یہ 7 نومبر 1862 ء کا ایک خنک دن تھا، بد نصیب شہنشاہ کی خادمہ نے شدید پریشانی میں کیپٹن نیلسن ڈیوس کے دروازے پر دستک دی، اندر سے اردلی نے برمی زبان میں اس بد تمیزی کی وجہ پوچھی۔ خادمہ نے ٹوٹی پھوٹی برمی میں جواب دیا کہ شہنشاہ ہندوستان کا سانس اُکھڑ رہا ہے۔ اردلی نے جواب دیا کہ میرے صاحب اپنے کتے کو کنگھی کر رہے ہیں، میں انہیں ڈسٹرب نہیں کر سکتا۔چار سال رنگون کی اس کال کوٹھری میں قید آخری مغل بادشاہ جب زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے تو کیپٹن نیلس ڈیوس نے ان سے آخری خواہش پوچھی تو ظل سبحانی نے کہا کہ میں مرنے سے پہلے تازہ ہوا کے دو گھونٹ بھرنا چاہتا ہوں۔

بہادر شاہ کی آخری آرام گاہ کے اندر بد بو، موت کا سکوت اور اندھیرا تھا۔ اردلی لیمپ لے کر شہنشاہ کے سرہانے کھڑا ہو گیا، نیلسن آگے بڑھا، بادشاہ کا کمبل آدھا بستر پر تھا اور آدھا فرش پر۔ اس کا ننگا سر تکیے پر تھا لیکن گردن ڈھلکی ہوئی تھی، آنکھوں کے ڈھیلے پپوٹوں کی حدوں سے باہر اُبل رہے تھے، گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور خشک زرد ہونٹوں پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ نیلسن نے زندگی میں ہزاروں چہرے دیکھے تھے، لیکن اس نے کسی چہرے پر اتنی بے چارگی اور غریب الوطنی نہیں دیکھی تھی۔ ان کے لواحقین میں شامل حافظ ابراہیم دہلوی کے خزاں رسیدہ ذہن میں 30 ستمبر 1837ء کے وہ مناظر دوڑنے بھاگنے لگے جب دہلی کے لال قلعے میں 62 برس کے بہادر شاہ ظفر کو تاج پہنایا گیا۔ ہندوستان کے نئے شہنشاہ کو سلامی دینے کے لئے پورے ملک سے لاکھوں لوگ دلی آئے تھے اور شہنشاہ جب لباس فاخرہ پہن کر تاج سر پر سجا کر اور نادر شاہی اور جہانگیری تلواریں لٹکا کر دربار عام میں آئے تو پورا دلی تحسین تحسین کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ نقارچی نقارے بجانے لگے، گویئے ہواؤں میں تانیں اڑانے لگے، فوجی سالار تلواریں بجانے لگے اور رقاصائیں رقص کرنے لگیں۔ استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی کو یادتھا کہ بہادر شاہ ظفر کی تاج پوشی کا جشن 7 دن جاری رہا اور ان  سات دِنوں میں دلی کے لوگوں کو شاہی محل سے کھانا کھلایا گیا، مگر 7 نومبر 1862 ء کو اس ٹھنڈی اور بے مہر  صبح کیپٹن نیلسن نے رنگون کی سرکاری رہائش گاہ کے احاطے میں قبر کھدوا کر لاش کو خیرات میں ملی ہوئی مٹی میں دفن کر دیا۔
تازہ خبر کے مطابق سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے وکلاء کو ہدایت کی ہے کہ جیسے بھی ہو ”مجھے باہر نکالو“۔جیل ذرائع کے مطابق عمران خان جیل میں رہنے پر پریشان اور نا خوش ہیں اور وکلاء سے ہونے والی ملاقات میں انہوں نے کہا کہ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا۔جیل میں دن کو مکھیاں ستاتی ہیں اور رات کو یہاں کیڑے ہوتے ہیں۔


خبر پڑھ کر 18 اگست 2018 ء میں ایوانِ صدرکی وہ شام یاد آ گئی، جہاں نو منتخب وزیر اعظم عمران خان صدرِ مملکت ممنون حسین سے اپنے عہدے کا حلف لینے پہنچے تھے۔ ایک روز قبل ایوان میں 176 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہونے والے عمران خان نے تقریب حلف برداری کے موقع پر کالی شیروانی زیب تن کر رکھی تھی۔تقریب میں ملک بھر کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کو مدعو کیا گیا جن میں سابق کرکٹرز بھی شامل تھے، جبکہ آرمی چیف سمیت تینوں میں مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔ عمران خان کے آنے سے قبل ان کی اہلیہ اور خاتون اوّل بشریٰ بی بی ایوانِ صدر پہنچیں، تقریب حلف برداری کے موقع پر پورے دارالحکومت میں سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے اور ایوان صدر کی فضائی نگرانی بھی کی گئی۔ منتخب ہوتے ہی وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ سب سے پہلے احتساب ہوگا، چوروں اور ڈاکوؤں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔ ”اوئے نواز شریف جیل میں تمہارا اے سی بند کرواؤں گا، اوئے رانا ثناء اللہ میں تمہیں مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالوں گا، سب کان کھول کر سُن لو“۔جی ہاں، یہ الفاظ طاقت کے نشے سے چُور اُسی ”چور“ کے ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل دوسروں کو چور چور کہہ رہا تھا۔18 اگست 2018 ء کو بطور وزیراعظم اپنی پہلی تقریر سے لیکر اقتدار کے تقریباً پونے چار سال اور پھر اس کے بعد تب تک عمران خان چوروں کو للکارتے رہے جب تک وہ خود گھڑی چوری کے الزام میں ”اندر“ نہیں ہو گئے۔بحرالحال، دنیا کے ہر سماج میں وقت کی قدر پہچاننے کو خاص اہمیت دی گئی ہے، انسانوں کو بار بار یہی تلقین کی جاتی رہی کہ اپنا وقت پہچانیں، انسان کچھ نہیں اس کا وقت ہی سب کچھ ہے، وقت کی اہمیت پر ممتاز مفتی جیسے مایہ ناز ادیب نے ”سمعے کا بندھن“ کے نام سے افسانہ لکھا، مگر افسوس کہ ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ تخت سے تختہ ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ بقول شاعر:
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

مزید :

رائے -کالم -