نشہ : ذلت ، رسوائی ، تباہی اور بر بادی فقط!

نشہ : ذلت ، رسوائی ، تباہی اور بر بادی فقط!

مَیں نے اپنے پچھلے مضمون میں منشیات کی پیداوار اوراس کے پھیلاو¿، منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد، اور منشیات کے گھناﺅنے کاروبار کے حجم کا ملکی اور عالمی تناظر میں ایک جائزہ پیش کیاتھا۔عام طور پر استعمال کی جانے والی منشیات کون سی ہیں، یہ انسانی جسم و ذہن پرکس کس طرح کے اثرات مرتب کرتی ہیں اور اِس کے زیرِاثر انسان کیا کیا گُل کھلاتا ہے؟ اس مضمون میں اس کی چندحقیقی مثالیں پیش کی جائیں گی ۔

٭....چند سال قبل ایک بس ڈرائیورنے اپنی گاڑی اختر آباد (ضلع قصور )کے قریب نہر کے پل سے ٹکرا دی ، جس کے نتیجے میں چھتیس مسافر ہلاک ہو گئے۔ تفتیش پر پتہ چلا کہ ڈرائیور لاہور سے نشہ کرکے چلا تھا۔

٭....خاوند نے بیوی (ذکیہ)پر تیزاب پھینک کر اس کا چہرہ مسخ اور گردن جلاڈالی۔اس کا علاج کر کے اور اس کی ڈاکومینٹری بنا کر دنیا کو دکھانے پر شرمین عبید چنائے ایک پاکستانی خاتون نے آسکر ایوارڈ حاصل کیا۔خاوند نشئی تھا ۔ بیوی سے نشہ کے لئے پیسے مانگتا تھا ۔ اِنکار پر تیزاب پھینک کر جلا ڈالا۔

٭....مغل پورہ میں باپ نے ابھی چند روز قبل اپنے بارہ سالہ بیٹے کو معمولی رقم چرانے کے الزام میںڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا اور اُسے اِس کا پچھتاوا بھی نہیں ۔باپ نشئی تھا اور گھر میں بات بات پر غصہ کرتا تھا۔

٭....نشئی کے سامنے اوباش اس کی بہن کی آبروریزی کر گئے اور وہ اُسے بچانے کے لئے اُٹھ بھی نہ سکا۔

٭....چند ماہ قبل مزنگ میں ایک نشئی نے ماں سے سر دبانے کو کہا اورپھر اُس پر جنسی حملہ کر دیا۔

٭....بہاولنگر میں باپ نے بیٹی کی عزت برباد کر دی، وہ بھی نشے کا عادی تھا ، کہتا تھا پہلا حق تو ہمارا ہے۔

٭....بھائی باپ نشے کی لت میں مبتلا ہو گئے ۔ بہنوں اور بیٹیوں کے طے شدہ رشتے ٹوٹ گئے اور لڑکیاںذہنی مریض بن گئیں۔

یہ اس قسم کی ہزاروں میں سے چند مثالیں ہیں۔ جب انسان مذہب اور ملک کی مقر ر کردہ تمام حدودوقیود توڑتے ہوئے نشہ کر لے اور اُس کے ہو ش و حواس معطل ہو جائیں تو پھر وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔اشرف المخلوقات سے اسفل المخلوقات بن جاتا ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ ہوش و حواس معطل کر دینے والا نشہ اور خمارجو بیٹی اور ماں کی تمیز ختم کر دیتا ہے۔ جو شفقت پدری کا گلہ گھونٹ دیتا ہے۔ جو انسان کے اندر سے مردانگی اور غیرت کا قلع قمع کر دیتا ہے۔ جو اس کو اپنے آپ سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ جو اس کو گھر کے پاکیزہ اور آرام دہ ماحول سے گندی نالیوں، قبرستانوں، ویرانوں اور گندگی کے ڈھیروں پر لا پھینکتا ہے۔کن چیزوں کا ماحاصل ہے اور وہ کس طرح اس پر اثراندازہوتی ہیں؟

 کوئی بھی ایسا نباتاتی یا کیمیائی مواد جو عارضی طور پرذہنی و جسمانی کیفیت کو تبدیل کردے منشیات کہلاتا ہے۔ ایسی اشیاءکا بار بار اور مسلسل استعمال انسان کو اس کا عادی بنا دیتا ہے،اس کی جسمانی اور ذہنی کا رکردگی اور کیفیت بھی مستقل یا لمبے لمبے دورانیے کے لئے بدل جاتی ہے اور انسان وہ کچھ کرنا شروع کر دیتا ہے جو وہ بقائمی ہوش و حواس کبھی نہیں کر سکتا اور وہ کچھ کرنا چھو ڑ دیتا ہے جو اسے کرنا چاہئے ۔ اُس کی پسند نا پسند بدل جاتی ہے ، حتیٰ کہ اُس کے سماجی و مذہبی نظریات و خیالات بدل جاتے ہیں ۔ جن چیزوں کے بارے میں وہ پہلے بہت حساس اور شدید ہو تا تھا، اب اُس کے بارے میں غیر جانبدار ، لا تعلق یا بے حس ہو جا تا ہے۔ بنا بریںانسان کی حقیقی شخصیت ، مزاج اور کردارکے تحفظ اور اس کی بقاءکے لئے منشیات کے بارے میںضروری معلومات حاصل کرنا اور لوگوں کو اس کے استعمال سے بچانا بے حد ضروری ہے۔

چندجانی پہچانی نشہ آور اشیاءچرس، افیون، ہیروئن، کوکین اور شراب ہیں۔ کچھ مارفین، پیتھاڈین ، کوڈین، میتھاڈان،ایمفیٹامن، کھانسی کے شربت اور سکون آورادویات وغیرہ ہیں جو بنائی توجاتی ہیں مریضوں کو، خاص طور پر جن کے آپریشن ہو تے ہیں ، درد سے آرام پہنچانے اور سُلانے کے لئے، لیکن اِن کو اچھے بھلے لوگ بھی آرام و سکون اور نیند لانے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں ، پھر آہستہ آہستہ اُن کے عادی اور ان کے مضر اثرات کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہ منشیات (اور ادویات) کس طرح انسان کے جسم وذہن پر اثرانداز ہوتی ہیں؟ اس کا مختصر ساذکر کیا جاتا ہے۔

چرس:یہ دنیا بھر میں تقریباً ہر جگہ پائے جانے والے بھنگ کے پودے سے تیا ر کی جاتی ہے، جسے کینابس ، میری جوانا، حشیش ، گردا وغیرہ کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں نشہ استعمال کرنے والوں کی ساٹھ سے پینسٹھ فیصد تعداد چر س یا حشیش ہی استعمال کرتی ہے ۔ اسے استعمال کرنے سے انسان کے تمام جسمانی اجزاءسست پڑ جاتے ہیں جس سے وقتی طور پرتو استعمال کرنے والا اپنے آپ کو قدرے آسودہ محسوس کرتا ہے، لیکن باربار اور مسلسل استعمال سے اس کے جسم اور ذہن پراِس کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اµس کی یادداشت متاثر ہوتی ہے۔ چال ڈھال، گفتگو اور سوچوں میںخلل پڑتا ہے۔ چیزو ں کی اہمیت ، ماہیت، رنگ ، حجم اور وزن کا درست اندازہ نہیں کرپاتا۔نظام تنفس میں خلل پڑتا ہے۔ دائمی اور خشک کھانسی ، ناک کا بہنا، چھاتی کی انفیکشن ، غنودگی، ڈیپریشن اس کے دیگر اثرات ہیں ۔ قو تِ پرکھ، تجزیہ و فیصلہ کمزور ہو جاتی ہے۔ اِس کا استعمال کرنے والا سماجی اور معاشرتی رشتوں اور کاموں سے بتدریج کٹتااور ناکارہ ہوتا چلاجاتا ہے۔

افیون اور افیون سے بنی ہوئی چیزیں: افیون افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کثرت سے پیدا ہونے والے پودے پوست کے ڈوڈے سے نکلنے والے لیس دار مواد سے تیار کی جاتی ہے ۔یہ بھی چرس کی طرح انسان کے مرکزی اعصابی نظام پر اثرانداز ہوتی ہے اور تقریباًوہ تمام جسمانی اور ذہنی کمزوریاں اور خلل پیدا کرتی ہے جو چرس یا حشیش سے پیدا ہوتی ہیں۔ان میں چال ڈھال، گفتگو اور بصارت میں خلل ، قوتِ تجزیہ و فیصلہ میں خلل ، غنودگی ، سانس کا دھیما پن، آنکھ کی پتلی کا سکڑجانا، سستی، کاہلی، قبض اور متلی قابل ِ ذکر ہیں۔ دل اور گردوں کی بیماریاں اس کامزید تحفہ ہیں۔کام کاج میں دل نہ لگنا اور عزیزواقارب سے کٹنا یا گریز اِس کا لازمی نتیجہ ہے ۔اگر بہت زیادہ مقدار میںلے لی جائے تو سانس رک رک کر آتاہے ، جلد لیس دار ہو جاتی ہے، پٹھوں میں تشنج کے دورے پڑتے ہیں اورنتیجتاًبے ہوشی اور اکثر اوقات موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔

ہیروئن: افیون ہی کو ایک کیمیکل پروسیس سے گزار کر سفید یا بھورے پاو¿ڈر کی شکل میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ، جسے نشہ کے عادی افراد مختلف طریقوں سے استعما ل کرتے ہیں۔ ہیروئن اس لحاظ سے حد درجہ خطرناک ہے کہ اس کا ایک آدھ بار کا استعمال انسان میں اسے بار بار استعمال کی طلب پیدا کرتا ہے اوروہ اس کے نشے کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ شدید جسمانی اور نفسیاتی انحصار پیدا کرتی ہے ۔ ہیروئن کے عادی شخص کا وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔رنگت زرد اور جنسی اور جسمانی طاقت ضائع ہونے لگتی ہے،منہ سے بد بو آتی ہے، پھوڑے پھینسیاں نکلتی ہیں،مریض کھانسی، بلغم، اور آخرکار تپدق میںمبتلا ہو جاتا ہے ۔ دل و گردوں اور اگر بذریعہ انجکشن لی جائے تو ، ہیپاٹائٹس سی اور ایڈز کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں ۔ دو تین سال کے عرصے میں ایک تندرست انسان ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر چلتی پھرتی لاش میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ ہیروئن اس کے جسم ، اس کے تمام اجزاءاور ذہن کو مفلوج اور تباہ کر دیتی ہے.... اگر ایسے شخص کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو وہ بہت دیر جی نہیں پاتا۔ایسے لوگ آپ کو شہر میں ہر کہیں نظر آتے ہیں۔

کوکین: کوکین، ایمفیٹامن اور کچھ ادویات ، جنہیں آج کل کلب ڈرگز کے نام سے جانا جاتا ہے ، انسانی جذبات کو متحرک اور بر انگیختہ کرتی ہیں اور اسے کسی بھی عذر کے طور پر انہی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا اثر اس کے استعمال کرنے سے چند منٹ بعد شروع ہو جاتا ہے۔ طبیعت میں عجیب قسم کا ہیجان ، جوش اور غیر معمولی مستعدی پیدا ہو جا تی ہے ۔ نیند اور بھوک اُڑ جاتی ہے۔ جسمانی کام کرنے کی استعدادبڑھ جاتی ہے۔ بظاہر اس کو استعمال کرنے والا اس کے نتیجے میں پید ا ہونے والی پھرتی، چستی اور جوش سے خوش ہوتا ہے اور اپنے آپ کو ایک بدلا ہو انسان محسوس کرتا ہے،پھر اسی شوق میں اس کا بار بار استعمال کرتا ہے، لیکن بالآخر اس کے تباہ کن اثرات کا شکار ہو جاتا ہے ۔آپ اپنے جسم کو آخر کتنا اور کب تک چابک ما ر مار کراُس کی استعداد سے زیادہ بھگائیں گے ۔ ایک دن یہ گِر پڑے گا اور پھر نہ اُٹھ سکے گا۔نیند اور بھوک کی کمی اس کے جسم کے اعصابی نظام کو تباہ کردیتی ہے۔ دورانِ خون بہت تیز ہو جاتا ہے، جس سے اکثر اوقات ناک، مُنہ اور کانو ں سے خون جاری ہو جاتا ہے یا فالج کا حملہ ہو جاتاہے۔ بے آرامی سے غصہ اور تلخی بڑھتی بڑھتی مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔ دل کے دورے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ نشے کا اثر ختم ہو نے پر انسان اپنے آپ کو بالکل پژمردہ اور نڈھال محسوس کرتا ہے۔ موڈ اور مزاج کی یک لخت اور بار بارتبدیلی بالآخر اُسے ڈیپریشن کا مریض بنادیتی ہے۔یہ تومنشیات کے وہ اثرات ہیں جو استعمال کرنے والے کے ذہن اور جسم پر پڑتے ہیں۔ اس کے نفسیاتی ، سماجی اور معاشی اثرات اس سے کہیں زیادہ تباہ کن ہیں، جن کی ایک ہلکی سی جھلک اوپر دکھائی گئی ہے۔ذلت ، رسوائی، تباہی اور خاندان کی بربادی نشہ باز کا مقدر ہے ، جس سے وہ کسی بھی صورت میں بچ نہیں سکتا۔

آئیے ہم سب مل کر اپنے آپ کو اور اپنے عزیزواقارب ، دوست احباب اور معاشرے کے ہر فرد کو منشیات کے مکروہ چنگل سے بچانے کے لئے کمربستہ ہو جائیں اور نہ صرف یہ کہ پاکستان کے نوے لاکھ نشے کے عادی افراد میں کسی ایک کا بھی مزید اضافہ نہ ہونے دیں، بلکہ ان نوے لاکھ افراد کو بھی ایک مریض سمجھتے ہوئے ان کی دل جوئی کریں، ان سے ہمدردی اور پیار سے پیش آئیں اور اُن کا علاج معالجہ کرواکر انہیں واپس ان کی اُسی ہنستی کھیلتی، سماجی، معاشی اور گھریلو زندگی میں واپس لائیں، جہاں سے وہ ہم صحت مندوں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے نکل گئے تھے۔ہم والدین ہیں یا اولاد، اُستاد ہیں یا شاگرد ، عالم دین ہیں یا عوامی نمائندے ، افسر ہیں یا ماتحت ، مالک ہیں یا ملازم ، سرکار ہیں یا عوام۔ پاکستان کے حال اور مستقبل کو منشیات کی وباسے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ہم سب پر یکساں عائد ہوتی ہے ۔ ہم چاہیں تو اس طوفان کو روک سکتے ہیں جو ہمارے معاشرے کی بنیادیں ہلانے کے لئے تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہا ہے ۔ یاد رکھئے جب تک سب محفوظ نہیں، کو ئی بھی محفوظ نہیں۔  ٭

 “¦ é ž„ í Ž’¢£¤ í „‚¦¤ ¢Ž ‚Ž ‚‹¤ š›–Ú

Ÿ«¤¡  ¥ ƒ ¥ ƒˆ§ž¥ Ÿ•Ÿ¢  Ÿ¤¡ Ÿ “¤„ œ¤ ƒ¤‹¢Ž ¢Ž’ œ¥ ƒ§¤ž¢¿í Ÿ “¤„ ’„˜Ÿž œŽ ¥ ¢ž¢¡ œ¤ „˜‹‹í ¢Ž Ÿ “¤„ œ¥ § £¢ ¥ œŽ¢‚Ž œ¥ ‰‡Ÿ œ Ÿžœ¤ ¢Ž ˜žŸ¤ „ —Ž Ÿ¤¡ ¤œ ‡£¦ ƒ¤“ œ¤„§ó˜Ÿ –¢Ž ƒŽ ’„˜Ÿž œ¤ ‡ ¥ ¢ž¤ Ÿ “¤„ œ¢  ’¤ ¦¤¡í ¤¦  ’ ¤ ‡’Ÿ ¢ ¦  ƒŽœ’ œ’ –Ž‰ œ¥ †Ž„ ŸŽ„‚ œŽ„¤ ¦¤¡ ¢Ž ª’ œ¥ ¤Žª†Ž  ’  œ¤ œ¤ ¬ž œ§ž„ ¦¥î ’ Ÿ•Ÿ¢  Ÿ¤¡ ’ œ¤ ˆ ‹‰›¤›¤ Ÿ†ž¤¡ ƒ¤“ œ¤ ‡£¤¡ ¤ ó

èàˆ ‹ ’ž ›‚ž ¤œ ‚’ ŒŽ£¤¢Ž ¥ ƒ ¤ ¤ Š„Ž ³‚‹ â•ž˜ ›”¢Ž ᜥ ›Ž¤‚  ¦Ž œ¥ ƒž ’¥ …œŽ ‹¤ 퇒 œ¥  „¤‡¥ Ÿ¤¡ ˆ§„¤’ Ÿ’šŽ ¦žœ ¦¢ £¥ó „š„¤“ ƒŽ ƒ„¦ ˆž œ¦ ŒŽ£¤¢Ž ž¦¢Ž ’¥  “¦ œŽœ¥ ˆž „§ó

èàŠ¢ ‹  ¥ ‚¤¢¤ ⍜¤¦áƒŽ „¤‚ ƒ§¤ œ œŽ ’ œ ˆ¦Ž¦ Ÿ’Š ¢Ž Ž‹  ‡žŒž¤ó’ œ ˜ž‡ œŽ œ¥ ¢Ž ’ œ¤ Œœ¢Ÿ¤ …Ž¤ ‚  œŽ ‹ ¤ œ¢ ‹œ§ ¥ ƒŽ “ŽŸ¤  ˜‚¤‹ ˆ £¥ ¤œ ƒœ’„ ¤ Š„¢   ¥ ³’œŽ ¤¢ŽŒ ‰”ž œ¤óŠ¢ ‹  “£¤ „§ ó ‚¤¢¤ ’¥  “¦ œ¥ ž£¥ ƒ¤’¥ Ÿ „ „§ ó ª œŽ ƒŽ „¤‚ ƒ§¤ œ œŽ ‡ž Œžó

èàŸ™ž ƒ¢Ž¦ Ÿ¤¡ ‚ƒ  ¥ ‚§¤ ˆ ‹ Ž¢ ›‚ž ƒ ¥ ‚Ž¦ ’ž¦ ‚¤…¥ œ¢ Ÿ˜Ÿ¢ž¤ Ž›Ÿ ˆŽ ¥ œ¥ žŸ Ÿ¤¡Œ Œ¥ ŸŽ ŸŽ œŽ ¦žœ œŽ ‹¤ ¢Ž ¬’¥ ª’ œ ƒˆ§„¢ ‚§¤  ¦¤¡ 󂁃  “£¤ „§ ¢Ž §Ž Ÿ¤¡ ‚„ ‚„ ƒŽ ™”¦ œŽ„ „§ó

èà “£¤ œ¥ ’Ÿ ¥ ¢‚“ ’ œ¤ ‚¦  œ¤ ³‚Ž¢Ž¤¤ œŽ £¥ ¢Ž ¢¦ ¬’¥ ‚ˆ ¥ œ¥ ž£¥ ¬…§ ‚§¤  ¦ ’œó

èàˆ ‹ Ÿ¦ ›‚ž Ÿ  Ÿ¤¡ ¤œ  “£¤  ¥ Ÿ¡ ’¥ ’Ž ‹‚ ¥ œ¢ œ¦ ¢Žƒ§Ž ¬’ ƒŽ ‡ ’¤ ‰Ÿž¦ œŽ ‹¤ó

èà‚¦¢ž Ž Ÿ¤¡ ‚ƒ  ¥ ‚¤…¤ œ¤ ˜„ ‚Ž‚‹ œŽ ‹¤í ¢¦ ‚§¤  “¥ œ ˜‹¤ „§ 휦„ „§ ƒ¦ž ‰› „¢ ¦ŸŽ ¦¥ó

èà‚§£¤ ‚ƒ  “¥ œ¤ ž„ Ÿ¤¡ Ÿ‚„ž ¦¢ £¥ ó ‚¦ ¢¡ ¢Ž ‚¤…¤¢¡ œ¥ –¥ “‹¦ Ž“„¥ …¢… £¥ ¢Ž žœ¤¡¦ ¤ ŸŽ¤• ‚  £¤¡ó

¤¦ ’ ›’Ÿ œ¤ ¦Ž¢¡ Ÿ¤¡ ’¥ ˆ ‹ Ÿ†ž¤¡ ¦¤¡ó ‡‚  ’  Ÿ¦‚ ¢Ž Ÿžœ œ¤ Ÿ›Ž Ž œŽ‹¦ „ŸŸ ‰‹¢‹¢›¤¢‹ „¢„¥ ¦¢£¥  “¦ œŽ ž¥ ¢Ž ¬’ œ¥ ¦¢ “ ¢ ‰¢’ Ÿ˜–ž ¦¢ ‡£¤¡ „¢ ƒ§Ž ¢¦ œˆ§ ‚§¤ œŽ ’œ„ ¦¥ó“Žš žŸŠž¢›„ ’¥ ’šž žŸŠž¢›„ ‚  ‡„ ¦¥ó³£¤¥ ‹¤œ§„¥ ¦¤¡ œ¦ ¤¦ ¦¢“ ¢ ‰¢’ Ÿ˜–ž œŽ ‹¤ ¥ ¢ž  “¦ ¢Ž ŠŸŽ‡¢ ‚¤…¤ ¢Ž Ÿ¡ œ¤ „Ÿ¤ Š„Ÿ œŽ ‹¤„ ¦¥ó ‡¢ “š›„ ƒ‹Ž¤ œ ž¦ §¢ … ‹¤„ ¦¥ó ‡¢  ’  œ¥  ‹Ž ’¥ ŸŽ‹ ¤ ¢Ž ™¤Ž„ œ ›ž˜ ›Ÿ˜ œŽ ‹¤„ ¦¥ó ‡¢ ’ œ¢ ƒ ¥ ³ƒ ’¥ ‚¤ ¦ œŽ ‹¤„ ¦¥ó ‡¢ ’ œ¢ §Ž œ¥ ƒœ¤¦ ¢Ž ³ŽŸ ‹¦ Ÿ‰¢ž ’¥  ‹¤  ž¤¢¡í ›‚Ž’„ ¢¡í ¢¤Ž ¢¡ ¢Ž  ‹¤ œ¥ Œ§¤Ž¢¡ ƒŽ ž ƒ§¤ œ„ ¦¥óœ  ˆ¤¢¡ œ Ÿ‰”ž ¦¥ ¢Ž ¢¦ œ’ –Ž‰ ’ ƒŽ †Ž ‹¦¢„¤ ¦¤¡î

œ¢£¤ ‚§¤ ¤’  ‚„„¤ ¤ œ¤Ÿ¤£¤ Ÿ¢‹ ‡¢ ˜Ž•¤ –¢Ž ƒŽ¦ ¤ ¢ ‡’Ÿ ¤ œ¤š¤„ œ¢ „‚‹¤ž œŽ‹¥ Ÿ “¤„ œ¦ž„ ¦¥ó ¤’¤ “¤£ œ ‚Ž ‚Ž ¢Ž Ÿ’ž’ž ’„˜Ÿž  ’  œ¢ ’ œ ˜‹¤ ‚  ‹¤„ ¦¥í’ œ¤ ‡’Ÿ ¤ ¢Ž ¦ ¤ œ ŽœŽ‹¤ ¢Ž œ¤š¤„ ‚§¤ Ÿ’„›ž ¤ žŸ‚¥ žŸ‚¥ ‹¢Ž ¤¥ œ¥ ž£¥ ‚‹ž ‡„¤ ¦¥ ¢Ž  ’  ¢¦ œˆ§ œŽ  “Ž¢˜ œŽ ‹¤„ ¦¥ ‡¢ ¢¦ ‚›£Ÿ¤ ¦¢“ ¢ ‰¢’ œ‚§¤  ¦¤¡ œŽ ’œ„ ¢Ž ¢¦ œˆ§ œŽ  ˆ§¢  ‹¤„ ¦¥ ‡¢ ’¥ œŽ  ˆ¦£¥ ó ¬’ œ¤ ƒ’ ‹   ƒ’ ‹ ‚‹ž ‡„¤ ¦¥ í ‰„¤½ œ¦ ¬’ œ¥ ’Ÿ‡¤ ¢ Ÿ¦‚¤  —Ž¤„ ¢ Š¤ž„ ‚‹ž ‡„¥ ¦¤¡ ó ‡  ˆ¤¢¡ œ¥ ‚Ž¥ Ÿ¤¡ ¢¦ ƒ¦ž¥ ‚¦„ ‰’’ ¢Ž “‹¤‹ ¦¢ „ „§í ‚ ¬’ œ¥ ‚Ž¥ Ÿ¤¡ ™¤Ž ‡ ‚‹Ž í ž „˜ž› ¤ ‚¥ ‰’ ¦¢ ‡ „ ¦¥ó ‚  ‚Ž¤¡ ’  œ¤ ‰›¤›¤ “Š”¤„ í Ÿ‡ ¢Ž œŽ‹Žœ¥ „‰š— ¢Ž ’ œ¤ ‚›£ œ¥ ž£¥ Ÿ “¤„ œ¥ ‚Ž¥ Ÿ¤¡•Ž¢Ž¤ Ÿ˜ž¢Ÿ„ ‰”ž œŽ  ¢Ž ž¢¢¡ œ¢ ’ œ¥ ’„˜Ÿž ’¥ ‚ˆ  ‚¥ ‰‹ •Ž¢Ž¤ ¦¥ó

ˆ ‹‡ ¤ ƒ¦ˆ ¤  “¦ ³¢Ž “¤£ ˆŽ’í š¤¢ í ¦¤Ž¢£ í œ¢œ¤  ¢Ž “Ž‚ ¦¤¡ó œˆ§ ŸŽš¤ í ƒ¤„§Œ¤  í œ¢Œ¤ í Ÿ¤„§Œ í¤Ÿš¤…Ÿ í œ§ ’¤ œ¥ “Ž‚„ ¢Ž ’œ¢  È¢Ž‹¢¤„ ¢™¤Ž¦ ¦¤¡ ‡¢ ‚ £¤ „¢‡„¤ ¦¤¡ ŸŽ¤•¢¡ œ¢í Š” –¢Ž ƒŽ ‡  œ¥ ³ƒŽ¤“  ¦¢ „¥ ¦¤¡ í ‹Ž‹ ’¥ ³ŽŸ ƒ¦ ˆ ¥ ¢Ž ’¬ž ¥ œ¥ ž£¥í ž¤œ  ª  œ¢ ˆ§¥ ‚§ž¥ ž¢ ‚§¤ ³ŽŸ ¢ ’œ¢  ¢Ž  ¤ ‹ ž ¥ œ¥ ž£¥ ’„˜Ÿž œŽ  “Ž¢˜ œŽ ‹¤„¥ ¦¤¡ 탧Ž ³¦’„¦ ³¦’„¦ ¬  œ¥ ˜‹¤ ¢Ž   œ¥ Ÿ•Ž †Ž„ œ “œŽ ¦¢ ‡„¥ ¦¤¡ó¤¦ Ÿ “¤„ ⁢Ž ‹¢¤„á œ’ –Ž‰  ’  œ¥ ‡’Ÿ ¢¦  ƒŽ †Ž ‹ ¦¢„¤ ¦¤¡î ’ œ ŸŠ„”Ž ’œŽ œ¤ ‡„ ¦¥ó

ˆŽ’餦 ‹ ¤ ‚§Ž Ÿ¤¡ „›Ž¤‚Ç ¦Ž ‡¦ ƒ£¥ ‡ ¥ ¢ž¥ ‚§  œ¥ ƒ¢‹¥ ’¥ „¤ Ž œ¤ ‡„¤ ¦¥í ‡’¥ œ¤ ‚’ í Ÿ¤Ž¤ ‡¢ í ‰“¤“ í Ž‹ ¢™¤Ž¦ œ¥  Ÿ¢¡ ’¥ ‚§¤ ‡  ‡„ ¦¥ó ‹ ¤ ‚§Ž Ÿ¤¡  “¦ ’„˜Ÿž œŽ ¥ ¢ž¢¡ œ¤ ’…§ ’¥ ƒ¤ ’…§ š¤”‹ „˜‹‹ ˆŽ ’ ¤ ‰“¤“ ¦¤ ’„˜Ÿž œŽ„¤ ¦¥ ó ’¥ ’„˜Ÿž œŽ ¥ ’¥  ’  œ¥ „ŸŸ ‡’Ÿ ¤ ‡£ ’’„ ƒ ‡„¥ ¦¤¡ ‡’ ’¥ ¢›„¤ –¢Ž ƒŽ„¢ ’„˜Ÿž œŽ ¥ ¢ž ƒ ¥ ³ƒ œ¢ ›‹Ž¥ ³’¢‹¦ Ÿ‰’¢’ œŽ„ ¦¥í ž¤œ  ‚Ž‚Ž ¢Ž Ÿ’ž’ž ’„˜Ÿž ’¥ ’ œ¥ ‡’Ÿ ¢Ž ¦  ƒŽª’ œ¥  „¦£¤ Ÿ•Ž †Ž„ ŸŽ„‚ ¦¢„¥ ¦¤¡ó µ’ œ¤ ¤‹‹“„ Ÿ„†Ž ¦¢„¤ ¦¥ó ˆž Œ§ží š„¢ ¢Ž ’¢ˆ¢¡ Ÿ¤¡Šžž ƒ„ ¦¥ó ˆ¤¢ ¡ œ¤ ¦Ÿ¤„ í Ÿ¦¤„í Ž  퉇Ÿ ¢Ž ¢  œ ‹Ž’„  ‹¦  ¦¤¡ œŽƒ„ó —Ÿ „ š’ Ÿ¤¡ Šžž ƒ„ ¦¥ó ‹£Ÿ¤ ¢Ž Š“œ œ§ ’¤ í  œ œ ‚¦ í ˆ§„¤ œ¤  š¤œ“  í ™ ¢‹¤í Œ¤ƒŽ¤“  ’ œ¥ ‹¤Ž †Ž„ ¦¤¡ ó ›¢ „ª ƒŽœ§í „‡¤¦ ¢ š¤”ž¦ œŸ¢Ž ¦¢ ‡„¤ ¦¥ó ª’ œ ’„˜Ÿž œŽ ¥ ¢ž ’Ÿ‡¤ ¢Ž Ÿ˜“Ž„¤ Ž“„¢¡ ¢Ž œŸ¢¡ ’¥ ‚„‹Ž¤‡ œ…„¢Ž  œŽ¦ ¦¢„ ˆž‡„ ¦¥ó

š¤¢  ¢Ž š¤¢  ’¥ ‚ ¤ ¦¢£¤ ˆ¤¤¡é š¤¢  š™ ’„  ¢Ž ƒœ’„  œ¥ ›‚£ž¤ ˜ž›¢¡ Ÿ¤¡ œ†Ž„ ’¥ ƒ¤‹ ¦¢ ¥ ¢ž¥ ƒ¢‹¥ ƒ¢’„ œ¥ Œ¢Œ¥ ’¥  œž ¥ ¢ž¥ ž¤’ ‹Ž Ÿ¢‹ ’¥ „¤Ž œ¤ ‡„¤ ¦¥ ó¤¦ ‚§¤ ˆŽ’ œ¤ –Ž‰  ’  œ¥ ŸŽœ¤ ˜”‚¤  —Ÿ ƒŽ †Ž ‹ ¦¢„¤ ¦¥ ¢Ž „›Ž¤‚Ç¢¦ „ŸŸ ‡’Ÿ ¤ ¢Ž ¦ ¤ œŸ¢Ž¤¡ ¢Ž Šžž ƒ¤‹ œŽ„¤ ¦¥ ‡¢ ˆŽ’ ¤ ‰“¤“ ’¥ ƒ¤‹ ¦¢„¤ ¦¤¡ó  Ÿ¤¡ ˆž Œ§ží š„¢ ¢Ž ‚”Ž„ Ÿ¤¡ Šžž í ›¢„ª „‡¤¦ ¢ š¤”ž¦ Ÿ¤¡ Šžž í ™ ¢‹¤ í ’ ’ œ ‹§¤Ÿ ƒ í ³ œ§ œ¤ ƒ„ž¤ œ ’œ‡ í ’’„¤í œ¦ž¤í ›‚• ¢Ž Ÿ„ž¤ ›‚ž ª œŽ ¦¤¡ó ‹ž ¢Ž Ž‹¢¡ œ¤ ‚¤ŸŽ¤¡ ’ œŸ¤‹ „‰š¦ ¦¤¡óœŸ œ‡ Ÿ¤¡ ‹ž  ¦ ž  ¢Ž ˜¤¢›Ž‚ ’¥ œ…  ¤ Ž¤ ª’ œ žŸ¤  „¤‡¦ ¦¥ 󁝎 ‚¦„ ¤‹¦ Ÿ›‹Ž Ÿ¤¡ž¥ ž¤ ‡£¥ „¢ ’ ’ Žœ Žœ œŽ ³„¦¥ 퇞‹ ž¤’ ‹Ž ¦¢ ‡„¤ ¦¥í ƒ…§¢¡ Ÿ¤¡ „“ ‡ œ¥ ‹¢Ž¥ ƒ„¥ ¦¤¡ ¢Ž „¤‡„Ç‚¥ ¦¢“¤ ¢Ž œ†Ž ¢›„ Ÿ¢„ ‚§¤ ¢›˜ ¦¢ ‡„¤ ¦¥ó

¦¤Ž¢£ é š¤¢  ¦¤ œ¢ ¤œ œ¤Ÿ¤œž ƒŽ¢’¤’ ’¥ Ž œŽ ’š¤‹ ¤ ‚§¢Ž¥ ƒ¢¿ŒŽ œ¤ “œž Ÿ¤¡ „‚‹¤ž œŽ ‹¤ ‡„ ¦¥ 퇒¥  “¦ œ¥ ˜‹¤ šŽ‹ ŸŠ„žš –Ž¤›¢¡ ’¥ ’„˜Ÿ ž œŽ„¥ ¦¤¡ó ¦¤Ž¢£  ’ ž‰— ’¥ ‰‹ ‹Ž‡¦ Š–Ž œ ¦¥ œ¦ ’ œ ¤œ ³‹§ ‚Ž œ ’„˜Ÿž  ’  Ÿ¤¡ ’¥ ‚Ž ‚Ž ’„˜Ÿž œ¤ –ž‚ ƒ¤‹ œŽ„ ¦¥ ¢Ž¢¦ ’ œ¥  “¥ œ ˜‹¤ ¦¢ ‡„ ¦¥ó ¤¦ “‹¤‹ ‡’Ÿ ¤ ¢Ž  š’¤„¤  ‰”Ž ƒ¤‹ œŽ„¤ ¦¥ ó ¦¤Ž¢£  œ¥ ˜‹¤ “Š” œ ¢  œŸ ¦¢  “Ž¢˜ ¦¢ ‡„ ¦¥ 󎠝„ Ž‹ ¢Ž ‡ ’¤ ¢Ž ‡’Ÿ ¤ –›„ •£˜ ¦¢ ¥ ž„¤ ¦¥íŸ ¦ ’¥ ‚‹ ‚¢ ³„¤ ¦¥í ƒ§¢¥ ƒ§¤ ’¤¡  œž„¤ ¦¤¡íŸŽ¤• œ§ ’¤í ‚ž™Ÿí ¢Ž ³ŠŽœŽ „ƒ‹› Ÿ¤¡Ÿ‚„ž ¦¢ ‡„ ¦¥ ó ‹ž ¢ Ž‹¢¡ ¢Ž Ž ‚Ž¤˜¦  ‡œ“  ž¤ ‡£¥ „¢ í¦¤ƒ…£…’ ’¤ ¢Ž ¤Œ œ¤ ‚¤ŸŽ¤¡ ž‰› ¦¢ ‡„¤ ¦¤¡ ó ‹¢ „¤  ’ž œ¥ ˜Ž”¥ Ÿ¤¡ ¤œ „ ‹Ž’„  ’  ¦Œ¤¢¡ œ Œ§ ˆ¦ ‚  œŽ ˆž„¤ ƒ§Ž„¤ ž“ Ÿ¤¡ „‚‹¤ž ¦¢ ‡„ ¦¥ ó ¦¤Ž¢£  ’ œ¥ ‡’Ÿ í ’ œ¥ „ŸŸ ‡£ ¢Ž ¦  œ¢ Ÿšž¢‡ ¢Ž „‚¦ œŽ ‹¤„¤ ¦¥à Ž ¤’¥ “Š” œ ‚Ž¢›„ ˜ž‡  ¦ œ¤ ‡£¥ „¢ ¢¦ ‚¦„ ‹¤Ž ‡¤  ¦¤¡ ƒ„ó¤’¥ ž¢ ³ƒ œ¢ “¦Ž Ÿ¤¡ ¦Ž œ¦¤¡  —Ž ³„¥ ¦¤¡ó

œ¢œ¤ é œ¢œ¤ í ¤Ÿš¤…Ÿ  ¢Ž œˆ§ ‹¢¤„ 퇠¦¤¡ ȇ œž œž‚ ŒŽ œ¥  Ÿ ’¥ ‡  ‡„ ¦¥ 큠’ ¤ ‡‚„ œ¢ Ÿ„‰Žœ ¢Ž ‚Ž  ¤Š„¦ œŽ„¤ ¦¤¡ ¢Ž ’¥ œ’¤ ‚§¤ ˜Ž œ¥ –¢Ž ƒŽ  ¦¤ Ÿ›”‹ œ¥ ž£¥ ’„˜Ÿž œ¤ ‡„ ¦¥ó ’ œ †Ž ’ œ¥ ’„˜Ÿž œŽ ¥ ’¥ ˆ ‹ Ÿ … ‚˜‹ “Ž¢˜ ¦¢ ‡„ ¦¥ó –‚¤˜„ Ÿ¤¡ ˜‡¤‚ ›’Ÿ œ ¦¤‡  í ‡¢“ ¢Ž ™¤Ž Ÿ˜Ÿ¢ž¤ Ÿ’„˜‹¤ ƒ¤‹ ¦¢ ‡ „¤ ¦¥ ó  ¤ ‹ ¢Ž ‚§¢œ ¬ ‡„¤ ¦¥ó ‡’Ÿ ¤ œŸ œŽ ¥ œ¤ ’„˜‹‹‚§ ‡„¤ ¦¥ó ‚—¦Ž ’ œ¢ ’„˜Ÿž œŽ ¥ ¢ž ’ œ¥  „¤‡¥ Ÿ¤¡ ƒ¤‹  ¦¢ ¥ ¢ž¤ ƒ§Ž„¤í ˆ’„¤ ¢Ž ‡¢“ ’¥ Š¢“ ¦¢„ ¦¥ ¢Ž ƒ ¥ ³ƒ œ¢ ¤œ ‚‹ž ¦¢  ’  Ÿ‰’¢’ œŽ„ ¦¥íƒ§Ž ’¤ “¢› Ÿ¤¡ ’ œ ‚Ž ‚Ž ’„˜Ÿž œŽ„ ¦¥í ž¤œ  ‚ž³ŠŽ ’ œ¥ „‚¦ œ  †Ž„ œ “œŽ ¦¢ ‡„ ¦¥ 󁳃 ƒ ¥ ‡’Ÿ œ¢ ³ŠŽ œ„  ¢Ž œ‚ „œ ˆ‚œ Ÿ Ž ŸŽ œŽ¬’ œ¤ ’„˜‹‹ ’¥ ¤‹¦ ‚§£¤¡ ¥ ó ¤œ ‹  ¤¦ ªŽ ƒ¥  ¢Ž ƒ§Ž  ¦ ¬…§ ’œ¥ ó ¤ ‹ ¢Ž ‚§¢œ œ¤ œŸ¤ ’ œ¥ ‡’Ÿ œ¥ ˜”‚¤  —Ÿ œ¢ „‚¦ œŽ‹¤„¤ ¦¥ó ‹¢Ž ª Š¢  ‚¦„ „¤ ¦¢ ‡„ ¦¥í ‡’ ’¥ œ†Ž ¢›„  œí Ÿ¬ ¦ ¢Ž œ ¢ ¡ ’¥ Š¢  ‡Ž¤ ¦¢ ‡„ ¦¥ ¤ šž‡ œ ‰Ÿž¦ ¦¢ ‡„¦¥ó ‚¥ ³ŽŸ¤ ’¥ ™”¦ ¢Ž „žŠ¤ ‚§„¤ ‚§„¤ Ÿ‡ œ ‰”¦ ‚  ‡„¤ ¦¥ó ‹ž œ¥ ‹¢Ž¥ œ Š–Ž¦ ‚¦„ ‚§ ‡„ ¦¥ó  “¥ œ †Ž Š„Ÿ ¦¢  ¥ ƒŽ  ’  ƒ ¥ ³ƒ œ¢ ‚žœž ƒ‘ŸŽ‹¦ ¢Ž  Œ§ž Ÿ‰’¢’ œŽ„ ¦¥ó Ÿ¢Œ ¢Ž Ÿ‡ œ¤ ¤œ žŠ„ ¢Ž ‚Ž ‚Ž„‚‹¤ž¤ ‚ž³ŠŽ ¬’¥ Œ¤ƒŽ¤“  œ ŸŽ¤• ‚ ‹¤„¤ ¦¥ó¤¦ „¢Ÿ “¤„ œ¥ ¢¦ †Ž„ ¦¤¡ ‡¢ ’„˜Ÿž œŽ ¥ ¢ž¥ œ¥ ¦  ¢Ž ‡’Ÿ ƒŽ ƒ„¥ ¦¤¡ó ’ œ¥  š’¤„¤ í ’Ÿ‡¤ ¢Ž Ÿ˜“¤ †Ž„ ’ ’¥ œ¦¤¡ ¤‹¦ „‚¦ œ  ¦¤¡í ‡  œ¤ ¤œ ¦žœ¤ ’¤ ‡§žœ ¢ƒŽ ‹œ§£¤ £¤ ¦¥óž„ í Ž’¢£¤í „‚¦¤ ¢Ž Š ‹  œ¤ ‚Ž‚‹¤  “¦ ‚ œ Ÿ›‹Ž ¦¥ í ‡’ ’¥ ¢¦ œ’¤ ‚§¤ ”¢Ž„ Ÿ¤¡ ‚ˆ  ¦¤¡ ’œ„ó

³£¤¥ ¦Ÿ ’‚ Ÿž œŽ ƒ ¥ ³ƒ œ¢ ¢Ž ƒ ¥ ˜¤¢›Ž‚ í ‹¢’„ ‰‚‚ ¢Ž Ÿ˜“Ž¥ œ¥ ¦Ž šŽ‹ œ¢ Ÿ “¤„ œ¥ ŸœŽ¢¦ ˆ ž ’¥ ‚ˆ ¥ œ¥ ž£¥ œŸŽ‚’„¦ ¦¢ ‡£¤¡ ¢Ž  ¦ ”Žš ¤¦ œ¦ ƒœ’„  œ¥  ¢¥ žœ§  “¥ œ¥ ˜‹¤ šŽ‹ Ÿ¤¡ œ’¤ ¤œ œ ‚§¤ Ÿ¤‹ •š¦  ¦ ¦¢ ¥ ‹¤¡í ‚žœ¦    ¢¥ žœ§ šŽ‹ œ¢ ‚§¤ ¤œ ŸŽ¤• ’Ÿ‡§„¥ ¦¢£¥   œ¤ ‹ž ‡¢£¤ œŽ¤¡í   ’¥ ¦Ÿ‹Ž‹¤ ¢Ž ƒ¤Ž ’¥ ƒ¤“ ³£¤¡ ¢Ž ¬  œ ˜ž‡ Ÿ˜ž‡¦ œŽ¢œŽ  ¦¤¡ ¢ƒ’   œ¤ ¬’¤ ¦ ’„¤ œ§¤ž„¤í ’Ÿ‡¤í Ÿ˜“¤ ¢Ž §Ž¤ž¢  ‹¤ Ÿ¤¡ ¢ƒ’ ž£¤¡í ‡¦¡ ’¥ ¢¦ ¦Ÿ ”‰„ Ÿ ‹¢¡ œ¤ Ÿ‡ŽŸ ¦ ™šž„ œ¤ ¢‡¦ ’¥  œž £¥ „§¥ó¦Ÿ ¢ž‹¤  ¦¤¡ ¤ ¢ž‹í ¬’„‹ ¦¤¡ ¤ “Ž‹ í ˜žŸ ‹¤  ¦¤¡ ¤ ˜¢Ÿ¤  Ÿ£ ‹¥ í š’Ž ¦¤¡ ¤ Ÿ„‰„ í Ÿžœ ¦¤¡ ¤ ŸžŸ í ’ŽœŽ ¦¤¡ ¤ ˜¢Ÿó ƒœ’„  œ¥ ‰ž ¢Ž Ÿ’„›‚ž œ¢ Ÿ “¤„ œ¤ ¢‚’¥ Ÿ‰š¢— Žœ§ ¥ œ¤ Ÿ¦ ‹Ž¤ ¦Ÿ ’‚ ƒŽ ¤œ’¡ ˜£‹ ¦¢„¤ ¦¥ ó ¦Ÿ ˆ¦¤¡ „¢ ’ –¢š  œ¢ Ž¢œ ’œ„¥ ¦¤¡ ‡¢ ¦ŸŽ¥ Ÿ˜“Ž¥ œ¤ ‚ ¤‹¤¡ ¦ž ¥ œ¥ ž£¥ „¤¤ ’¥ ¦ŸŽ¤ –Žš ‚§ Ž¦ ¦¥ ó ¤‹ Žœ§£¥ ‡‚ „œ ’‚ Ÿ‰š¢—  ¦¤¡í œ¢ £¤ ‚§¤ Ÿ‰š¢—  ¦¤¡ó è

مزید : کالم