شام کی بغاوت انجام کی طرف گام زن

شام کی بغاوت انجام کی طرف گام زن
شام کی بغاوت انجام کی طرف گام زن

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شام کے صدر بشار الاسد نے کچھ روز پہلے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر باغی ”راہ راست“ پر نہ آئے تو حکومت اُن کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کر سکتی ہے۔ بعد میں اِس بیان کی تردید کر دی گئی اور کہا گیا کہ شام کے پاس نہ تو کیمیاوی اسلحہ موجود ہے اور اگر ہو بھی تو وہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف یہ اسلحہ کیسے استعمال کر سکتا ہے۔یہ محض مغرب کا پروپیگنڈا ہے۔

 صدر بشار الاسد کی اس دھمکی کے بعد صدر اوبامہ نے اپنی جوابی دھمکی میں کہا کہ اگر ایسا ہوا تو امریکہ اور ناٹو، شام کے خلاف مناسب ”اقدام“ کرے گی۔ دُنیا کے لئے اِس اقدام کی وضاحت چنداں ضروری نہیں۔ افغانستان، عراق اور لیبیا کے ”اقدام“ سب کے سامنے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر چین اور روس، شام کی حمایت نہ کرتے تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اتفاق رائے سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف ناٹو کو لانچ کرنے کی اجازت بہت پہلے مل چکی ہوتی!

اس امریکی ”جوابی دھمکی“ پر حال ہی میں ایک کالم میں رابرٹ فسک(Fisk) نے بڑا دلچسپ تبصرہ کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

” جی ہاں! اگر بشار الاسد باغیوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کریں گے تو صدر اوبامہ، میڈم کلنٹن اور ناٹو بہت سخت ناراض ہو جائیں گے۔ اس موضوع پر اسلحہ کے وہ جعلی ماہرین اور مبصرین جن کو یہ بھی معلوم نہیں کہ دُنیا کے نقشے پر شام کہاں ہے وہ بڑھ چڑھ کر مسٹرڈ گیس، کلورین گیس اور دوسر ی مہلک گیسوں کی تفصیل بیان کئے جا رہے ہیں۔ یہ وہی سپیشلسٹ ہیں جنہوں نے نو گیارہ کے حادثے کی کوئی وارننگ نہیں دی تھی۔ لیکن2003ءمیں یہ وارننگ ضرور جاری فرمائی تھی کہ صدام حسین کے پاس ہمہ گیر تباہی پھیلانے والے بہت سے ہتھیار(WMD) موجود ہیں۔ مغرب کامیڈیا ان لوگوں کو ”گمنام انٹیلی جنس ذرائع“ کا نام دیا کرتا ہے“۔

یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ مہلک کیمیاوی اسلحہ آج کس ملک کے پاس نہیں ہے؟.... لوگوں کو اس کے بیچنے والوں کا بھی پتہ ہے اور خریدنے والوں کا بھی۔ کسی جگہ مَیں نے یہ بھی پڑھا تھا کہ بھارت اور پاکستان دونوں کے پاس یہ ہتھیار ہیں۔ لیکن اس کی تصدیق یا تردید نہیںکی جا سکتی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے اس اسلحہ کا رکھنا، اس کو بنانا اور اس کو استعمال کرنا ممنوع ہے۔

برسبیل ِ حوالہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ زہریلی گیسوں کا پہلا استعمال جنگ عظیم اول میںجرمنوں نے کیا۔ بائیس اپریلانیس سو پندرہ کو ایپرس( فرانس) کے محاذ پر جرمنی نے اتحادیوں کے خلاف گیس استعمال کی ، جس کی زد میں وہ ہندوستانی ٹروپس بھی آئے جو اس جنگ میں پہلی بار تاجِ برطانیہ کے ماتحت، کسی یورپی محاذ پر نبرد آزماد ہوئے تھے۔ زیادہ تفصیل کا یہ محل نہیں۔.... لیکن یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ زہریلی گیسوں کا آخری استعمال بھی اِسی جنگ میں ہوا۔ یہ استعمال مشرقِ وسطیٰ میں 1917ءمیں فلسطین میں جنگ کرتے ہوئے، برطانوی جنرل ایلن بائی نے ترک فوج کے خلاف کیا تھا۔

امریکہ نے شام کو جو یہ وارننگ دی ہے وہ دراصل روس اور چین کے خلاف ہے کہ یہ گیسیں بڑی مقدار میں ان دونوں ملکوں کے پاس موجود ہیں اور جس طرح شامی افواج کا بیشتر اسلحہ روسی ساخت کا ہے، اسی طرح شائد مہلک گیسوں کے یہ گولے بھی ماسکو سے دمشق پہنچ چکے ہوں گے۔

اگر آپ مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو ایران،عراق، شام اور لبنان کو ملانے والا ایک نصف دائرہ(ہلال) بن جاتا ہے۔ ان چاروں ممالک پر چونکہ شیعہ مسلک کے مسلمانوں کی حکومت ہے اس لئے اس نیم دائرے کو ”شیعہ ہلال“ بھی کہا جاتا ہے۔ صدام کے خاتمے کے بعد اب عراق میں جو حکومت برسر اقتدار ہے، وہ اپنے مشرقی ہمسائے ایران کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ امریکہ اور ایران میں اینٹ اور کتے کا بیر ہے، پھر بھی بغداد ، درپردہ (Covertly) تہران کی مدد کو تیار رہتا ہے۔

 اس ”شیعہ ہلال“ کے جواب میں ہی سُنی عربوں نے بھی ایک ”سُنی ہلال“ تشکیل دیا ہوا ہے جو سعودی عرب(بمعہ عرب امارات کے) مصر، سوڈن، تیونس اور مراکش تک پھیلا ہوا ہے۔ .... شام کے بیشتر باغیوں کا تعلق اسی”سُنی ہلال“ کی سرزمینوں سے ہے۔ اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ یا یورپ کا مفاد کس ”ہلال“ کو سپورٹ کرنے میں ہے۔ اہل ِ مغرب کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ شیعہ کون ہے اور سُنی کون ہے۔ اُن کو تو اپنے مفادات سے غرض ہے اور چونکہ امریکہ اور یورپ کے مفاد تیل اور گیس کے معاملے پر آ کر ایک جگہ یکجا (Converge) ہو جاتے ہیں، اس لئے مغربی دُنیا ”سُنی ہلال“ کی حامی اور سپورٹر ہے۔

شام کے باغیوں کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے میں اس کی شمالی اور جنوبی سرحدوں پر جو ممالک واقع ہیں، (ترکی اور اسرائیل) ان کا مقابلہ صدر بشار الاسد زیادہ دیر تک نہیںکر سکیں گے۔ اس لئے پاکستان نے اچھا فیصلہ کیا ہے کہ اپنے سفارتی عملے کو دمشق سے واپس بلا لیا ہے اور وہاں اپنا سفارت خانہ اُس وقت تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے جب تک شامی دارالحکومت میں حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ جب یہ سطور قلم بند کی جا رہی ہیں تو خبریں آ رہی ہیں کہ باغیوں نے دمشق کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ دمشق میں پاکستانی سفارت خانے کے کل26سٹاف ممبر اور اُن کے اہل و عیال تھے جن کو براستہ لبنان واپس نکال لیا گیا ہے۔.... حالات کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دمشق شہر سے جو شاہراہ دمشق کے ہوائی اڈے کی طرف جاتی ہے، وہ محفوظ نہیں۔ اِس شاہراہ کے دائیں بائیں حکومت کے حامیوں اور باغیوں کا قبضہ ہے۔ دونوں جانب سے فائرنگ اور اتلاف ِ جان ایک معمول ہے اِس لئے پاکستان نے اپنے سفارت خانے کے سٹاف کو دمشق کے جنوب میں واقع لبنان کی راہ واپس نکالا ہے۔

دمشق کے دارالحکومت میںستر سے زیادہ بیرونی ممالک کے سفارت خانے ہیں، جن میں سے اکثریت اپنے اپنے ملکوں کو واپس جا چکی ہے۔.... پاکستان نے شام کے مسئلے پر ایک حقیقت پسندانہ موقف اختیار کر رکھا ہے۔ جہاں ہم شام کی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں وہاںہمارا موقف یہ بھی ہے کہ شام میں رہنے والے تمام فرقوں، گروہوں اور آبادیوںکی خواہشات کا احترام کیا جائے اور یہ مسئلہ طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کئی بار شام کو وارننگ دی ہے کہ القاعدہ کی ترک نازیوں سے بچا جائے اور ان کو اپنی آبادیوں میں گھس آنے سے روکا جائے۔ پاکستان کو یہ سبق گزشتہ دس برسوں میں ”بخوبی“ مل چکا ہے۔ پاکستان کا مشورہ شام کو یہی رہا ہے کہ وہ پاکستان کے ماضی ¿ قریب سے سبق سیکھے اور ان شدت پسند اور عسکریت پسند گروہوں کو شام کے سوادِ اعظم کے ساتھ گھل مل جانے سے روکے جن کا واحد ایجنڈا ساتویں صدی عیسوی کے اسلام کی روایات کو اب اکیسویں صدی میں بھی بالکل انہی قدیم پیمانوں پر ازسرِ نو تازہ اور لاگو کرنا ہے جو اسلام کے سنہری دور کی ابتدائی صدی تھی۔

ان ”اسلام پسند“ حضرات کے پائے ثبات کی ”استقامت“ کا اندازہ اس خبر سے بھی لگایئے کہ بہت سے شدت پسند پاکستانی گروہ پہلے پاکستان سے ترکی گئے ہیں اور پھر وہاں سے چوری چھپے سرحد پار کر کے شام میں داخل ہو چکے ہیں اور باغیوں کے ساتھ مل کر ”سلفی اسلام“ کا احیاءکرنے میں مصروف ہیں۔ .... یہ ”سلفی اسلام“ کیا ہے، اس پر انشا اللہ بعد میں بات کریں گے۔  ٭

مزید : کالم