ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے نام ”اقبالیاتی مکاتیب“

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے نام ”اقبالیاتی مکاتیب“
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے نام ”اقبالیاتی مکاتیب“

  

مطالعہ اقبالؒ کی کئی جہتیں ہیں۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی تحقیق کی جہت میں تخصص رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ اقبالیات کے مطالعہ میں گزرا ہے۔ پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی اسی حوالے سے لکھا۔ علامہ اقبالؒ کی سوانح عمری تحریر کرتے ہوئے جتنی محنت کی، اس کا اعتراف فرزند اقبال جناب ڈاکٹر جاوید اقبال نے ان الفاظ میں کیا:”آپ کی کتاب علامہ اقبال: شخصیت اور فن موصول ہوگئی تھی، مَیں نے دیکھ لی ہے۔ اچھی کتاب ہے، محنت سے لکھی ہے۔ حیات اقبالؒ کا مطالعہ ان کی فکر اور فن کے ارتقاءکی روشنی میں کیا گیا ہے“۔ اس کے علاوہ ہاشمی صاحب نے پچاس کے لگ بھگ ایم اے اور پی ایچ ڈی مقالات کی نگرانی کا فریضہ انجام دیا۔ کئی ملکی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں مقالے پڑھے۔ اس طویل ریاضت ہی کا نتیجہ ہے کہ ممتاز ہندوستانی سکالر ڈاکٹر گیان چند جین نے ان کے نام ایک مکتوب میں لکھا:”تمام مندوبین میں، مَیں صرف آپ سے ملنے کا مشتاق تھا، کیونکہ آپ محققین اقبالؒ میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں“۔

مشفق خواجہ مرحوم و مغفور نے ہاشمی صاحب کی اقبال شناسی کو یوں داد دی”حقیقت یہ ہے کہ اقبالؒ پر اب آپ درجہءاستناد حاصل کر چکے ہیں“۔ اقبالیات پر تحقیق کی وادیاں قطع کرتے ہوئے ہاشمی صاحب کی سینکڑوں سکالرز سے خط کتابت رہی، ان میں علامہ اقبال کے کلام کے مختلف ایڈیشنوں کے متون میں جو فرق تھا، وہ زیر بحث آیا۔ اقبال پر لکھی گئی تنقیدی اور تحقیقی کتب کی تلاش کا مسئلہ درپیش تھا۔ بعض ماہرین اقبالیات کے تحقیقی نتائج پر تردد تھا وغیرہ وغیرہ۔ ایک عرصے سے یہ مراسلت ان کے پاس محفوظ تھی۔ اس میں بعض خطوط کے مندرجات تحقیقی نقطہءنظر سے بہت قدر و قیمت کے حامل تھے۔ ان سے علمی برداری کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر خالد ندیم نے 42 ماہرین اقبالیات کے ایک سو خطوط کو ”اقبالیاتی مکاتیب“ کے عنوان سے مرتب کر کے الفتح پبلی کیشنز راولپنڈی کی طرف سے شائع کر دیا ہے۔ اس علمی کاوش کا افادی پہلو یہ ہے کہ خطوط نگاران کے تعارفی نوٹ بھی لکھے ہیں اور بعض مقامات پر توضیحات قلمبند کی ہیں۔ اشاریہ بھی بڑے سلیقے سے ترتیب دیا ہے۔ خالص علمی اور تحقیقی باتوں کے علاوہ کہیں کہیں مکتوب نگاران نے ذاتی احوال بھی کہہ لیے ہیں، مثلاً ہاشمی صاحب نے جگن ناتھ آزاد کو اخبار کا ایک تراشا بھیجا، جس میں آزاد کی تصویر چھپی تھی۔ آزاد نے جواب میں لکھا:”اپنی اتنی خوبصورت تصویر تو مَیں نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔ تراشا کس اخبار سے ہے؟ اس کا نام آپ نے نہیں لکھا۔ (جنہوں نے مجھے نہیں دیکھا اور یہ تصویر دیکھی ہے، وہ مجھے دیکھ کے کتنا مایوس ہوں گے“۔

ایک خط میںممتاز حسن مرحوم کے بارے میں مشفق خواجہ کے تاثرات زمانے کی قدر ناشناسی کا ایک عبرت انگیز منظر سامنے لاتے ہیں۔ لکھتے ہیں: مَیں نے اپنی زندگی میں ایسا عظیم انسان نہیں دیکھا۔ ہر شخص کی مدد پر آمادہ رہتے تھے۔ ادیبوں کو تو انہوں نے اتنے فائدے پہنچائے اور ایسے ایسے طریقوں سے کہ آپ سنیں تو حیران ہوں۔ پاکستان کے کئی اہم علمی اداروں کے وہ بانی تھے۔ شاید ہی کوئی ایسا ادارہ ہو، جس کی انہوں نے مدد نہ کی ہو، جب وہ برسراقتدار تھے، لوگ ان کی خوشامد کرتے تھے، لیکن جب وہ ریٹائر ہوگئے تو لوگ ان سے یوں کنارہ کش ہوگئے، جیسے ان کا وجود اور عدم وجود برابر ہو۔ مرحوم کو اس صورت حال کا شدید احساس تھا اور مرنے کے بعد تو انہیں بالکل ہی بھلا دیا گیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ احمد دین والی کتاب (اقبال) مَیں نے، انہیں کے نام منسوب کی تھی اور عزیز حامد مدنی کا یہ شعر لکھا تھا:

وہ لوگ، جن سے تیری بزم میں تھے ہنگامے

گئے تو کیا تری بزمِ خیال سے بھی گئے

بعض انکشافات بہت دلچسپ ہیں، مثلاً ایک خط میں معروف ماہر اقبالیات بی اے ڈار نے سید عبدالواحد معینی کی سرقہ کی کارروائیوں کا ذکر کیا ہے۔ ہاشمی صاحب نے ڈار کی کتاب ”انوار اقبال“ میں ماخذات کی کمی پر اعتراض کیا تھا تو جواب میں ڈار صاحب مرحوم نے لکھا:

”جہاں تک ماخذات کی کمی کا معاملہ ہے، اس کی ایک خاص وجہ تھی۔ سید عبدالواحد جیسے لوگ، دوسرے لوگوں کی محنت پر ڈاکہ ڈالنے کے عادی ہیں اور پھر اس کو تسلیم کرنے سے بھی منکر ہیں۔ اگر آپ بالفرض ”انقلاب“(روزنامہ) سے کوئی چیز بڑی محنت کے بعد معلوم کرکے شائع کرا دیں تو کچھ عرصے کے بعد یہی چیز ”انقلاب“ کے حوالے سے وہ خود کسی مجموعے میں شامل کرکے تمام سرخ روئی اپنے لئے مخصوص کرلیتے ہیں۔ ان کی اس حرکت سے بچنے کیلئے میں نے عملاً ان تمام ماخذات کو آخری مسودے سے حذف کر دیا تھا جہاں تک مجھے یاد ہے، وہ ماخذات مسودات میں موجود ہیں، مگر مطبوعہ کتاب میں موجود نہیں۔ اب اگر کوئی شخص اس میں سے کوئی نقل کرے گا تو لازماً اسے اس کتاب کا حوالہ دینا ہوگا۔ معاف کیجئے، مجبوری کے باعث مجھے ایسا قدم اٹھانا پڑا، جو ایسے عام حالات میں مناسب نہیں تھا جس محنت سے یہ تمام مواد جمع ہوا تھا، وہ میرا خدا ہی جانتا ہے۔“

ڈاکٹر معین الدین عقیل کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ تنگ آکر بالآخر ڈار صاحب نے سید عبدالواحد معینی پر انگریزی میں ایک تعارفی کتابچہ، لکھا، لیکن اپنے نام کی جگہ قلمی نام ”خواجہ بدر“ دے دیا۔ اسے چھاپہ اور مفت تقسیم کیا۔

اردو ادیبوں میں یہ روایت عام رہی ہے کہ وہ فرضی ناموں سے اپنے معاصرین سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ آج بھی ماشاءاللہ کئی اہل قلم اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ ان کو عمرِ نوح عطا کرے، غنیمت ہے کچھ رونق لگائے رکھتے ہیں۔

مولانا مودودیؒ کے بارے میں دو ایک خطوط قابل ذکر ہیں:

انٹر کالجیٹ مسلم برادر ہُڈ تنظیم کی طرف سے 9 جنوری 1938ءکو مینار ڈہال (موجودہ محمود شیرانی ہال) اورینٹئل کالج میں یوم اقبال منایا گیا جس میں پڑھے گئے مقالات کو قومی کتب خانہ لاہور نے اسی سال شائع کیا۔ اس مجموعے کا مقدمہ ممتاز صحافی م ش نے لکھا تھا۔ ہاشمی صاحب نے اس کی تصدیق کے لئے م ش کو خط لکھا۔ جواب میں انہوں نے لکھا: ” مقالات یوم اقبال“ کا مقدمہ مَیں نے لکھا تھا۔ مَیں ان دنوں انٹر کالجیٹ برادر ہڈ کا پریذیڈنٹ تھا۔ حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے نواب بہاولپور کی زیر صدارت جہاد فی سبیل اللہ پر مقالہ پڑھا تھا۔ اس میں سر سکندر حیات مرحوم بھی شامل ہوئے تھے“۔

مولانا مودودیؒ کی علامہ اقبالؒ سے ملاقات اور مراسلت کو بعض لوگ خلاف واقعہ سمجھتے ہیں، لیکن اب تک اس سلسلے میں کئی شواہد سامنے آچکے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں مولانا کا رفیع الدین ہاشمی کے نام ایک ایسا ہی خط شامل ہے، مولانا لکھتے ہیں:

”1937ءمیں جب علامہ اقبال مرحوم سے ملاقات ہوئی تھی‘ تفہیم القرآن لکھنے کا اس وقت تک کوئی خیال میرے ذہن میں نہیں تھا۔ علامہ مرحوم سے اُس وقت زیادہ تر فقہ اسلامی کی تدوین جدید پر ہی بات ہوئی تھی۔ تفہیم القرآن لکھنے کا ارادہ میرے دل میں 1941ءمیں پیدا ہوا تھا“۔

”اقبالیاتی مکاتیب “ میںتحقیقی مسائل و معاملات پر ٹھیٹھ باتیں بہت ہیں اور ان میں ریسرچرز کے لئے بہت رہنمائی بھی موجود ہے۔ آخر میں چند الفاظ میں فاضل مرتب ڈاکٹر خالدندیم کا بھی تعارف پیش کردوں۔ وہ سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ البتہ اقبالیات کے حوالے سے یہ ان کی پہلی کاوش ہے اور قابل تحسین ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ! ٭

مزید : کالم