کیا جمہوری عمل میں پیسے کا کھیل ختم کیا جاسکتا ہے؟

کیا جمہوری عمل میں پیسے کا کھیل ختم کیا جاسکتا ہے؟
کیا جمہوری عمل میں پیسے کا کھیل ختم کیا جاسکتا ہے؟

  

وطن عزیز پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی جمہوری جدوجہد کا نتیجہ ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو اس جمہوری کردار سے قطعی طور پر محروم کردیا گیاہے، جمہوری عمل کی جگہ روپے پیسے نے لے لی ہے اور یہ مان لیا گیا ہے کہ پیسے سے سب کچھ خریدا جاسکتا ہے حتیٰ کہ عوامی نمائندگی بھی! اب سیاست اور وزارت صرف پیسے کا کھیل بن کر رہ گیا ہے۔ اہلیت، صلاحیت اور عوامی خدمت نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔ بس صرف پیسہ ہی پیسہ.... ہر جگہ ”مشکل کشا اور کارساز“ یہی پیسہ بنا دیا گیاہے!

اگر دورغلامی میں بھی صرف پیسہ ہی کارساز ہوتا تو نہ برصغیر کبھی آزاد ہوتا اور نہ پاکستان بن سکتا ....پاکستان تو کبھی نہ بن سکتا، انگریز اور ہندہ بنیا برہمن سب کچھ خریدتے رہتے، کم سے کم مسلمان تو انگریز اور ہندو کی دہری غلامی سے کبھی آزاد نہ ہوپاتا، مسلمانوں کے پاس بے لوث اور مخلص لیڈر نہ ہوتا تو 1946ءمیں مسلم لیگ کبھی نہ جیت سکتی، مگر جس مسلم لیگ نے جمہورمسلمانوں کے ووٹ سے پاکستان حاصل کیا تھا،اسی نے جمہور کا گلا کاٹ دیا، جس یونینسٹ وڈیرہ شاہی اور جاگیرداری نے 1938ءمیں مسلم لیگ کو ہائی جیک کیا تھا، دس سال بعد1948ءمیں قائداعظمؒ کی وفات کے بعد اسی وڈیرہ شاہی نے پاکستان کو ہائی جیک کرلیا، پھر دس سال بعد 1958ءمیں نئے ہائی جیکر آگئے اور یہ جرنیل شاہی سے آئے تھے، اس وقت سے آج تک ہمارا وطن مسلسل ہائی جیک ہو رہا ہے!

 چونکہ حکومت طاقت اور پیسے سے حاصل ہوتی رہی ہے۔ اس لئے ان طاقت والوں اور پیسے والوں نے عوام کے جمہوری کردار کو سیاست اور حکومت سے باہر نکال کر اسے بھی بکاو¿ مال بنادیا ہے۔ یوں حرام خوری اور کرپشن نے ملک اور قوم کو لوٹ کر بے جان بنادیا ہے۔ اس بے جان قوم کو جب تک حرام خوری اور کرپشن سے پاک نہیں کیا جاتا، اس وقت تک اس میں جان نہیں پڑ سکتی۔ ظاہر ہے مردہ لاشے تو انقلاب نہیں لاسکتے۔ یہ کام اب مخلص قومی قیادت اور آزاد الیکشن کمیشن کا ہے کہ وہ اس جمہوری عمل کو پیسے کے کھیل سے چھٹکارا دلائیں۔ یہ کام دردمند سول سوسائٹی کا بھی ہے کہ ہر ایک اپنی جگہ کوشش کرے۔ زبان وقلم کے ذریعے یا حکومتی اختیارسے! اس کے بغیر سب کچھ بے اثر ہوگا، کیونکہ جو لوگ پیسے کے کھیل سے الیکشن میں کامیابی خریدتے ہیں، وہ اس کی سوگنا نہیں، بلکہ ہزار گنا ملک اور قوم کے خون سے قیمت وصول کرتے ہیں۔ یہ کام مشکل سہی، مگر نا ممکن نہیں! ملک اور قوم کو بچانا بہت بڑی نیکی ہے۔ کم سے کم آواز اٹھا کر اس کارخیر کا آغاز تو کر دینا چاہیے، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی!!

سیاست اور حکومت عوامی خدمت اور دیانتداری کے ساتھ ذمہ داری نبھانے کے بوجھ کے بجائے محض پیسے کا کھیل بن چکا ہے، اس لئے ہر ہوس پرست حرام کی کمائی سے اسے خریدنے چل پڑا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آزاد امیدوار تو رہے ایک طرف، اب تو سیاسی پارٹیوں کا بھی حساب نہیں رہا۔ الیکشن کمیشن والوں کے لئے ہر شخص اور ہر گروہ کو الگ سے انتخابی نشان الاٹ کرنا بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ ہر آدمی وزیراعظم یا صدر نہیں تو کم سے کم وزیر تو بن جانے، بلکہ رکن بن جانے کی ہوس لئے بیٹھا ہے۔ مرحوم ضمیر جعفری نے تو عرصہ قبل ہی کہہ دیا تھاکہ ”کمیٹی کا جو ممبر ہوگیا، وہ بھی تقریباً منسٹر ہوگیا“۔ہوس پرستی کی اس آگ کو ٹھنڈا کرنا ضرروی ہے! پیسے کے اس کھیل نے پاکستان میں جمہوریت کو پنپنے ہی نہیں دیا۔

ہوس پرستی کی اس آگ میں جلنے اور ملک وقوم کو جلانے والی ”تین شاہیاں“ ہیں، ایک تو انگریز کے پالے ہوئے وڈیرہ شاہی کے خاندان ہیں، جنہیں اپنی قوم سے غداری اور سامراج کے ٹوڈی بننے کے صلے میں انگریز نے زمینیں،جاگیروں کی شکل میں بے دریغ اور بے حساب طریقے سے بخش دیں، جو دراصل مسلمان ریاست کی ملکیت تھی اور اسے ہندوستانی قوم....مسلم وغیر مسلم.... کی ملکیت بننا تھا، دوسرا گروہ نوکر شاہی کا ہے، یہ بھی غیر ملکی سامراجیوں کا پروردہ ہے اور اس کا فرعونی مزاج آج انگریز کی نوکر شاہی سے بھی زیادہ بگڑ گیاہے۔ قائداعظمؒ کی بے وقت وفات کے باعث وڈیرہ شاہی اور نوکر شاہی نے ملک وقوم کے وسائل لوٹنے کے لئے ایکا کرلیا، جسے دیکھ کر جرنیل شاہی کے منہ سے بھی رال ٹپکنے لگی اور پہلی دونوں شاہیوں کو مٹھی میں کر لیا۔

 بھارت کے پہلے وزیراعظم نے تو وڈیرہ شاہی کو ہمیشہ کے لئے دفن کرکے نوکر شاہی کو بھی لگام دے دی تھی، جسے دیکھ کر وہاں جرنیل شاہی کی نہ رال ٹپکی اور نہ جرا¿ت ہوسکی، مگر ہم ان تین شاہیوں کے غلام بن گئے اور یہ نام کی شاہیاں سامراجیوں کی غلام ہیں، اس لئے ہم غلاموں کے غلام ہیں، جنہیں ان سب نے 65سال سے ہائی جیک کررکھا ہے، غلاموں کی اس غلامی کی زندگی سے اب نجات پانا کچھ مشکل نہیں، بلکہ نجات کا وقت بھی آگیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں اگر اٹھ کھڑے ہوں اورا پنے مخلص اور محسن لیڈروں کو پہچان کر ان کا ساتھ دیں تو یہ زمین اقبال کے الفاظ میں بڑی باصلاحیت اور زرخیزمٹی ہے، جسے صرف لیڈر کی ضرورت ہے جو نمی اور سیرابی کا کام کر سکے! خوش قسمتی سے اس وقت آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن اور محب وطن جرنیل بھی حفاظت کے لئے موجودہیں اس لئے چیئرمین الیکشن کمیشن سے گذارش ہے :

(1)جس پارٹی نے داخلی طور پر جمہوری انتخابات سے خود کو منظم نہیں کیا ، وہ ملک میں جمہوریت چلانے کی اہل نہیں ہوسکتی ،اس لئے ایسی ہر جماعت کو کم سے کم آنے والے انتخابات میں حصہ لینے سے محروم کردینا چاہیے۔

(2)پیسے کا کھیل ختم کرنے کے لئے ہر امیدوار اور جماعت کو محدود رقم خرچ کرنے کا پابند کیا جائے۔ محدود رقم سے زیادہ پیسہ خرچ کرنا جرم قرار دیا جائے اورمرتکب ہونے والے کو مالی اور جسمانی سزا کامستوجب قرار دیا جائے۔

(3)جو شخص یاپارٹی کم سے کم چالیس فی صد عوام کا ووٹ حاصل کر لے، اسے حکومت پاکستان کے عوامی خزانے سے انتخابی اخراجات واپس کر دئے جائیں۔

(4)ترقیاتی فنڈ کی شکل میں بھاری رقوم ارکان اسمبلی کو نہ دی جائیں، ارکان کو خریدنے کا یہ جال ایک جرنیل نے بچھایا تھا، جو ایک قسم کی رشوت تھی۔ ان ترقیاتی اخراجات کا دس فی صد بھی جائز طور پر خرچ نہیں ہوتا ، نوے فی صد رقم خورد برد ہوجاتی ہے۔ برائے نام ترقی بھی نہیں ہوتی، اس لئے یہ رشوت ستانی کا خوفناک دروازہ بندکردیا جائے۔

(5)ووٹروں کے آزادانہ فضا میں ووٹ ڈالنے کو یقینی بنایا جائے، ہر قسم کی سہولت مہیا کرنے کے علاوہ دھونس اور دھاندلی سے تحفظ دیاجائے۔

یہ کام کچھ مشکل نہیں، جرمنی سمیت دنیا بھر کے بہت سے ملکوں میں ان باتوں پر عمل ہورہا ہے ، ہم بھی آسانی سے ان پر عمل کرسکتے ہیں۔  ٭

مزید : کالم